پاکستان کو 6 نومبر کے پاک افغان مذاکرات سے مثبت نتائج کی امید ہے، دفترِ خارجہ

اسلام آباد میں دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے کہا ہے کہ پاکستان کو 6 نومبر کو افغان طالبان کے ساتھ ہونے والے مذاکرات سے مثبت نتائج کی امید ہے۔ استنبول میں چار روزہ مذاکرات کے بعد پاکستان نے واضح کیا کہ افغان سرزمین دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونی چاہیے۔ ترجمان نے قطر اور ترکیہ کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان خطے میں امن و استحکام کے لیے مذاکراتی عمل جاری رکھے گا۔
سیکیورٹی فورسز کا کرم میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن، 7 دہشت گرد ہلاک، کیپٹن سمیت 6 جوان شہید

ضلع کرم میں سیکیورٹی فورسز نے انٹیلی جنس بنیاد پر کی گئی کارروائی میں 7 بھارتی حمایت یافتہ دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔ بدقسمتی سے اس آپریشن میں کیپٹن نعمان سلیم اور 5 دیگر جوان شہید ہوئے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق کارروائی نیشنل ایکشن پلان کے تحت عزمِ استحکام کے وژن کا حصہ تھی۔
تورا بورا جیسے مناظر دوبارہ دیکھا سکتے: خواجہ آصف کی افغان طالبان کو انتباہ

وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے افغان طالبان کو سخت انتباہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر وہ پاکستان کے عزم کو آزمانا چاہتے ہیں تو انجام کے لیے تیار رہیں۔ طالبان حکومت کو ختم کرنے اور دوبارہ غاروں میں دھکیلنے کے لیے معمولی قوت ہی کافی ہے۔ وزیر دفاع کے مطابق طالبان کے اندر جنگی عناصر نے پاکستان کی طاقت اور حوصلے کا غلط اندازہ لگایا ہے۔
پاک افغان سرحد پر شدید جھڑپ؛ کرم سیکٹر میں افغان طالبان کی پوسٹیں تباہ، طالبان کی پھر بلااشتعال فائرنگ

کرم سیکٹر میں پاک-افغان سرحد پر ایک بار پھر افغان طالبان کی بلااشتعال فائرنگ، پاک فوج کے بروقت اور مؤثر جوابی کارروائی سے طالبان پوسٹوں اور ایک ٹینک کو تباہ کر دیا گیا۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق متعدد طالبان ہلاک ہو کر پوسٹیں چھوڑ کر فرار ہوگئے۔ وزارتِ دفاع نے کشیدہ حالات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات منقطع ہیں اور کسی بھی وقت دوبارہ جھڑپیں شروع ہو سکتی ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف نے واضح کیا کہ اب دہشت گردی کے خلاف ٹھوس فیصلوں کا وقت آ چکا ہے۔