افغان رجیم پر پاکستان کی بھرپور جوابی کارروائی، 331 جنگجو ہلاک،500 خوارج زخمی، آپریشن غضب للحق جاری

پاکستانی فضائی کارروائی میں افغان طالبان کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا، آپریشن غضب للحق جاری

پاکستان نے افغان رجیم کی بلااشتعال جارحیت کا مؤثر جواب دیتے ہوئے آپریشن “غضب للحق” کے تحت بڑی کارروائی کی، جس میں 331 جنگجو ہلاک اور 500 زخمی ہوئے۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق متعدد چیک پوسٹیں اور عسکری اہداف تباہ کیے گئے جبکہ کارروائیاں تاحال جاری ہیں۔

پاکستان میں دہشت گردی کے پیچھے افغان کنکشن کے ٹھوس شواہد سامنے آگئے

افغان سرزمین سے پاکستان میں دہشت گردی کے نئے شواہد سامنے آگئے

پاکستان میں دہشت گردی کی حالیہ لہر کے حوالے سے چونکا دینے والے انکشافات سامنے آئے ہیں، جن کے مطابق سرحد پار افغان سرزمین کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ باجوڑ حملے میں افغان شہری کے ملوث ہونے کی تصدیق ہوئی جبکہ متعدد دیگر واقعات میں بھی افغان کنکشن سامنے آیا ہے، جس نے سیکیورٹی خدشات میں اضافہ کر دیا ہے۔

افغانستان کسی بھی ملک کے لیے خطرہ نہیں ، غلط فہمیوں کے ازالے کے لیے مذاکرات جاری رکھیں گے : سراج الدین حقانی

سراج الدین حقانی کا پاکستان کے لیے مفاہمتی پیغام، مذاکرات کے دروازے کھلے

افغان طالبان کے وزیر داخلہ سراج الدین حقانی نے پاکستان کے لیے مفاہمتی پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان کسی بھی ملک کے لیے خطرہ نہیں اور غلط فہمیوں کے حل کے لیے مذاکرات کے دروازے کھلے ہیں، تاہم پاکستان سرحد پار دہشت گردی پر شدید تحفظات رکھتا ہے۔

پاکستان کا اقوامِ متحدہ میں انتباہ: افغان سرزمین سے جنم لینے والی دہشت گردی سب سے بڑا خطرہ قرار

پاکستان کا اقوامِ متحدہ میں انتباہ : افغان دہشت گردی سب سے بڑا خطرہ

پاکستان نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کو خبردار کیا ہے کہ افغانستان کی سرزمین سے جنم لینے والی دہشت گردی پاکستان کی قومی سلامتی، خود مختاری اور خطے کے امن کے لیے سب سے بڑا خطرہ بن چکی ہے۔ اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے کہا کہ افغان سرزمین دہشت گرد گروہوں کی محفوظ پناہ گاہ بن چکی ہے اور 2022 سے اب تک افغانستان سے ہونے والے حملوں میں پاکستانی شہریوں اور سیکیورٹی فورسز کی 1200 سے زائد جانیں ضائع ہو چکی ہیں۔

پاکستان کسی دہشت گرد گروہ سے مذاکرات نہیں کرے گا، ترجمان دفتر خارجہ

دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی کی پریس بریفنگ، دہشت گرد گروہ سے مذاکرات نہیں

دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے واضح کیا ہے کہ پاکستان کسی بھی دہشت گرد گروہ، خصوصاً ٹی ٹی پی اور بی ایل اے سے مذاکرات نہیں کرے گا۔ انہوں نے بتایا کہ افغان طالبان کے ساتھ بات چیت کا تیسرا دور استنبول میں کامیابی سے مکمل ہوا، تاہم طالبان انتظامیہ عملی اقدامات کے بجائے صرف وعدوں تک محدود رہی۔ ترجمان کے مطابق افغانستان سے پاکستان پر حملوں میں اضافے کے باوجود پاکستان نے تحمل کا مظاہرہ کیا، مگر دہشت گردوں کو پناہ گزین ظاہر کرنا ایک خطرناک چال ہے۔ پاکستان اپنی سلامتی کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا۔

شہباز شریف کا قومی اسمبلی سے خطاب: دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کوئی رکاوٹ برداشت نہیں،طالبان ٹی ٹی پی کو لگام دیں

وزیراعظم شہباز شریف کا قومی اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے

وزیراعظم شہباز شریف نے قومی اسمبلی سے خطاب میں کہا کہ پاکستان کی ترقی میں کسی رکاوٹ کو حائل نہیں ہونے دیں گے۔ انہوں نے افغان طالبان سے کالعدم ٹی ٹی پی کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ چالیس سالہ مہمان نوازی کا صلہ دنیا دیکھ رہی ہے۔ شہباز شریف نے 27ویں آئینی ترمیم کی منظوری کو جمہوریت کی کامیابی قرار دیا۔

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]