مولانا فضل الرحمٰن کا 27ویں آئینی ترمیم کو مکمل طور پر مسترد کرنے کا اعلان

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے 27ویں آئینی ترمیم کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ پارلیمنٹ میں جے یو آئی کے ارکان نے اس کی مخالفت کی۔ اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ مرکزی مجلس شوریٰ کے اجلاس میں ترمیم اور متعلقہ قوانین پر تفصیلی غور کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ 26ویں ترمیم حکومت کے ساتھ باہمی مشاورت سے منظور ہوئی تھی، مگر 27ویں ترمیم میں جے یو آئی کو مکمل طور پر نظرانداز کیا گیا۔
قومی اسمبلی سے 27ویں آئینی ترمیم کی منظوری، اپوزیشن کا بائیکاٹ

اسلام آباد میں قومی اسمبلی نے 27ویں آئینی ترمیم بھاری اکثریت سے منظور کرلی۔ وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کے مطابق ترمیم سے چیف جسٹس کے تقرر سے متعلق ابہام ختم ہوگیا۔ بلاول بھٹو نے اسے “میثاقِ جمہوریت کی تکمیل” قرار دیا، جبکہ اپوزیشن نے ایوان سے واک آؤٹ کیا۔
دو تہائی اکثریت کے ساتھ ایوانِ بالا سے 27ویں آئینی ترمیم منظور، اپوزیشن واک آؤٹ کر گئی

پاکستان کے ایوانِ بالا سینیٹ نے 27ویں آئینی ترمیمی بل دو تہائی اکثریت سے منظور کر لیا۔ اپوزیشن نے اجلاس سے واک آؤٹ کیا، جبکہ حکومت اور اتحادی جماعتوں نے بل کی مکمل حمایت کی۔ ترمیم میں آئینی عدالت کے قیام، ججز کے تقرر و تبادلے کے نظام اور عدالتی اصلاحات سے متعلق اہم شقیں شامل ہیں۔ حکومت نے اسے تاریخی پیش رفت قرار دیا ہے۔
وزیراعظم سمیت 25 فیصد اراکین قومی اسمبلی کا 19 واں اجلاس میں غیر حاضر، رپورٹ

فافن کی تازہ رپورٹ کے مطابق وزیراعظم سمیت قومی اسمبلی کے تقریباً ایک چوتھائی ارکان 19ویں اجلاس میں شریک نہیں ہوئے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ 82 ارکان نے کسی بھی نشست میں شرکت نہیں کی جبکہ وزراء کی غیر حاضری کو حکومتی سنجیدگی کے فقدان سے تعبیر کیا گیا۔ خواتین ارکان کی شرکت مردوں سے بہتر رہی۔