پاکستان ہاکی فیڈریشن مالی مشکلات کی لپیٹ میں، قومی ٹیم کے بڑے ایونٹس پر سوالیہ نشان
قومی کھیل: پاکستان ہاکی فیڈریشن مالی مشکلات کا شکار ہے۔ حکومتی معاونت کے باوجود پاکستان ہاکی فیڈریشن (پی ایچ ایف) کھلاڑیوں کے الاؤنسز اور بڑے بین الاقوامی ایونٹس میں شرکت کے اخراجات پورے کرنے میں ناکام دکھائی دے رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق فیڈریشن اس وقت نہ صرف روزمرہ اخراجات کے لیے پریشان ہے بلکہ قومی ٹیم کے مستقبل اور بڑے ٹورنامنٹس میں شرکت بھی خطرے کی زد میں ہے۔
کھلاڑیوں کے الاؤنسز تاخیر کا شکار
اطلاعات کے مطابق فیڈریشن کھلاڑیوں کو ان کے ڈیلی الاؤنس بھی ادا کرنے سے قاصر ہے۔ کئی کھلاڑیوں نے اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب بنیادی ضروریات پوری نہ ہوں تو بین الاقوامی سطح پر بہترین کارکردگی دکھانا انتہائی مشکل ہوجاتا ہے۔ قومی ٹیم کے کھلاڑیوں کا ماننا ہے کہ وہ ملک کے لیے کھیلنے کو اعزاز سمجھتے ہیں، لیکن معاشی مسائل ان کی ذہنی یکسوئی کو متاثر کرتے ہیں۔
پرو لیگ اور دیگر ایونٹس کے اخراجات
ذرائع کے مطابق پاکستان ہاکی فیڈریشن کو صرف پرو لیگ کے ایک ایڈیشن کے انعقاد کے لیے مزید 10 کروڑ روپے درکار ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ آئندہ برس ٹیم نے ورلڈکپ کوالیفائر اور ایشین چیمپئنز ٹرافی جیسے اہم ایونٹس میں بھی شرکت کرنا ہے۔ ان ایونٹس میں شمولیت کے بغیر پاکستان ہاکی ٹیم کا بین الاقوامی رینکنگ میں برقرار رہنا بھی مشکل ہوگا۔
ورلڈکپ اور اولمپکس کے خواب
ذرائع کے مطابق قومی ٹیم نے ایشین گیمز کے علاوہ ورلڈکپ اور اولمپک کوالیفائرز میں بھی شرکت کرنی ہے۔ اگر مالی وسائل بروقت میسر نہ آئے تو پاکستان ہاکی کے یہ بڑے خواب ادھورے رہ جائیں گے۔ صرف ان ایونٹس کے لیے فیڈریشن کو 30 سے 35 کروڑ روپے ایک سال میں درکار ہیں، جب کہ مجموعی طور پر پی ایچ ایف کو ایک سال میں کم از کم 45 کروڑ روپے کی ضرورت ہے۔
حکومتی معاونت ناکافی
اگرچہ حکومت کی جانب سے فیڈریشن کی مالی معاونت کے اعلانات وقتاً فوقتاً سامنے آتے رہتے ہیں، لیکن عملی طور پر یہ مدد ناکافی ثابت ہو رہی ہے۔ فیڈریشن کے حکام کا کہنا ہے کہ جب تک فنڈز بروقت اور مستقل بنیادوں پر فراہم نہیں کیے جاتے، تب تک قومی کھیل کے مسائل حل نہیں ہوسکتے۔
سابق کھلاڑیوں کی تشویش
پاکستان کے سابق اولمپیئنز اور ہاکی اسٹارز نے اس صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان جس نے چار بار ہاکی ورلڈکپ جیتا اور تین بار اولمپک گولڈ اپنے نام کیا، آج مالی بحران کی وجہ سے چھوٹے چھوٹے ایونٹس میں بھی شرکت کے لائق نہیں رہا۔ ان کے مطابق اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو پاکستان ہاکی مزید زوال کا شکار ہوسکتی ہے۔
اسپانسرز کی کمی
ماہرین کے مطابق پاکستان ہاکی فیڈریشن مالی مشکلات کی ایک بڑی وجہ اسپانسرز کی کمی بھی ہے۔ آج کی جدید کھیلوں کی دنیا میں اسپانسرشپ کسی بھی کھیل کی بقا کے لیے ناگزیر ہے، لیکن پاکستان میں ہاکی کو وہ کارپوریٹ سپورٹ حاصل نہیں جو کرکٹ کو میسر ہے۔ اس وجہ سے فیڈریشن مکمل طور پر حکومتی امداد پر انحصار کرتی ہے، جو کبھی بروقت اور کبھی ناکافی ثابت ہوتی ہے۔
مستقبل کا لائحہ عمل
ذرائع کے مطابق فیڈریشن نے فنڈز کی کمی کو پورا کرنے کے لیے اسپانسرز اور مختلف اداروں سے رابطے تیز کر دیے ہیں، لیکن تاحال کوئی بڑی پیش رفت نہیں ہو سکی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر فیڈریشن فوری طور پر کم از کم 45 کروڑ روپے کا بندوبست نہ کر سکی تو قومی ٹیم کی بین الاقوامی سرگرمیاں بری طرح متاثر ہوسکتی ہیں۔
پاکستان ہاکی فیڈریشن مالی مشکلات نے قومی کھیل کے مستقبل پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ کھلاڑیوں کے الاؤنسز سے لے کر بڑے ایونٹس میں شرکت تک ہر چیز غیر یقینی صورت حال سے دوچار ہے۔ اگر حکومت اور نجی شعبہ فوری طور پر ہاکی کی مدد کے لیے آگے نہ آئے تو پاکستان ہاکی اپنی عظمت رفتہ کی بحالی کے بجائے مزید زوال کی طرف بڑھ سکتی ہے۔
