بابر اعظم پر آئی سی سی جرمانہ: واقعہ، سزا اور مکمل پس منظر
آئی سی سی کی جانب سے بابر اعظم پر جرمانہ — کیا ہوا، کیوں ہوا اور آگے کیا ہوگا؟
قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور اسٹار بیٹر بابر اعظم ہمیشہ اپنی بیٹنگ کے معیار، کلاس اور عمدہ کارکردگی کی وجہ سے روشناس رہتے ہیں۔ تاہم سری لنکا کے خلاف تیسرے ایک روزہ میچ میں ہونے والے ایک ناخوشگوار لمحے نے انہیں مشکل میں ڈال دیا، جس کے نتیجے میں بابر اعظم پر آئی سی سی جرمانہ عائد کردیا گیا۔ آئی سی سی کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف ورزی کے باعث نہ صرف مالی جرمانہ ہوا بلکہ ایک ڈی میرٹ پوائنٹ بھی شامل کردیا گیا۔
اس تفصیلی رپورٹ میں ہم جانیں گے کہ پورا واقعہ کیا تھا، بابر اعظم نے کیا ردعمل دیا، آئی سی سی کا قانون کیا کہتا ہے اور اس جرمانے کے مستقبل میں کیا اثرات ہوسکتے ہیں۔
بابر اعظم پر آئی سی سی جرمانہ کیوں عائد ہوا؟
آئی سی سی کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق بابر اعظم تیسرے ایک روزہ میچ کے 21 ویں اوور میں آؤٹ ہونے کے بعد جذبات پر قابو نہ رکھ سکے اور بیٹ سے اسٹمپس پر ضرب لگائی۔ یہ عمل آئی سی سی کوڈ آف کنڈکٹ کے آرٹیکل 2.2 کی خلاف ورزی ہے، جس کے مطابق کھلاڑی فیلڈ یا اس کے سامان کو نقصان نہیں پہنچا سکتے۔
یہی وجہ تھی کہ بابر اعظم پر آئی سی سی جرمانہ لگایا گیا اور اسے کوڈ آف کنڈکٹ کی لیول ون خلاف ورزی قرار دیا گیا۔
آئی سی سی کوڈ آف کنڈکٹ لیول ون کی وضاحت
آئی سی سی کوڈ آف کنڈکٹ میں لیول ون خلاف ورزی نسبتاً معمولی لیکن قابلِ سزا سمجھی جاتی ہے۔ عام طور پر درج ذیل سزائیں دی جاتی ہیں:
- میچ فیس کا 10 سے 20 فیصد جرمانہ
- 1 یا 2 ڈی میرٹ پوائنٹس
- باقاعدہ سماعت کی ضرورت نہیں ہوتی اگر کھلاڑی جرم کا اعتراف کرلے
بابر اعظم نے اسی ضابطے کے تحت جرمانہ قبول کیا۔
جرمانے کی تفصیلات — بابر اعظم کو کیا سزا ملی؟
جرمانے کی نوعیت کچھ یوں ہے:
- میچ فیس کا 10 فیصد جرمانہ
- ایک ڈی میرٹ پوائنٹ
- مزید سماعت کی ضرورت نہیں پڑی کیونکہ بابر اعظم نے فوراً ذمہ داری قبول کرلی
اس واقعے کے بعد بابر اعظم پر آئی سی سی جرمانہ سوشل میڈیا، شائقین اور کرکٹ حلقوں میں موضوعِ بحث بن گیا۔
بابر اعظم کا ردِعمل — کیا کہا؟
باوثوق ذرائع کے مطابق بابر اعظم نے بغیر کسی بحث کے اپنی غلطی کا اعتراف کیا اور ریفری علی نقوی کی تجویز کردہ سزا قبول کرلی۔ یہ عمل ان کی اسپورٹس مین اسپرٹ اور پیشہ ورانہ رویے کی عکاسی کرتا ہے۔
پاکستان کے کئی کھلاڑیوں نے بھی ذکر کیا کہ بابر اعظم انتہائی نرم مزاج کھلاڑی ہیں اور شاید جذباتی لمحے نے انہیں بے قابو کردیا۔
ڈی میرٹ پوائنٹس کیا ہوتے ہیں اور بابر پر کیا اثر پڑے گا؟
آئی سی سی پلیئرز کے خلاف نظم و ضبط برقرار رکھنے کیلئے ڈی میرٹ پوائنٹس کا نظام رکھتا ہے۔
- 24 ماہ میں 4 ڈی میرٹ پوائنٹس ہونے پر ایک میچ کی پابندی
- 8 پوائنٹس پر دو میچوں کی پابندی
بابر اعظم کے موجودہ پوائنٹس کم ہیں، لہٰذا فوری طور پر کوئی بڑی پابندی کا خطرہ نہیں، لیکن یہ واقعہ ریکارڈ کا حصہ رہتا ہے۔
میچ کے دوران پیش آنے والا اصل منظر
21 واں اوور جاری تھا، بابر اعظم نے ایک بولڈ گیند پر غلط اندازہ لگایا اور اپنی وکٹ گنوا بیٹھے۔ چونکہ وہ اہم موقع پر آؤٹ ہوئے تھے، اس لیے ناراضگی کے تحت انہوں نے بیٹ سے اسٹمپس پر ضرب لگائی۔ کیمرے نے اس لمحے کو واضح طور پر دکھایا — جو بعد میں میچ آفیشلز نے رپورٹ کیا۔
یہی لمحہ وہ بنیاد بنا جس پر بابر اعظم پر آئی سی سی جرمانہ عائد کیا گیا۔
کیا بابر اعظم پہلے بھی کوڈ کی خلاف ورزی کر چکے ہیں؟
بابر اعظم قبل ازیں بھی چند معمولی سطح کے مسائل میں ملوث رہے ہیں لیکن ان کا ریکارڈ مجموعی طور پر انتہائی صاف ہے۔
یہ ڈی میرٹ پوائنٹ مستقل تو رہتا ہے، مگر 24 ماہ کے بعد خود بخود ختم بھی ہوجاتا ہے۔
پاکستانی شائقین اور ماہرین کی رائے
کوچز اور سابق کرکٹرز نے کہا کہ:
- بابر جذباتی انسان نہیں، یہ صرف ایک حادثاتی ردعمل تھا
- بڑے کھلاڑیوں سے بھی ایسے غلط لمحے ہو جاتے ہیں
- اہم بات یہ ہے کہ بابر نے سزا قبول کرکے مثال قائم کی
کرکٹ ماہرین کا ماننا ہے کہ بابر اعظم پر آئی سی سی جرمانہ اگرچہ تکنیکی طور پر درست ہے، مگر کھلاڑیوں کی ذہنی دباؤ کو بھی سمجھنا چاہیے۔
جرمانے کا مستقبل میں اثر — کیا خدشات ہیں؟
فی الحال پابندی یا کسی بڑی کارروائی کا خطرہ نہیں۔
تاہم اگر مستقبل میں مزید ڈی میرٹ پوائنٹس جمع ہوئے تو:
- میچ پابندی لگ سکتی ہے
- ان کی کپتانی یا ٹیم پوزیشن پر پابندیاں اثر انداز ہو سکتی ہیں
لیکن شائقین پر امید ہیں کہ بابر آئندہ ایسا کوئی قدم نہیں اٹھائیں گے۔
بابر اعظم نے ذمہ داری قبول کرکے معاملہ ختم کردیا
اس واقعے نے یہ ثابت کیا کہ بابر اعظم نہ صرف پاکستان کے بڑے بیٹر ہیں بلکہ ایک ذمہ دار پروفیشنل بھی ہیں۔
بابر اعظم پر آئی سی سی جرمانہ اگرچہ قواعد کے مطابق تھا، مگر ان کے رویے نے سب کو مطمئن کیا کہ انہوں نے بلا جھجھک سزا قبول کی۔
تحریر کا خلاصہ یہ ہے کہ:
- بابر اعظم سے جذباتی غلطی ہوئی
- آئی سی سی نے اپنے اصولوں کے مطابق کارروائی کی
- بابر نے تقریر کے بغیر سزا قبول کی
- ایک ڈی میرٹ پوائنٹ شامل ہوگیا
- مستقبل میں کوئی بڑا اثر نہیں پڑے گا
یہ پورا معاملہ کھیل کے ضابطوں اور پیشہ ورانہ اخلاقیات کو بہتر بنانے کی ایک مثال ہے۔
تین ملکی ٹی20 سیریز ٹرافی کی رونمائی، پاک بمقابلہ زمبابوے پہلا میچ کل راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم میں
One Response