رواں سال کا پاکستان میں پہلا بلڈ مون ، شہری آسمانی منظر کے منتظر
لاہور :پاکستان سمیت دنیا بھر کے کروڑوں افراد رواں سال پہلی مرتبہ ایک نایاب اور دلکش فلکیاتی منظر ’’بلڈ مون‘‘ یعنی خونی چاند کا مشاہدہ کریں گے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق یہ شاندار مظاہرہ 7 اور 8 ستمبر کی درمیانی رات ہوگا جب زمین، سورج اور چاند ایک سیدھی لائن میں آجائیں گے اور چاند گرہن کی وجہ سے سرخ نظر آئے گا۔
پاکستان میں پہلا بلڈ مون کب اور کیسے نظر آئے گا؟
محکمہ موسمیات کی تفصیلات کے مطابق:
ابتداء: 7 ستمبر رات 8 بجکر 28 منٹ
جزوی چاند گرہن کا آغاز: 7 ستمبر رات 9 بجکر 27 منٹ
عروج (Peak): رات 11 بجکر 12 منٹ
اختتام: 8 ستمبر رات 1 بجکر 55 منٹ
کل دورانیہ: تقریباً 5 گھنٹے 27 منٹ
یہ مظہر پاکستان کے تمام بڑے شہروں میں دیکھا جاسکے گا، تاہم موسم صاف ہونے کی شرط ہے۔
چاند کیوں سرخ ہوجاتا ہے؟
سائنسدانوں کے مطابق جب زمین سورج اور چاند کے درمیان آجاتی ہے تو سورج کی روشنی براہ راست چاند تک نہیں پہنچ پاتی۔ صرف زمین کے ماحول سے گزرنے والی سرخ شعاعیں چاند تک پہنچتی ہیں، جس کے باعث چاند کا رنگ سرخی مائل دکھائی دیتا ہے۔ اسی لیے اسے ’’بلڈ مون‘‘ کہا جاتا ہے۔
پاکستان میں پہلا بلڈ مون اور عوامی دلچسپی
ہر سال کی طرح اس بار بھی فلکیاتی مظاہرہ دیکھنے کے لیے لوگ بڑی تعداد میں چھتوں اور کھلی جگہوں پر جمع ہوں گے۔ کراچی، لاہور، اسلام آباد، پشاور، کوئٹہ اور گلگت بلتستان میں شوقین افراد دوربین اور ٹیلی اسکوپ کے ذریعے اس نظارے کو محفوظ کریں گے۔
یونیورسٹیوں کے فلکیات کے شعبے بھی اس موقع پر عوام کے لیے خصوصی سیشنز کا اہتمام کریں گے تاکہ طلبہ اور شہری قریب سے اس مظہر کا مطالعہ کرسکیں۔
عالمی سطح پر نظارہ
یہ بلڈ مون صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ دنیا کے مختلف خطوں میں بھی دیکھا جاسکے گا جن میں شامل ہیں:
ایشیا (بھارت، بنگلادیش، چین، جاپان)
مشرق وسطیٰ (سعودی عرب، یو اے ای، ترکی)
یورپ
افریقہ
آسٹریلیا
بحرالکاہل کے جزائر
مغربی شمالی امریکا
مشرقی جنوبی امریکا
پالتو کتے پر ٹیٹو بنانے والا چینی شہری شدید تنقید کی زد میں
مذہبی و ثقافتی پہلو
اسلامی تعلیمات کے مطابق چاند اور سورج گرہن اللہ تعالیٰ کی نشانیاں ہیں۔ ان مواقع پر نمازِ کسوف و خسوف (گرہن کی نماز) پڑھنے کی تلقین کی گئی ہے۔ علماء کرام نے عوام کو تاکید کی ہے کہ وہ اس موقع پر عبادات اور دعاؤں کا اہتمام کریں اور توہمات یا بے بنیاد باتوں سے گریز کریں۔
تاریخی طور پر دنیا کی مختلف تہذیبوں میں بھی بلڈ مون کو اہم سمجھا گیا ہے۔ کہیں اسے نیک شگون تو کہیں بدشگونی قرار دیا گیا۔ تاہم جدید سائنس نے واضح کر دیا ہے کہ یہ صرف ایک قدرتی فلکیاتی عمل ہے جس کا انسانی زندگی یا مستقبل سے کوئی تعلق نہیں۔
ماہرینِ فلکیات کی آراء
پاکستان کے معروف ماہرِ فلکیات پروفیسر ڈاکٹر سلیم حیدر کا کہنا ہے کہ:
"پاکستان میں پہلا بلڈ مون عوام کے لیے فلکیاتی علم کو سمجھنے کا بہترین موقع ہے۔ یہ مظہر ہمیں زمین کے ماحول اور سورج کی روشنی کے پراسیس کو قریب سے جانچنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ طلبہ کو چاہیے کہ وہ اس موقع کو تحقیق اور مشاہدے کے لیے استعمال کریں۔”
کیمرہ شوقین اور سیاحتی پہلو
پاکستان میں پہلا بلڈ مون کو فوٹوگرافی کے شوقین اس رات کو یادگار بنانے کے لیے خصوصی کیمرے اور لینز تیار رکھیں گے۔ خاص طور پر ناران، کاغان، مری، ہنزہ اور سوات جیسے شمالی علاقوں میں موسم صاف ہونے کی صورت میں یہ منظر مزید شاندار دکھائی دے گا۔
عوام کے لیے احتیاطی تدابیر
گرہن کو براہِ راست دوربین یا طاقتور لینز کے ذریعے نہ دیکھیں بلکہ فلٹر استعمال کریں۔
طویل وقت تک بغیر فلٹر دیکھنے سے آنکھوں کو نقصان ہوسکتا ہے۔
والدین اپنے بچوں کو محفوظ طریقے سے مشاہدہ کروائیں۔
رواں سال کا پاکستان میں پہلا بلڈ مون نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا کے لیے ایک یادگار اور شاندار فلکیاتی مظہر ثابت ہوگا۔ یہ منظر جہاں قدرت کے حسن کی جھلک دکھائے گا وہیں انسانی علم اور تحقیق کی نئی راہیں بھی کھولے گا۔
🌕✨ September brings two unforgettable sky events! ✨🌑
On September 7, we’ll witness a breathtaking Blood Moon Eclipse.
The Moon will pass into Earth’s shadow, glowing deep red — a result of sunlight bending through Earth’s atmosphere. This rare phenomenon has inspired myths,… pic.twitter.com/6tUgYoVZmP
— Amazing Physics (@amazing_physics) August 24, 2025
READ MORE FAQs”
Q1: بلڈ مون کب نظر آئے گا؟
جواب: 7 اور 8 ستمبر 2025 کی درمیانی رات، تقریباً 8 بجکر 28 منٹ سے شروع ہوگا اور 1 بجکر 55 منٹ پر اختتام پذیر ہوگا۔
Q2: بلڈ مون کیوں سرخ دکھائی دیتا ہے؟
جواب: زمین سورج اور چاند کے درمیان آنے کی وجہ سے صرف سرخ شعاعیں چاند تک پہنچتی ہیں، جس سے چاند کا رنگ سرخی مائل دکھائی دیتا ہے۔
Q3: کیا پاکستان کے تمام شہروں میں بلڈ مون دیکھا جا سکتا ہے؟
جواب: ہاں، اگر موسم صاف ہو تو کراچی، لاہور، اسلام آباد، پشاور، کوئٹہ اور شمالی علاقوں میں یہ مظہر دیکھا جا سکتا ہے۔
Q4: مشاہدے کے دوران احتیاط کیا ضروری ہے؟
جواب: دوربین یا طاقتور لینز استعمال کرتے وقت فلٹر کا استعمال کریں، اور بچوں کو محفوظ طریقے سے مشاہدہ کروائیں۔