مدینہ سے مکہ بس حادثہ: عمرہ زائرین کی بس ٹینکر سے ٹکرا گئی، 42 ہلاکتیں
مدینہ سے مکہ بس حادثہ – ایک دل خراش المیہ
سعودی عرب میں پیش آنے والا مدینہ سے مکہ بس حادثہ ایک انتہائی افسوسناک واقعہ ہے جس نے پوری مسلم دنیا کو سوگوار کردیا۔ عمرہ کی ادائیگی کے لیے سعودی عرب میں موجود بھارتی زائرین کی ایک بس ڈیزل کے ٹینکر سے ٹکرا گئی جس کے نتیجے میں کم از کم 42 افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہوئے۔ یہ حادثہ نہ صرف جانی نقصان کا باعث بنا بلکہ عمرہ زائرین کے خاندانوں کو شدید صدمہ پہنچا۔
حادثے کی ابتدائی تفصیلات
مقامی حکام کے مطابق یہ بس مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کی جانب سفر پر تھی جب راستے میں سامنے سے آنے والے ڈیزل ٹینکر سے خوفناک تصادم ہوا۔ تصادم اتنا شدید تھا کہ بس میں آگ بھڑک اٹھی، جس کی وجہ سے زیادہ تر مسافر موقع پر ہی دم توڑ گئے۔ مدینہ سے مکہ بس حادثہ کی تصاویر اور ویڈیوز نے واقعے کی شدت کو مزید واضح کردیا۔
مسافروں کا تعلق ہندوستان سے
حکام کے مطابق بس میں موجود اکثر زائرین کا تعلق بھارت سے تھا اور ان میں بڑی تعداد حیدرآباد کے باشندوں کی تھی۔ یہ افراد کئی سالوں کی خواہش پوری کرنے کے لیے عمرہ کی ادائیگی پر آئے تھے، مگر تقدیر نے انہیں ایک المناک حادثہ سے دوچار کردیا۔
ریسکیو ٹیموں کی بروقت کارروائی
حادثے کی اطلاع ملتے ہی مقامی پولیس، ہنگامی تیمیں اور سول ڈیفنس کے اہلکار جائے وقوعہ پر پہنچ گئے۔ زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا جبکہ جائے حادثہ پر ٹریفک کو کنٹرول کرنے کے لیے خصوصی اقدامات کیے گئے۔ سعودی حکام کے مطابق مدینہ سے مکہ بس حادثہ میں تیز رفتار، ڈیزل لیکیج یا بریک فیل ہونے جیسے عوامل بھی شامل ہوسکتے ہیں، تاہم حتمی رپورٹ بعد میں جاری ہوگی۔
متاثرین کے لیے کنٹرول روم کا قیام
بھارتی حکام نے فوری طور پر اپنے شہریوں کو معلومات فراہم کرنے کے لیے جدہ میں 24/7 کنٹرول روم قائم کردیا۔ اس کنٹرول روم کا مقصد حادثے میں جاں بحق اور زخمی ہونے والوں کے اہل خانہ تک درست معلومات پہنچانا ہے۔
زخمیوں کی حالت اور علاج
زخمی مسافروں کو مختلف اسپتالوں میں منتقل کیا گیا جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ اسپتال کے حکام کا کہنا ہے کہ بعض زخمیوں کی حالت تشویشناک ہے۔ سعودی حکومت اور بھارتی سفارت خانے نے مشترکہ طور پر متاثرین کے علاج اور شناخت کے عمل کو تیز کرنے کے احکامات دیے ہیں۔
عمرہ زائرین کے ساتھ پیش آنے والے حادثات – ایک جائزہ
گزشتہ کئی برسوں میں عمرہ یا حج کے دوران ٹریفک حادثات کی شرح میں اضافہ ہوا ہے۔ مدینہ سے مکہ بس حادثہ جیسے واقعات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بڑی تعداد میں زائرین کی نقل و حرکت، ٹریفک دباؤ اور بعض اوقات حفاظتی اقدامات کی کمی حادثات کا موجب بنتی ہے۔
مسلم دنیا کا اظہار افسوس
حادثے کے بعد سوشل میڈیا پر افسوس کے پیغامات کا سلسلہ جاری ہے۔ مختلف مسلم ممالک کے رہنماؤں نے مدینہ سے مکہ بس حادثہ پر گہرے دکھ کا اظہار کیا اور متاثرہ خاندانوں کے ساتھ تعزیت کی۔
غزہ اسپتال ملبہ سے 35 لاشیں برآمد، اسرائیلی حملے جنگ بندی کے باوجود جاری
یہ واقعہ دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے ایک بڑا المیہ ہے، خصوصاً اُن خاندانوں کے لیے جن کے پیارے مدینہ سے مکہ بس حادثہ میں جان سے گئے۔ امید کی جاتی ہے کہ سعودی حکام مستقبل میں ایسے حادثات سے بچنے کے لیے مزید سخت حفاظتی اقدامات کریں گے۔
One Response