پاکستان میں امریکی تیل کی آمد، معاشی و تجارتی تعلقات میں نیا موڑ

پاکستان میں امریکی تیل کی آمد توانائی کے شعبے میں انقلاب کی نوید ہے۔ 10 لاکھ بیرل خام تیل لانے والا پیگاسس جہاز حب بندرگاہ پر لنگر انداز ہوا۔
عراقی اور سعودی کمپنیوں نے بھارت کو تیل کی فروخت روک دی

امریکا کے ساتھ بڑھتی تجارتی کشیدگی اور یورپی پابندیوں کے بعد بھارت کی نجی کمپنی نایارا انرجی کی خام تیل کی سپلائی متاثر ہوئی ہے۔ سعودی آرامکو اور عراق کی سرکاری کمپنی سومو نے جولائی کے بعد نایارا کو خام تیل کی ترسیل روک دی، جس کے باعث اگست میں نایارا کو اپنی ضروریات کے لیے مکمل طور پر روس پر انحصار کرنا پڑا۔ نایارا کی اکثریتی ملکیت روسی اداروں کے پاس ہے اور یہ ماہانہ تقریباً 20 لاکھ بیرل عراقی اور 10 لاکھ بیرل سعودی خام تیل حاصل کرتی تھی۔ پابندیوں کے باعث شپنگ مسائل پیدا ہوئے اور کمپنی اپنی وادینار ریفائنری کو صرف 70-80 فیصد صلاحیت پر چلا رہی ہے۔ دیگر شپنگ کمپنیوں کے پیچھے ہٹنے کی وجہ سے نایارا ’ڈارک فلیٹ‘ جہازوں پر انحصار کر رہی ہے۔ کمپنی نے نیا چیف ایگزیکٹو بھی مقرر کیا ہے۔ اس بحران سے بھارت کی توانائی کی سپلائی اور تجارتی تعلقات متاثر ہو رہے ہیں، اور خطے میں توانائی کا دباؤ بڑھ رہا ہے۔