سرفراز چودھری کی ضمانت منظور: لاہور ہائیکورٹ کا رہائی کا حکم

لاہور ہائیکورٹ نے یوٹیوبر ڈکی بھائی سے رشوت وصولی کے کیس میں نامزد سابق ایڈیشنل ڈائریکٹر سائبر کرائم سرفراز چودھری کی درخواستِ ضمانت منظور کرتے ہوئے انہیں رہا کرنے کا حکم دے دیا ہے۔
سرکاری ملازم گرفتار: فتنۃ الہندوستان بیانیہ پھیلانے کا الزام

این سی سی آئی اے نے سوشل میڈیا پر فتنۃ الہندوستان بیانیہ پھیلانے کے الزام میں ریڈیو پاکستان کے سابق ملازم کو گرفتار کر لیا۔ عدالت نے جسمانی ریمانڈ منظور کرتے ہوئے ڈیجیٹل شواہد کے تجزیے کی اجازت دے دی۔
لاہور پولیس کی بڑی کارروائی: کرکٹ میچز پر جواء کروانے والا بین الاقوامی نیٹ ورک گرفتار، لاکھوں روپے برآمد

لاہور پولیس نے بین الاقوامی کرکٹ میچز پر جواء کروانے والے ایک بڑے نیٹ ورک کو گرفتار کر لیا ہے۔ ملزمان موبائل ایپس اور لیپ ٹاپ کے ذریعے گروپ جواء کرواتے تھے۔ پولیس نے ملزمان کے قبضے سے نقدی اور الیکٹرانک سامان برآمد کرکے مقدمہ درج کر لیا ہے۔
واٹس ایپ ہیک ہو جائے تو کیا کریں؟ این سی سی آئی اے کی اہم ہدایات

اگر واٹس ایپ ہیک ہو جائے تو کیا کریں؟ این سی سی آئی اے نے صارفین کیلئے فوری اقدامات اور مکمل حفاظتی طریقہ کار جاری کر دیا۔
ہائیکورٹ نے رجب بٹ کی راہداری ضمانت میں10 روز کی توسیع کر دی

برطانیہ سے ڈی پورٹ ہونے والے یوٹیوبر رجب بٹ کو بڑا ریلیف مل گیا۔ اسلام آباد ہائیکورٹ نے رجب بٹ کی راہداری ضمانت 10 روز کے لیے منظور کرلی۔
پی ٹی آئی ایکٹویسٹ فلک جاوید عدالت میں پیش، ریاست مخالف ٹویٹس کیس میں نیا موڑ

نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے پی ٹی آئی ایکٹویسٹ فلک جاوید کو دو روزہ جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے پر عدالت میں پیش کیا۔ فلک جاوید پر ریاست مخالف ٹویٹ اور (ن) لیگ کی وزیر سے متعلق نازیبا مواد اپ لوڈ کرنے کے الزامات ہیں۔
فلک جاوید جسمانی ریمانڈ میں توسیع-عدالت نے پی ٹی آئی سوشل میڈیا ایکٹوسٹ کے ریمانڈ میں دو روز کا اضافہ کیا

لاہور کی ضلع کچہری نے پی ٹی آئی کی سوشل میڈیا ایکٹوسٹ فلک جاوید کے جسمانی ریمانڈ میں دو روز کی توسیع کردی۔ نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) کی درخواست پر سماعت کے بعد عدالت نے فیصلہ سنایا۔ فلک جاوید پر ریاست مخالف ٹویٹس کے دو مقدمات درج ہیں۔
کال سینٹرز کے حوالے سے بڑا اقدام حکومت کا ملک گیر سطح پر اہم فیصلہ

ڈیجیٹل مالیاتی فراڈ کی روک تھام کے لیے حکومت پاکستان نے تمام کال سینٹرز کو لائسنس کے دائرے میں لانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اب بغیر لائسنس آپریٹ کرنے والے کال سینٹرز کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔