پاکستان سعودی دفاعی معاہدہ کسی تیسرے ملک کیخلاف نہیں ہے، دفتر خارجہ

پاکستان اور سعودی عرب نے ایک تاریخی اسٹریٹجک دفاعی معاہدہ طے کیا ہے جسے خطے میں سیاسی اور عسکری توازن کی نئی سمت قرار دیا جا رہا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے اس معاہدے پر دستخط کیے جس کے تحت دونوں ممالک کسی بھی بیرونی جارحیت کے خلاف مشترکہ دفاع کریں گے۔ دفتر خارجہ کے مطابق یہ معاہدہ کسی تیسرے ملک کو نشانہ بنانے کے بجائے محض باہمی تعاون اور خطے میں امن کے فروغ کے لیے ہے۔ بھارت نے اس پر گہری نظر رکھنے کا اعلان کیا ہے جبکہ ماہرین کے مطابق یہ معاہدہ مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کی جغرافیائی سیاست پر گہرے اثرات ڈال سکتا ہے۔
ایک ملک پر حملہ دونوں پر تصور،پاکستان سعودیہ دفاعی معاہدے سے بھارت میں تشویش کی لہر، ردِ عمل بھی آگیا

پاکستان اور سعودی عرب نے ایک تاریخی اسٹریٹجک دفاعی معاہدے پر دستخط کر کے خطے کی سیاست اور سکیورٹی میں نئی ہلچل مچا دی ہے۔ اس معاہدے کے تحت دونوں ممالک ایک دوسرے پر حملے کو اپنے اوپر حملہ تصور کریں گے، دفاعی تعاون بڑھائیں گے اور خطے میں امن و استحکام کے لیے مشترکہ اقدامات کریں گے۔ بھارت نے اس پیشرفت پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے جبکہ ماہرین کے مطابق یہ معاہدہ جنوبی ایشیا اور مشرق وسطیٰ میں طاقت کے توازن کو نئی سمت دے سکتا ہے۔
اسرائیلی توسیعی منصوبوں کو روکنےکیلئے ٹاسک فورس قائم کی جائے،شہباز شریف کا عرب-اسلامی سربراہی کانفرنس سے خطاب

وزیراعظم پاکستان میاں شہباز شریف نے دوحہ عرب-اسلامی سربراہی کانفرنس میں اسرائیل کے جنگی جرائم اور قطر پر حملے کی سخت مذمت کرتے ہوئے عالمی برادری سے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ غزہ کی تباہی اور فلسطینی عوام پر مظالم انسانیت کے خلاف جرم ہیں، جنہیں روکنا ناگزیر ہے۔