اقوام متحدہ کا حالیہ 27آئینی ترامیم پر تشویش، صدر اور فیلڈ مارشل کے تاحیات استثنیٰ سے احتساب کمزور ہو گا

اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق فولکر ترک نے پاکستان کی حالیہ آئینی ترامیم پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے، جن کے مطابق فیڈرل کونسٹیٹیوشنل کورٹ (ایف سی سی) کو آئینی مقدمات پر مکمل اختیار دے دیا گیا ہے اور سپریم کورٹ کا دائرہ صرف دیوانی و فوجداری کیسز تک محدود ہو گیا ہے۔ ہائی کمشنر نے کہا کہ یہ ترامیم وکلا برادری اور سول سوسائٹی سے مشاورت کے بغیر کی گئیں، جس سے عدلیہ کی آزادی، فوجی احتساب اور قانون کی حکمرانی پر سنگین سوالات اٹھتے ہیں۔
اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کےخلاف ہائیکورٹ کے 5 ججز کا سپریم کورٹ سے رجوع

اسلام آباد ہائی کورٹ کے پانچ سینئر ججوں نے چیف جسٹس کے اختیارات اور انتظامی اقدامات کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کر لیا ہے۔ درخواستوں میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ بینچوں کی تشکیل اور مقدمات کی منتقلی صرف قواعد اور ججوں کی مشاورت سے ہونی چاہیے۔ ججز نے ’’ماسٹر آف دی روسٹر‘‘ کے یکطرفہ اصول کو مسترد کرتے ہوئے نوٹیفکیشنز اور کمیٹیوں کو غیر قانونی قرار دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ معاملہ چیف جسٹس کے اختیارات اور عدلیہ کے اندرونی ڈھانچے کے لیے تاریخی نوعیت رکھتا ہے، جو مستقبل میں عدالتی نظام پر گہرے اثرات ڈال سکتا ہے۔