دہشت گردی کی معاونت ختم نہ ہونے تک افغانستان سے تجارت ممکن نہیں، دفتر خارجہ

ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے واضح کیا ہے کہ جب تک افغانستان سے پاکستان پر دہشت گردوں کی معاونت اور حملوں کا سلسلہ جاری ہے، دونوں ممالک کے درمیان تجارت بحال نہیں ہو سکتی۔ ہفتہ وار بریفنگ میں انہوں نے کہا کہ پاکستان کے پاس تجارت معطل کرنے کے علاوہ کوئی دوسرا آپشن نہیں بچا کیونکہ افغانستان سے پاکستانی تاجروں، شہریوں اور تجارت پر مسلسل حملے ہو رہے ہیں، اور پاکستان اپنے لوگوں کی جانوں کی قیمت پر تجارت نہیں کر سکتا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے وفاقی کابینہ کا ہنگامی اجلاس طلب کر لیا

وزیراعظم شہباز شریف نے ملک کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر وفاقی کابینہ کا ہنگامی اجلاس طلب کر لیا۔ ذرائع کے مطابق اجلاس میں قومی سلامتی، حالیہ دہشت گردی کے واقعات، اور پاک–افغان تعلقات پر تفصیلی بریفنگ دی جائے گی۔
ڈونلڈ ٹرمپ کا اعلان: پاک افغان مسئلہ جلد اور بہتر انداز میں حل ہوگا

ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ وہ پاک افغان مسئلہ جلد حل کریں گے، پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں بہتری کے لیے کوششیں تیز کی جائیں گی۔
پاک افغان سیز فائر طالبان حکومت کی درخواست پرکیا، طویل مدتی امن کیلئے گیند اب کابل کے کورٹ میں ہے، وزیراعظم

وزیراعظم شہباز شریف نے وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس میں افغانستان کو واضح پیغام دیا کہ پاکستان نے 48 گھنٹے کے لیے سیز فائر انسانی ہمدردی کے تحت کیا، مگر اب فیصلہ کابل کو کرنا ہے کہ وہ امن چاہتا ہے یا تصادم۔ انہوں نے کہا کہ افغان سرزمین سے دہشتگردی برداشت نہیں کی جائے گی، اور پاکستان اپنے دفاع کا ہر حق محفوظ رکھتا ہے۔ شہباز شریف نے غزہ امن معاہدے، فلسطینی ریاست، اور آئی ایم ایف پروگرام پر بھی اہم گفتگو کی۔
وفاقی وزیرداخلہ کی افغان ہم منصب سے اہم ملاقات ، خوارجی کارروائیوں کو روکنے میں تعاون پر زور

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی کابل میں افغان ہم منصب سراج الدین حقانی سے ملاقات، انسداد دہشتگردی، بارڈر مینجمنٹ اور غیر قانونی افغان شہریوں کی واپسی پر تبادلہ خیال