190 ملین پاؤنڈ کیس سزا معطلی درخواست سماعت کے لیے منظور، اہم پیش رفت
اسلام آباد میں جاری اہم قانونی پیش رفت کے دوران اسلام آباد ہائی کورٹ نے 190 ملین پاؤنڈ کیس، جسے القادر ٹرسٹ کیس بھی کہا جاتا ہے، میں بانی پاکستان تحریک انصاف کی سزا معطلی کی درخواست سے متعلق اہم فیصلہ سناتے ہوئے جلد سماعت کی استدعا منظور کر لی ہے۔ عدالت نے کیس کو باقاعدہ سماعت کے لیے 11 مارچ کو مقرر کر دیا ہے، جس کے بعد اس مقدمے میں قانونی سرگرمیوں میں ایک نئی پیش رفت سامنے آئی ہے۔
عدالتی ذرائع کے مطابق رجسٹرار آفس کی جانب سے دائر کی گئی متفرق درخواستیں سماعت کے لیے مقرر کی گئی تھیں، جن پر عدالت نے غور کرتے ہوئے جلد سماعت کی درخواست منظور کر لی۔ اس کیس کی سماعت چیف جسٹس سرفراز ڈوگر اور جسٹس اعظم خان کریں گے۔ اس فیصلے کے بعد قانونی حلقوں میں اس کیس پر دوبارہ بحث شروع ہو گئی ہے اور مختلف ماہرین اس پیش رفت کو اہم قرار دے رہے ہیں۔
واضح رہے کہ اس مرحلے پر مرکزی سزا معطلی کی درخواستیں باقاعدہ طور پر مقرر نہیں کی گئیں، بلکہ عدالت کے سامنے صرف جلد سماعت سے متعلق متفرق درخواستیں رکھی گئی تھیں۔ عدالت نے ان درخواستوں کو قابل سماعت قرار دیتے ہوئے کیس کو باقاعدہ سماعت کے لیے مقرر کیا ہے۔ اس مقدمے میں سزا معطلی کی درخواستوں پر آخری سماعت 26 ستمبر 2025 کو ہوئی تھی، جس کے بعد قانونی کارروائی ایک عرصے تک آگے نہیں بڑھ سکی تھی۔
بانی پی ٹی آئی کی جانب سے عدالت میں میڈیکل بنیادوں پر بھی جلد سماعت کی درخواست دائر کی گئی تھی، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ صحت کے مسائل کے پیش نظر کیس کو ترجیحی بنیادوں پر سنا جائے۔ عدالت نے اس درخواست کو بھی ریکارڈ کا حصہ بناتے ہوئے کیس کی جلد سماعت کا فیصلہ کیا۔ اس پیش رفت کو سیاسی اور قانونی حلقوں میں اہم سمجھا جا رہا ہے کیونکہ اس کیس کا تعلق ملک کی بڑی سیاسی شخصیت سے ہے۔
دوسری جانب اسلام آباد ہائی کورٹ میں توشہ خانہ ٹو کیس کے حوالے سے بھی اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ عدالت نے سابق وزیر اعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی سزا کے خلاف دائر اپیلوں پر رجسٹرار آفس کی جانب سے لگائے گئے اعتراضات دور کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔ عدالت نے حکم دیا کہ اعتراضات ختم ہونے کے بعد اپیلوں کو باقاعدہ نمبر لگا کر سماعت کے لیے مقرر کیا جائے۔
ان اپیلوں پر اعتراضات دور کرنے اور وقت میں توسیع کی متفرق درخواستوں کی سماعت جسٹس خادم حسین سومرو نے کی۔ اس موقع پر بانی پی ٹی آئی کے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر، سلمان اکرم راجا اور دیگر وکلاء عدالت میں موجود تھے۔ اس کے علاوہ بانی پی ٹی آئی کی تینوں بہنیں بھی کمرہ عدالت میں موجود تھیں، جس سے اس کیس کی اہمیت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
سماعت کے دوران بیرسٹر سلمان صفدر نے عدالت کو بتایا کہ وہ پہلی بار اس کیس میں پیش ہوئے ہیں اور چاہتے ہیں کہ انہیں خالی ہاتھ واپس نہ بھیجا جائے۔ انہوں نے عدالت کے سامنے مؤقف اختیار کیا کہ رجسٹرار آفس کی جانب سے اپیلوں پر ایسے اعتراضات عائد کیے گئے جو غیر ضروری تھے اور قانونی عمل کو پیچیدہ بنا رہے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ بعض اعتراضات کے بارے میں انہیں بروقت آگاہی نہیں دی گئی اور جب سزا معطلی کی درخواستیں دائر کی گئیں تو اس وقت ان اعتراضات کا علم ہوا۔
وکیل صفائی نے مزید کہا کہ رجسٹرار آفس کی جانب سے وکالت نامے کے پرانا ہونے اور صفحات پر فلیگ نہ لگنے جیسے اعتراضات بھی سامنے آئے، حالانکہ بعد میں رجسٹرار آفس نے خود ہی کچھ اعتراضات واپس لے لیے۔ ان کا مؤقف تھا کہ اس طرح کے تکنیکی اعتراضات کی وجہ سے کیس کی سماعت میں تاخیر ہو رہی ہے، جسے ختم ہونا چاہیے تاکہ عدالت جلد از جلد اپیلوں پر غور کر سکے۔
جسٹس خادم حسین سومرو نے اس موقع پر ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ باقی ماندہ اعتراضات دور کرنے کے لیے عدالت سات دن کا وقت دے رہی ہے۔ انہوں نے مسکراتے ہوئے کہا کہ اگر صفحات پر فلیگ لگانے کا اعتراض ہے تو اسے بھی پورا کر لیا جائے تاکہ کیس کی کارروائی میں مزید تاخیر نہ ہو۔ بعد ازاں عدالت نے اعتراضات دور کرنے اور وقت میں توسیع سے متعلق دونوں متفرق درخواستیں منظور کر لیں۔
قانونی ماہرین کے مطابق یہ کیس پاکستان کی سیاست اور عدالتی نظام دونوں کے لیے اہمیت رکھتا ہے۔ القادر ٹرسٹ کیس اور توشہ خانہ ٹو کیس دونوں ایسے مقدمات ہیں جن پر نہ صرف سیاسی جماعتیں بلکہ عوام بھی گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ عدالت میں ہونے والی ہر پیش رفت ملکی سیاست پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ 11 مارچ کو ہونے والی سماعت اس مقدمے کے لیے ایک اہم مرحلہ ثابت ہو سکتی ہے۔ اس دن عدالت سزا معطلی کی درخواستوں پر تفصیلی سماعت کرے گی اور فریقین کے دلائل سنے جائیں گے۔ اس کے بعد عدالت یہ فیصلہ کرے گی کہ سزا معطل کی جائے یا نہیں۔
یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ پاکستان میں بڑے سیاسی مقدمات کی سماعت اکثر عوامی توجہ کا مرکز بن جاتی ہے۔ ایسے مقدمات نہ صرف قانونی اہمیت رکھتے ہیں بلکہ ان کے سیاسی اور سماجی اثرات بھی ہوتے ہیں۔ اسی وجہ سے اس کیس کی ہر پیش رفت میڈیا اور عوام دونوں کے لیے اہم سمجھی جا رہی ہے۔
مجموعی طور پر دیکھا جائے تو اسلام آباد ہائی کورٹ میں ہونے والی حالیہ پیش رفت نے القادر ٹرسٹ کیس اور توشہ خانہ ٹو کیس کو ایک بار پھر خبروں کی سرخیوں میں لا کھڑا کیا ہے۔ عدالت کی جانب سے جلد سماعت کی منظوری اور اعتراضات دور کرنے کی ہدایت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ مقدمات کی کارروائی تیزی سے آگے بڑھ سکتی ہے۔ اب سب کی نظریں 11 مارچ کو ہونے والی سماعت پر مرکوز ہیں، جہاں اس اہم مقدمے میں مزید پیش رفت متوقع ہے۔

