تحریک تحفظ آئین پاکستان کا 27ویں ترمیم مسترد کرنے کا اعلان، 21 نومبر کو یومِ سیاہ منانے کا فیصلہ

تحریک تحفظ آئین پاکستان کا 27ویں ترمیم مسترد
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

تحریک تحفظ آئین پاکستان کا 27ویں ترمیم مسترد کرنے کا اعلان، 21 نومبر کو یومِ سیاہ منانے کا فیصلہ اور 17 نومبر کو متحدہ اپوزیشن کی جانب سے پارلیمنٹ سے سپریم کورٹ تک واک کا شیڈول جاری

اسلام آباد (رئیس الاخبار) :— تحریک تحفظ آئین پاکستان نے 27ویں آئینی ترمیم کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے ملک بھر میں احتجاجی مہم کا اعلان کردیا ہے۔ تحریک نے 21 نومبر کو یومِ سیاہ منانے کا فیصلہ اور 17 نومبر کو متحدہ اپوزیشن کی جانب سے پارلیمنٹ سے سپریم کورٹ تک واک کا شیڈول جاری کردیا۔

اسلام آباد میں محمود خان اچکزئی کی زیرِ صدارت ہونے والے ہنگامی اجلاس میں اپوزیشن جماعتوں کے اہم رہنماؤں نے شرکت کی، جن میں بیرسٹر گوہر، اسد قیصر، سلمان اکرم راجا، اختر مینگل، شاہد خاقان عباسی، مصطفیٰ کھوکھر، ساجد ترین، علامہ ناصر اور دیگر شامل تھے۔

حکومت نے آئین کا بنیادی ڈھانچہ تباہ کیا: اعلامیہ

اجلاس کے بعد جاری اعلامیے میں کہا گیا کہ:

27ویں آئینی ترمیم نے آئین کا بنیادی ڈھانچہ تباہ کردیا ہے

متنازع ترامیم سے سپریم کورٹ کا اختیار اور وجود محدود کردیا گیا

عدلیہ کو انتظامیہ کے ماتحت کرنے کی کوشش کی گئی ہے

ججز کے استعفے آئینی مزاحمت کی علامت ہیں

تحریک نے مطالبہ کیا کہ آئین کو اصل حالت میں بحال کیا جائے اور متنازع ترمیم کو فی الفور واپس لیا جائے۔

ملک گیر احتجاجی شیڈول

تحریک تحفظ آئین پاکستان کا 27ویں ترمیم مسترد کرتے ہوئے عوامی اور سیاسی مزاحمت کے لیے احتجاجی شیڈول بھی جاری کردیا:

17 نومبر: متحدہ اپوزیشن کی پارلیمنٹ سے سپریم کورٹ تک واک

صدرِ آصف علی زرداری اور تاجکستان کے وزیر دفاع کی ملاقات
اسلام آباد میں صدر زرداری اور تاجک وزیر دفاع کے درمیان دفاعی اور تجارتی تعاون پر تبادلہ خیال

21 نومبر: ملک بھر میں یومِ سیاہ منایا جائے گا

خیبر پختونخوا اسمبلی میں آئینی ترمیم کے خلاف قرارداد بھی پیش کی جائے گی

اعلامیے میں کہا گیا کہ تحریک بحالیِ آئین کے لیے جدوجہد جاری رکھے گی اور اپوزیشن جماعتیں اس معاملے پر مکمل اتفاقِ رائے رکھتی ہیں۔

 
[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]