اسحاق ڈار اور ہاکان فیدان کا ٹیلیفونک رابطہ، پاک افغان صورتحال پر تفصیلی گفتگو

اسحاق ڈار اور ترک وزیر خارجہ ہاکان فیدان کے درمیان رابطہ، پاک افغان کشیدگی، آپریشن غضب للحق اور خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال۔
ترکیہ طیارہ حادثہ میں لیبیا کے آرمی چیف سمیت اعلیٰ فوجی قیادت جاں بحق، تین روزہ قومی سوگ کا اعلان

ترکیہ کے دارالحکومت انقرہ کے قریب پیش آنے والے المناک طیارہ حادثے میں لیبیا کے آرمی چیف لیفٹننٹ جنرل محمد علی احمد الحداد سمیت اعلیٰ فوجی قیادت جاں بحق ہو گئی۔ حادثے کے بعد لیبیا میں تین روزہ قومی سوگ کا اعلان کر دیا گیا جبکہ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔
غزہ اجلاس استنبول میں، پاکستان سمیت 8 مسلم ممالک کی شرکت غزہ جنگ بندی معاہدے پر غور

ترکیہ کے شہر استنبول میں غزہ اجلاس آج منعقد ہو رہا ہے جس میں پاکستان سمیت 8 مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ شریک ہیں۔ اجلاس میں غزہ جنگ بندی معاہدے، اسرائیلی جارحیت اور انسانی حقوق کی صورتحال پر غور کیا جا رہا ہے۔
پاکستان کو 6 نومبر کے پاک افغان مذاکرات سے مثبت نتائج کی امید ہے، دفترِ خارجہ

اسلام آباد میں دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے کہا ہے کہ پاکستان کو 6 نومبر کو افغان طالبان کے ساتھ ہونے والے مذاکرات سے مثبت نتائج کی امید ہے۔ استنبول میں چار روزہ مذاکرات کے بعد پاکستان نے واضح کیا کہ افغان سرزمین دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونی چاہیے۔ ترجمان نے قطر اور ترکیہ کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان خطے میں امن و استحکام کے لیے مذاکراتی عمل جاری رکھے گا۔
دوحہ قطر اور ترکیہ کی ثالثی میں پاکستان اور افغانستان جنگ بندی پر متفق

پاکستان اور افغانستان کے درمیان ایک ہفتے تک جاری رہنے والی خونریز جھڑپوں کے بعد قطر اور ترکیہ کی ثالثی میں فوری جنگ بندی طے پا گئی۔ یہ پیش رفت خطے میں امن و استحکام کے لیے ایک نئی امید بن کر سامنے آئی ہے، تاہم اصل چیلنج اعتماد کی بحالی اور دہشت گرد گروہوں پر قابو پانے کا ہے۔
پاکستان اب تاریخ کا تماشائی نہیں۔۔مرکزی کردار

یوں لگتا ہے کہ وقت نے ایک بار پھر تاریخ کے پرانے اوراق کو پلٹ کر ایک نیا باب لکھ دیا ہے۔ وہی پاکستان، جو کبھی سرد جنگ میں امریکا کا منظورِ نظر تھا، آج ایک نئے انداز میں عالمی بساط پر اُبھرتا دکھائی دیتا ہے۔ جنرل عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان صرف عسکری ہی نہیں بلکہ سیاسی و سفارتی محاذ پر بھی مرکزی کردار بن رہا ہے۔ سعودی عرب، ترکیہ، ایران، چین اور روس کے ساتھ بڑھتے تعلقات اور گریٹر اسرائیل کے منصوبے کے مقابل ایک نیا اتحاد دنیا کے توازن کو بدلنے کے قریب ہے۔ یہی وہ وقت ہے جب پاکستان تاریخ کا تماشائی نہیں بلکہ اس کا اصل کردار بن چکا ہے۔