‫9 مئی ویڈیوز تصدیق، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سمیت اہم شخصیات کی موجودگی ثابت‬

9 مئی ویڈیوز تصدیق
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

‫9 مئی ویڈیوز تصدیق، پشاور میں اہم سیاسی شخصیات کی موجودگی سامنے آگئی‬

پشاور میں 9 مئی کے واقعات سے متعلق ویڈیوز کی تصدیق اور تجزیے کا مرحلہ مکمل کر لیا گیا ہے، جس میں متعدد اہم سیاسی شخصیات کی ویڈیوز میں موجودگی کی تصدیق سامنے آئی ہے۔ پنجاب فرانزک سائنس لیبارٹری نے پشاور پولیس کی درخواست پر تیار کی گئی تفصیلی رپورٹ مکمل کر کے متعلقہ تھانے کو ارسال کر دی ہے، جسے قانونی کارروائی کا حصہ بنایا جا رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق پنجاب فرانزک سائنس لیبارٹری نے یہ تجزیہ پشاور پولیس کی جانب سے فراہم کردہ یو ایس بی میں موجود ویڈیوز اور آڈیو ویژول مواد کی بنیاد پر کیا۔ یہ یو ایس بی تھانا شرقی پشاور کی جانب سے بھجوائی گئی تھی، جس میں 9 مئی کے واقعات سے متعلق کل 16 ویڈیوز شامل تھیں۔ ان تمام ویڈیوز کا جدید فرانزک تکنیک کے ذریعے فریم بہ فریم تجزیہ کیا گیا تاکہ ان کی اصلیت، تسلسل اور ممکنہ ایڈیٹنگ کا تعین کیا جا سکے۔

فرانزک رپورٹ کے متن کے مطابق زیادہ تر ویڈیوز میں کسی قسم کی تکنیکی چھیڑ چھاڑ یا ایڈیٹنگ کے شواہد نہیں ملے، جس سے ان ویڈیوز کے اصل ہونے کے امکانات کو تقویت ملتی ہے۔ تاہم چند ویڈیوز میں لوگو اور تحریری مواد (ٹیکسٹ) کے اضافے کی نشاندہی کی گئی ہے، جو ممکنہ طور پر بعد ازاں شامل کیے گئے۔ رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ ان اضافوں کا مقصد ویڈیو کے بنیادی مناظر میں رد و بدل نہیں تھا بلکہ صرف شناخت یا تشریح کے لیے کیا گیا ہو سکتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی اور سیاسی رہنما عرفان سلیم سے متعلق دو ویڈیوز میں کلپس کو آپس میں جوڑنے (Splicing) کے شواہد سامنے آئے ہیں۔ تاہم فرانزک ماہرین نے اس بات کی وضاحت بھی کی ہے کہ کلپس جوڑنے کا مطلب لازمی طور پر ویڈیو کو جعلی بنانا نہیں ہوتا، بلکہ بعض اوقات مختلف زاویوں یا مناظر کو یکجا کیا جاتا ہے۔ اس پہلو کو قانونی فورم پر مزید جانچ پڑتال کے لیے چھوڑ دیا گیا ہے۔

اہم پیش رفت یہ ہے کہ رپورٹ میں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی، کامران بنگش، تیمور جھگڑا اور عرفان سلیم کی ویڈیوز میں موجودگی کی تصدیق کی گئی ہے۔ فرانزک لیبارٹری نے ان تمام شخصیات کی دستیاب پروفائل تصاویر کو ویڈیوز میں نظر آنے والے افراد سے جدید سافٹ ویئر کے ذریعے موازنہ کیا۔

رپورٹ کے مطابق سہیل آفریدی کی پروفائل تصویر اور ویڈیو میں موجود شخص کے چہرے کے خد و خال، ساخت اور دیگر بصری نشانات میں مکمل مطابقت پائی گئی، جس کے بعد یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ ویڈیو میں موجود شخص وزیراعلیٰ سہیل آفریدی ہی ہیں۔ اسی طرح عرفان سلیم کی پروفائل تصویر کو بھی ویڈیوز سے ملا کر دیکھا گیا، جس میں واضح مطابقت سامنے آئی۔

کامران بنگش سے متعلق ویڈیوز کے بارے میں رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان کی پروفائل تصویر اور ویڈیو میں موجود شخص ایک ہی قرار پائے۔ اسی طرح سابق صوبائی وزیر تیمور جھگڑا کی پروفائل تصویر اور ویڈیوز میں نظر آنے والے شخص کے درمیان بھی مطابقت کی تصدیق کی گئی ہے، جس سے ویڈیوز کی بصری شناخت مضبوط ہوئی ہے۔

فرانزک رپورٹ میں اس بات پر بھی زور دیا گیا ہے کہ تمام تجزیہ صرف اور صرف ویژول مواد تک محدود رکھا گیا ہے۔ آڈیو مواد، بیانات کے مفہوم یا کسی قسم کی نیت یا کردار کشی پر کوئی رائے قائم نہیں کی گئی۔ رپورٹ کا مقصد صرف یہ طے کرنا تھا کہ آیا ویڈیوز اصلی ہیں، ان میں ایڈیٹنگ کے شواہد موجود ہیں یا نہیں، اور ویڈیوز میں نظر آنے والے افراد کی شناخت ممکن ہے یا نہیں۔

ذرائع کے مطابق یہ رپورٹ 19 دسمبر سے 23 دسمبر 2025 کے دوران تیار کی گئی، جس میں فرانزک ماہرین، ویڈیو اینالسٹس اور تکنیکی عملے نے حصہ لیا۔ رپورٹ کو مکمل تکنیکی معیار کے مطابق مرتب کیا گیا تاکہ اسے عدالت میں بطور شواہد پیش کیا جا سکے۔

واضح رہے کہ انسداد دہشت گردی عدالت نے ریڈیو پاکستان پشاور حملہ کیس کی سماعت کے دوران پولیس سے ویڈیوز سے متعلق فرانزک رپورٹ طلب کی تھی۔ عدالت کے حکم پر پشاور پولیس نے 9 مئی کے واقعات سے متعلق دستیاب ویڈیوز کے فرانزک تجزیے کے لیے پنجاب فرانزک سائنس لیبارٹری سے رجوع کیا تھا۔

قانونی ماہرین کے مطابق فرانزک رپورٹ کسی بھی مقدمے میں فیصلہ کن ثبوت کا درجہ رکھتی ہے، تاہم حتمی فیصلہ عدالت ہی کرے گی۔ رپورٹ کی روشنی میں تفتیشی ادارے مزید قانونی کارروائی اور شواہد اکٹھے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔

دوسری جانب سیاسی حلقوں میں اس رپورٹ کے بعد مختلف ردعمل سامنے آنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ 9 مئی کے واقعات پہلے ہی سیاسی طور پر حساس معاملہ ہیں اور اس رپورٹ کے نتائج آئندہ قانونی اور سیاسی پیش رفت پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔

تاہم حکومتی اور تفتیشی ذرائع کا مؤقف ہے کہ یہ تمام کارروائی قانون کے مطابق اور عدالت کے احکامات کی روشنی میں کی جا رہی ہے، اور کسی کے ساتھ امتیازی سلوک نہیں برتا جائے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ فرانزک رپورٹ صرف تکنیکی شواہد فراہم کرتی ہے جبکہ اصل ذمہ داری عدالت پر عائد ہوتی ہے کہ وہ تمام شواہد کا جائزہ لے کر فیصلہ صادر کرے۔

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]