27ویں آئینی ترمیم کے بعد سپریم کورٹ کا فل کورٹ اجلاس، اجتماعی استعفوں کی تجویز مسترد

27ویں آئینی ترمیم کے بعد سپریم کورٹ کا فل کورٹ اجلاس

سپریم کورٹ میں 27ویں آئینی ترمیم کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال پر بلائے گئے اہم فل کورٹ اجلاس میں ججوں نے ترمیم کے عدلیہ کے اختیارات پر اثرات، ادارہ جاتی ردِعمل اور مستقبل کے لائحہ عمل پر تفصیلی مشاورت کی۔ اجلاس کے دوران ایک جج کی جانب سے ترمیم کے خلاف اجتماعی استعفوں کی تجویز بھی پیش کی گئی، مگر اس پر کسی نے اتفاق نہیں کیا۔ اجلاس میں یہ سوال بھی اٹھایا گیا کہ کیا سپریم کورٹ پارلیمنٹ کو قانون سازی یا آئینی ترمیم سے روک سکتی ہے؟ چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے واضح کیا کہ عدالتی نظرثانی کا اختیار قانون بننے کے بعد استعمال ہوتا ہے، پہلے نہیں۔ اجلاس میں سینئر ججز نے حالات کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ عدلیہ کو ایک مضبوط ادارہ جاتی ردعمل دینا چاہیے، تاہم کوئی مشترکہ فیصلہ سامنے نہ آسکا۔

تحریک تحفظ آئین پاکستان کا 27ویں ترمیم مسترد کرنے کا اعلان، 21 نومبر کو یومِ سیاہ منانے کا فیصلہ

تحریک تحفظ آئین پاکستان کا 27ویں ترمیم مسترد

تحریک تحفظ آئین پاکستان نے 27ویں آئینی ترمیم کو آئین کے بنیادی ڈھانچے پر حملہ قرار دیتے ہوئے مکمل طور پر مسترد کردیا ہے۔ 21 نومبر کو یومِ سیاہ اور 17 نومبر کو پارلیمنٹ سے سپریم کورٹ تک واک کا اعلان کیا گیا ہے۔

پشاور ہائیکورٹ کا وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے حلف اور انتخاب سے متعلق کیسز پر فیصلہ محفوظ

پشاور ہائیکورٹ کا وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے انتخاب سے متعلق مقدمہ

پشاور ہائیکورٹ نے خیبرپختونخوا کے نئے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی حلف برداری اور سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کے استعفیٰ سے متعلق آئینی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کرلیا ہے۔ تحریک انصاف کا مؤقف ہے کہ گورنر کو آئینی طور پر نئے وزیراعلیٰ سے حلف لینا چاہیے جبکہ گورنر ہاؤس کا کہنا ہے کہ استعفیٰ ابھی منظور نہیں ہوا۔ اس صورتحال نے صوبائی سیاست کو غیر یقینی بنا دیا ہے۔

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]