27 ویں آئینی ترمیم کے تحت سرکاری ملازمین کی دہری شہریت پر پابندی کی تجویز

وفاقی حکومت کی جانب سے سرکاری ملازمین کی دہری شہریت پر پابندی کی تجویز، 27 ویں آئینی ترمیم کا مسودہ۔
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

وفاقی حکومت کا فیصلہ — سرکاری ملازمین کی دہری شہریت یا ملازمت میں سے ایک کا انتخاب لازمی ہوگا

وفاقی حکومت نے 27 ویں آئینی ترمیم کے ذریعے ایک اہم آئینی تبدیلی کی تیاری شروع کر دی ہے جس کے تحت سرکاری ملازمین کی دہری شہریت پر پابندی عائد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق، ترمیم کے بعد تمام سرکاری ملازمین کو یا تو اپنی غیر ملکی شہریت ترک کرنی ہوگی یا پھر سرکاری ملازمت چھوڑنی ہوگی۔

وزیراعظم شہباز شریف سے ایم کیو ایم وفد کی ملاقات، 27ویں آئینی ترمیم پر مشاورت

دہری شہریت اور سرکاری عہدہ — ایک ساتھ ممکن نہیں

حکومت کا مؤقف ہے کہ اگر پبلک آفس ہولڈر (ارکانِ پارلیمنٹ، وزراء وغیرہ) دہری شہریت نہیں رکھ سکتے تو پھر سول سرونٹس کو بھی اس کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔
ذرائع نے بتایا کہ مجوزہ ترمیم آئین کے آرٹیکل 63 (1)(C) کی بنیاد پر لائی جا رہی ہے، جس کے مطابق دہری شہریت رکھنے والا شخص پارلیمنٹ کا رکن نہیں بن سکتا۔

اسی طرز پر حکومت اب ایک نیا آرٹیکل شامل کرنے جا رہی ہے جس کے تحت سرکاری ملازمین کی دہری شہریت کے معاملے میں بھی واضح آئینی قدغن لگائی جائے گی۔

27 ویں آئینی ترمیم کی اہم نکات

ذرائع کے مطابق 27 ویں آئینی ترمیم صرف دہری شہریت تک محدود نہیں ہوگی بلکہ اس میں کئی دیگر اہم ترامیم بھی شامل ہیں۔
ان میں سے چند درج ذیل ہیں:

  1. آرٹیکل 243 میں ترمیم:
    اس ترمیم کے ذریعے آرمی چیف کو فیلڈ مارشل کے عہدے کو آئینی حیثیت دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
  2. آئینی عدالتوں کا قیام:
    مجوزہ ترمیم میں آئینی عدالتوں کے قیام کی شق شامل کرنے پر بھی غور جاری ہے تاکہ عدالتی نظام کو مزید مستحکم بنایا جا سکے۔
  3. ایگزیکٹو مجسٹریسی اختیارات:
    ضلعی سطح پر ایگزیکٹو مجسٹریٹس کو دوبارہ فعال کرنے کا منصوبہ بھی اس ترمیم کا حصہ ہے۔
  4. یکساں نصاب تعلیم:
    ملک بھر میں ایک ہی نصاب رائج کرنے کے معاملے کو بھی 27 ویں آئینی ترمیم میں شامل کیا جا رہا ہے۔

پیپلز پارٹی اور اتحادی جماعتوں کا ردِعمل

ذرائع کے مطابق، پیپلز پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس میں اس مجوزہ ترمیم پر تفصیلی غور جاری ہے۔
پارٹی کے بیشتر اراکین نے سرکاری ملازمین کی دہری شہریت پر پابندی کی حمایت کی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر عوامی نمائندے دہری شہریت نہیں رکھ سکتے تو سرکاری افسران کو بھی یہی اصول اپنانا چاہیے۔

تاہم پارٹی کے چند اراکین نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت کو ایسے سرکاری افسران کو ایک مناسب مہلت دینی چاہیے تاکہ وہ اپنے فیصلے پر عمل درآمد کر سکیں۔

حکومت کا موقف — وفاداری صرف ایک ریاست سے ہونی چاہیے

وفاقی حکومت کے قریبی ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے واضح کیا ہے کہ ریاستی وفاداری میں کسی بھی طرح کا ابہام نہیں ہونا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ

کوئی شخص بیک وقت دو ریاستوں کا شہری ہو کر پاکستان کے قومی مفاد میں مکمل طور پر وفادار نہیں رہ سکتا۔ لہٰذا سرکاری ملازمین کی دہری شہریت کی اجازت قومی سلامتی کے تقاضوں کے منافی ہے۔

قانونی ماہرین کی رائے

قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ترمیم پاکستان کے آئین میں ایک اہم پیش رفت ہوگی۔
سابق اٹارنی جنرل انور منصور خان نے کہا:

“اگر پارلیمنٹ کے ارکان دہری شہریت نہیں رکھ سکتے تو بیوروکریٹس کے لیے بھی یہی اصول منصفانہ ہے۔ البتہ اس فیصلے کے نفاذ کے لیے واضح طریقہ کار طے کرنا ضروری ہوگا تاکہ کسی کی نوکری اچانک متاثر نہ ہو۔”

دہری شہریت رکھنے والے سرکاری ملازمین کی تعداد

ذرائع کے مطابق ملک کے مختلف اداروں میں سینکڑوں ایسے افسران ہیں جو دہری شہریت رکھتے ہیں۔
ان میں سے زیادہ تر کے پاس برطانیہ، کینیڈا، امریکا، اور آسٹریلیا کی شہریت ہے۔
اگر سرکاری ملازمین کی دہری شہریت پر پابندی عائد کر دی گئی تو انہیں فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ پاکستان کی ملازمت رکھنا چاہتے ہیں یا غیر ملکی شہریت۔

ترمیم کی منظوری کا وقت

ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت 27 ویں آئینی ترمیم کا مسودہ تیار کر چکی ہے اور امکان ہے کہ اسے آئندہ ہفتے قومی اسمبلی میں پیش کر کے منظوری حاصل کر لی جائے گی۔
اس کے بعد یہ بل سینیٹ میں بھی پیش کیا جائے گا۔

دہری شہریت کا معاملہ — پس منظر

پاکستان میں دہری شہریت کا معاملہ کئی برسوں سے زیرِ بحث ہے۔
2012 میں سپریم کورٹ نے متعدد ارکانِ اسمبلی کو دہری شہریت رکھنے پر نااہل قرار دیا تھا۔
اس فیصلے کے بعد آئین میں آرٹیکل 63 (1)(C) شامل کیا گیا تاکہ عوامی نمائندوں کے لیے دہری شہریت پر پابندی کو آئینی حیثیت دی جا سکے۔
اب حکومت اسی اصول کو سرکاری افسران تک توسیع دینے جا رہی ہے۔

عوامی رائے

سوشل میڈیا پر اس مجوزہ ترمیم پر ملا جلا ردعمل سامنے آ رہا ہے۔
کئی صارفین نے حکومت کے فیصلے کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ “وفاداری کا معیار سب کے لیے ایک ہونا چاہیے۔”
جبکہ کچھ صارفین نے خدشہ ظاہر کیا کہ اس قانون سے اہل اور تجربہ کار پاکستانی نژاد افراد واپس پاکستان میں سرکاری خدمات انجام دینے سے ہچکچائیں گے۔

ماہرین کی تجویز

پالیسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر حکومت واقعی سرکاری ملازمین کی دہری شہریت پر قدغن لگانا چاہتی ہے تو اسے ایسا نظام بھی متعارف کرانا ہوگا جو بیرون ملک پاکستانیوں کو واپس آنے پر سہولت فراہم کرے۔

وفاقی کابینہ کا اجلاس ملتوی، 27ویں آئینی ترمیم کی منظوری مؤخر

27 ویں آئینی ترمیم کے تحت آنے والی مجوزہ شقوں نے سیاسی اور انتظامی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
اگر یہ ترمیم منظور ہو گئی تو پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار سرکاری ملازمین کے لیے دہری شہریت پر آئینی سطح پر پابندی عائد ہو جائے گی ایک ایسا قدم جو قومی مفاد اور ریاستی وفاداری کے اصول کو مزید مضبوط کرے گا۔

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]