پنجاب سیلاب کا خطرہ ڈیڑھ لاکھ افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا

پنجاب سیلاب کا خطرہ متاثرہ افراد کو ریسکیو کرتے ہوئے

نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے مطابق پنجاب کے مختلف اضلاع میں شدید بارشوں اور دریاؤں میں پانی کی سطح بلند ہونے کے باعث اب تک ڈیڑھ لاکھ سے زائد افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے۔ دریائے ستلج میں پانی کا بہاؤ ایک لاکھ 95 ہزار کیوسک سے بڑھ گیا ہے جو انتہائی اونچے درجے کے سیلاب کی نشاندہی کرتا ہے۔ متاثرین میں سب سے زیادہ تعداد بہاولنگر کی ہے جہاں 89 ہزار سے زائد افراد نقل مکانی کر چکے ہیں۔ قصور، اوکاڑہ، پاکپتن، بہاولپور اور وہاڑی کے نشیبی علاقے بھی متاثر ہوئے ہیں۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے سخت احکامات جاری کرتے ہوئے کہا کہ انسانی جانوں کے تحفظ میں کوئی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ ماہرین کے مطابق یہ صورتحال ماحولیاتی تبدیلیوں کا نتیجہ ہے، جس نے پاکستان کو دنیا کے سب سے زیادہ متاثرہ ممالک میں شامل کر دیا ہے۔

خیبر پختونخوا میں تباہ کن سیلاب، مزید 45 زندگیاں نگل گیا، اموات 358 تک پہنچ گئیں

خیبر پختونخوا میں سیلابی صورتحال، مکانات تباہ اور لوگ محفوظ مقامات پر منتقل ہوتے ہوئے

خیبر پختونخوا میں بارشوں اور سیلابی ریلوں نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی، گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 45 افراد جاں بحق ہوگئے جس کے بعد اموات کی مجموعی تعداد 358 ہوگئی۔ متاثرہ علاقوں میں ریلیف اور ریسکیو سرگرمیاں تیز کردی گئی ہیں جبکہ مزید بارشوں کی پیش گوئی نے خطرات بڑھا دیے ہیں۔

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]