لکی مروت سیمنٹ فیکٹری کی بس پر بم دھماکا، ایک کارکن جاں بحق، دو خواتین سمیت 9 افراد زخمی

لکی مروت سیمنٹ فیکٹری کی بس پر بم دھماکا

لکی مروت کے علاقے نواردہ خیل میں سیمنٹ فیکٹری کے کارکنوں کو لے جانے والی بس پر بم دھماکے سے ایک شخص جاں بحق جبکہ دو خواتین سمیت 9 افراد زخمی ہوگئے۔ پولیس کے مطابق حملہ فتنہ الخوارج سے تعلق رکھنے والے دہشت گردوں نے کیا۔

لکی مروت اور بنوں میں دہشت گرد حملے، ٹریفک پولیس کے تین اہلکار سمیت چار پولیس اہلکار شہید

لکی مروت اور بنوں میں دہشت گرد حملے ، چار پولیس اہلکار شہید

خیبرپختونخوا کے اضلاع لکی مروت اور بنوں میں دہشت گردی کے دو واقعات میں ٹریفک پولیس کے تین اہلکار اور ایک پولیس کانسٹیبل شہید ہو گئے۔ لکی مروت کے علاقے سرائے نورنگ میں ڈیوٹی پر مامور اہلکاروں پر موٹر سائیکل سوار دہشت گردوں نے فائرنگ کی، جبکہ بنوں میں کانسٹیبل کو گھر سے ڈیوٹی جاتے ہوئے نشانہ بنایا گیا۔ پولیس نے دونوں واقعات کے بعد سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔

قومی یکجہتی و سلامتی کو نقصان پہنچانے کی کسی کو اجازت نہیں دی جائے گی،273ویں کور کمانڈرز کانفرنس میں دوٹوک اعلان

فیلڈ مارشل عاصم منیر کے زیر صدارت 273ویں کور کمانڈرز کانفرنس قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں

کور کمانڈرز کانفرنس میں عسکری قیادت نے قومی یکجہتی، سلامتی اور استحکام کے تحفظ کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے دہشت گردی، جرائم اور سیاسی مفادات کے گٹھ جوڑ کو مسترد کر دیا۔

پاکستان کا اقوامِ متحدہ میں انتباہ: افغان سرزمین سے جنم لینے والی دہشت گردی سب سے بڑا خطرہ قرار

پاکستان کا اقوامِ متحدہ میں انتباہ : افغان دہشت گردی سب سے بڑا خطرہ

پاکستان نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کو خبردار کیا ہے کہ افغانستان کی سرزمین سے جنم لینے والی دہشت گردی پاکستان کی قومی سلامتی، خود مختاری اور خطے کے امن کے لیے سب سے بڑا خطرہ بن چکی ہے۔ اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے کہا کہ افغان سرزمین دہشت گرد گروہوں کی محفوظ پناہ گاہ بن چکی ہے اور 2022 سے اب تک افغانستان سے ہونے والے حملوں میں پاکستانی شہریوں اور سیکیورٹی فورسز کی 1200 سے زائد جانیں ضائع ہو چکی ہیں۔

ڈیرہ اسماعیل خان میں پولیس موبائل پر حملہ، 3 اہلکار شہید

ڈیرہ اسماعیل خان میں پولیس موبائل پر حملہ، 3 اہلکار شہید

خیبر پختونخوا کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں دہشت گردی کا افسوسناک واقعہ پیش آیا جہاں پنیالہ پولیس اسٹیشن کی حدود میں پولیس موبائل کو دھماکے اور فائرنگ کا نشانہ بنایا گیا۔ اس بزدلانہ حملے کے نتیجے میں اے ایس آئی، ایک کانسٹیبل اور ڈرائیور سمیت 3 پولیس اہلکار شہید ہوگئے، جبکہ ایک کانسٹیبل معجزانہ طور پر محفوظ رہا۔ واقعے کے فوراً بعد ڈی ایس پی پنیالہ اور ایس ایچ او موقع پر پہنچے اور علاقے کی ناکہ بندی کر کے سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا۔

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]