
ڈاکٹر ماہ نور کی حالت خطرے سے باہر، میجر پلاسٹک سرجری کا امکان
تیزاب گردی کا شکار ڈاکٹر ماہ نور کی حالت خطرے سے باہر بتائی جا رہی ہے، تاہم چہرے پر گہرے زخموں کے باعث آئندہ چند گھنٹوں میں پلاسٹک سرجری کیے جانے کا امکان ہے۔

تیزاب گردی کا شکار ڈاکٹر ماہ نور کی حالت خطرے سے باہر بتائی جا رہی ہے، تاہم چہرے پر گہرے زخموں کے باعث آئندہ چند گھنٹوں میں پلاسٹک سرجری کیے جانے کا امکان ہے۔

ڈپٹی کمشنر چکوال سارہ حیات گوندل نے روزنامہ رئیس الاخبار سے خصوصی گفتگو میں کہا کہ فیلڈ بیسڈ گورننس، عوامی مسائل کا فوری حل، غیر قانونی تعمیرات کا خاتمہ، صحت و تعلیم کی بہتری اور بلدیاتی سہولیات کی مضبوطی ان کی اولین ترجیحات میں شامل ہیں۔

یوں لگتا ہے کہ وقت نے ایک بار پھر تاریخ کے پرانے اوراق کو پلٹ کر ایک نیا باب لکھ دیا ہے۔ وہی پاکستان، جو کبھی سرد جنگ میں امریکا کا منظورِ نظر تھا، آج ایک نئے انداز میں عالمی بساط پر اُبھرتا دکھائی دیتا ہے۔ جنرل عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان صرف عسکری ہی نہیں بلکہ سیاسی و سفارتی محاذ پر بھی مرکزی کردار بن رہا ہے۔ سعودی عرب، ترکیہ، ایران، چین اور روس کے ساتھ بڑھتے تعلقات اور گریٹر اسرائیل کے منصوبے کے مقابل ایک نیا اتحاد دنیا کے توازن کو بدلنے کے قریب ہے۔ یہی وہ وقت ہے جب پاکستان تاریخ کا تماشائی نہیں بلکہ اس کا اصل کردار بن چکا ہے۔

انسانی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ جب معاشرے معصوم بچیوں کی حرمت پامال کریں اور فحاشی کو تہذیب سمجھیں تو وہ تباہی و بربادی کا شکار ہوتے ہیں۔ قرآن، تاریخ اور قدرتی آفات انسان کو بار بار خبردار کرتی ہیں کہ بنتِ حوا کی عزت کی حفاظت کریں ورنہ عبرت ناک انجام مقدر ہوگا۔

تاریخ انسانی گواہ ہے کہ جب انسان رب کے حکم سے منہ موڑتا ہے تو پانی کے عذاب کی شکل میں اس کی کمزوری آشکار ہوتی ہے۔ طوفانِ نوحؑ سے لے کر بنی اسرائیل کے عذاب، یونانی داستانوں، چین و بنگال کے سیلاب اور آج کے خیبرپختونخواہ کی وادیوں تک ایک ہی صدا گونجتی ہے: ’’اے انسان! تیری تدابیر کمزور، رب کے حکم کے آگے تو بے بس ہے۔‘‘ یہ لمحہ ہے عاجزی، اجتماعی توبہ اور عملی منصوبہ بندی کا۔

اگر تم حق پر ہو تو میدان میں آؤ! عمران خان کے بیٹوں کے احتجاج سے انکار پر سوالات۔ کیا یہ مزاحمتی تحریک ہے یا محض سیاسی اسٹریٹجی؟ تاریخ، مذہب، اور قومی تحریکوں سے عبرت کا پیغام۔

ایک معصوم لڑکی، قرآن کے ساتھ، قبائلی عدالت کے سامنے۔ جرم؟ پسند کی شادی۔ سزا؟ موت۔ یہ تحریر پتھر کے دور سے جدید قبائلی درندگی تک انسانیت کے زوال کی تلخ کہانی ہے۔

تحریر : شاہنواز خان آج ایک تصویر نظر سے گزری۔۔ شہید رانی بے نظیر بھٹو کی جائے شہادت۔۔۔۔۔۔۔۔۔ روح گھائل، دل اداس اور سوچ اذیت سے دوچار ہوئی۔۔۔۔۔ راولپنڈی ۔۔۔وائے قسمت۔۔۔۔3وزرائے اعظم کو خاک و خون میں لوٹا دینے والا شہر۔۔۔۔۔۔۔2وزرائے اعظم کی مقتل گاہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔لیاقت باغکئی ایک وزرائے اعظم تخت

دہشتگردی کے بڑھتے ہوئے واقعات قومی سلامتی اور سالمیت کیلئے شدید خطرہ ہیں۔ معروضی حالات کا بغور غائر جائزہ لیا جائے تو صاف عیاں ہو گا کہ پاکستان بھارت کی حالیہ جنگ کے بعد سے تواتر کیساتھ دہشتگرد حملے ہوئے ہیں ۔ جن کے پیچھے بھارتی حمایت یافتہ گروپس فتنہ
| فجر | 03:14 AM |
| طلوع آفتاب | 04:58 AM |
| ظہر | 12:10 PM |
| عصر | 03:54 PM |
| مغرب | 07:21 PM |
| عشاء | 09:05 PM |