استنبول : پاکستان اور عرب وزرائے خارجہ کی غزہ میں پائیدار امن کے لیے مشترکہ اجلاس اور لائحہ عمل پر غور

نائب وزیرِاعظم و وزیرِخارجہ اسحاق ڈار سمیت عرب و اسلامی وزرائے خارجہ کا اجلاس ہوا، جس میں غزہ میں مستقل جنگ بندی، انسانی امداد، اور تعمیرِ نو کے اقدامات پر اتفاق کیا گیا۔ رہنماؤں نے اسرائیلی جارحیت کی مذمت کرتے ہوئے عالمی برادری سے فلسطینی عوام کی حمایت کے لیے مؤثر کردار ادا کرنے کی اپیل کی۔
غزہ اجلاس استنبول میں، پاکستان سمیت 8 مسلم ممالک کی شرکت غزہ جنگ بندی معاہدے پر غور

ترکیہ کے شہر استنبول میں غزہ اجلاس آج منعقد ہو رہا ہے جس میں پاکستان سمیت 8 مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ شریک ہیں۔ اجلاس میں غزہ جنگ بندی معاہدے، اسرائیلی جارحیت اور انسانی حقوق کی صورتحال پر غور کیا جا رہا ہے۔
اسرائیل کا مقبوضہ مغربی کنارے کے انضمام پر امریکا کی حمایت ختم ہو جائے گی،ڈونلڈ ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیل کو خبردار کیا ہے کہ اگر اس نے مقبوضہ مغربی کنارے کے انضمام کی کوشش کی تو امریکا اپنی حمایت ختم کر دے گا۔ ٹائم میگزین کو دیے گئے انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ “میں نے عرب ممالک سے وعدہ کیا ہے، ایسا نہیں ہو سکتا۔” ان کے بیان نے اسرائیلی سیاست میں ہلچل مچا دی ہے اور مشرق وسطیٰ میں نئی سفارتی تبدیلیوں کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ بیان امریکا کی مشرق وسطیٰ پالیسی میں ایک بڑی تبدیلی کا اشارہ ہو سکتا ہے۔
اسرائیل کے مغربی کنارے تک توسیعی عزائم پر پاکستان کی شدید مذمت: عالمی قانون اور فلسطینی حقوق کی کھلی خلاف ورزی

اسلام آباد — پاکستان نے اسرائیل کے مقبوضہ مغربی کنارے پر اپنی خودمختاری کے توسیعی عزائم کی شدید مذمت کی ہے۔ دفترِ خارجہ نے کہا ہے کہ یہ اقدام بین الاقوامی قانون، اقوامِ متحدہ کی قراردادوں اور فلسطینی عوام کے بنیادی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ اسرائیلی پارلیمان کی جانب سے مغربی کنارے کے انضمام سے متعلق بل کی ابتدائی منظوری پر ردِعمل دیتے ہوئے پاکستان نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسرائیل کو اس غیر قانونی عمل سے روکے۔ دفترِ خارجہ کے مطابق اسرائیلی اقدامات نہ صرف عالمی امن کو خطرے میں ڈال رہے ہیں بلکہ فلسطینی ریاست کے قیام کے امکانات کو بھی نقصان پہنچا رہے ہیں۔ پاکستان نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وہ فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت، آزادی اور انصاف کی جدوجہد میں ان کے ساتھ کھڑا رہے گا۔
اسرائیل کے غزہ میں فضائی حملے، مسلسل بمباری، امداد کا داخلہ روک دیا، 38 فلسطینی شہید

اسرائیلی فوج کے تازہ فضائی حملوں نے غزہ میں امن کی کوششوں کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
38 فلسطینی شہید، 143 زخمی، رفح کراسنگ بند، اقوام متحدہ کی تشویش —
جنگ بندی کا مستقبل غیر یقینی۔
غزہ امن معاہدہ کے تحت حماس نے مزید 4 یرغمالیوں کی لاشیں اسرائیل کے حوالے کردیں

حماس نے غزہ امن معاہدے کے تحت مزید 4 یرغمالیوں کی لاشیں اسرائیل کے حوالے کر دیں، انسانی بنیادوں پر اعتماد سازی کا نیا مرحلہ۔
ٹرمپ کا غزہ امن سربراہی اجلاس سے خطاب، معاہدے پر شہباز شریف اور فیلڈ مارشل کا شکریہ،شہبازشریف کو خطاب کی دعوت

شرم الشیخ میں منعقدہ تاریخی غزہ امن معاہدے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، السیسی، اردوان، امیر قطر اور وزیراعظم شہباز شریف نے شرکت کی۔
اس معاہدے سے برسوں کی جنگ کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں امن، ترقی اور استحکام کے نئے دور کا آغاز ہوا۔ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ “ہم نے جنگ نہیں، امن جیتا ہے۔”
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ “صدر ٹرمپ نوبیل امن انعام کے حقیقی مستحق ہیں۔”
ٹرمپ، السیسی، اردوان، اور امیر قطر کے غزہ امن معاہدہ پر دستخط، مشرقِ وسطیٰ میں نئے دور کا آغاز

شرم الشیخ میں امریکی صدر ٹرمپ، مصری صدر السیسی، ترک صدر اردوان اور امیر قطر شیخ تمیم بن حمد نے غزہ امن معاہدے پر تاریخی دستخط کیے۔
یہ معاہدہ اسرائیل اور حماس کے درمیان فوری جنگ بندی، قیدیوں کی رہائی اور تعمیرِ نو فنڈ کے قیام کا ضامن ہے۔
عالمی رہنماؤں نے اسے مشرقِ وسطیٰ میں امن، ترقی اور استحکام کے نئے دور کا آغاز قرار دیا ہے۔
غزہ جنگ بندی معاہدہ نافذ — اسرائیل کا انخلا، حماس کے 11 قیدی رہا

اسرائیلی فوج نے اعلان کیا ہے کہ غزہ جنگ بندی معاہدہ باضابطہ نافذ ہو چکا ہے، ابتدائی مرحلے میں حماس کے 11 قیدی رہا کیے جائیں گے جبکہ اسرائیلی افواج غزہ کے اندر طے شدہ لائن سے پیچھے ہٹنا شروع کر چکی ہیں۔
حماس اور اسرائیل کے درمیان غزہ امن معاہدہ طے پا گیا، حماس رہنما اسامہ حمدان نے تفصیلات سے آگاہ کر دیا

حماس رہنما اسامہ حمدان نے اعلان کیا کہ اسرائیل کے ساتھ غزہ امن معاہدہ صرف جنگ بندی نہیں بلکہ مکمل جنگ کے خاتمے کا معاہدہ ہے۔ معاہدے کے تحت اسرائیلی فوج غزہ، شمالی علاقوں، رفح اور خان یونس سے مکمل انخلا کرے گی، جبکہ پانچ سرحدی گزرگاہوں سے روزانہ 600 امدادی ٹرک داخل ہوں گے۔