دہی کھانے کے نقصانات کیا واقعی دہی ہر کسی کے لیے مفید ہے؟
دہی کو ہمیشہ ایک صحت مند غذا کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ بڑے بوڑھے اسے روزمرہ کھانے کا لازمی حصہ سمجھتے ہیں، ماہرین اسے پروبائیوٹکس کا خزانہ کہتے ہیں، اور گھروں میں یہ سالن، سالن کے ساتھ، لوکیشن، یا سادہ ہی کھایا جاتا ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا دہی ہمیشہ فائدہ ہی دیتی ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ دہی کھانے کے نقصانات بھی موجود ہیں—اور بعض اوقات یہ نقصان فائدے سے زیادہ بڑھ جاتے ہیں۔
زیادہ تر لوگ دہی کو ہر موسم، ہر وقت اور ہر حالت میں کھاتے ہیں، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ غلط وقت پر یا غلط مقدار میں دہی کھانے سے صحت کے لیے سنگین نتائج سامنے آسکتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق "دوائی بھی اگر ضرورت سے زیادہ لی جائے تو نقصان دیتی ہے”، اسی طرح دہی بھی اعتدال میں نہ کھائی جائے تو جسم پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
آئیے جانتے ہیں کہ دہی کھانے کے نقصانات کون کون سے ہیں، کس وقت دہی کھانا صحیح ہے اور کن افراد کو اس کا استعمال محدود کرنا چاہیے۔
1 — نظامِ ہاضمہ بگڑ جانا
عام طور پر لوگ سمجھتے ہیں کہ دہی ہاضمہ بہتر کرتی ہے، اور یقینا یہ حقیقت ہے—but only to some extent!
مگر ضرورت سے زیادہ یا غلط وقت پر دہی کا استعمال ہاضمہ خراب بھی کر سکتا ہے۔
جن افراد کا ہاضمہ کمزور ہو
جنہیں لیکٹوز انٹالرنس ہو
جنہیں آنتوں کا مسئلہ ہو
IBS جیسی بیماری ہو
ان کے لیے دہی فائدے کی بجائے نقصان کا سبب بنتی ہے۔
ماہرین نے واضح کیا ہے کہ دہی میں موجود لائیو بیکٹیریا بعض افراد میں معدے کا توازن بگاڑ دیتے ہیں۔ اسی وجہ سے پیٹ میں گیس، اپھارہ، بدہضمی اور درد کی کیفیت پیدا ہو سکتی ہے۔
یہ مسئلہ بالخصوص رات کے وقت دہی کھانے والوں میں زیادہ دیکھا جاتا ہے۔
اسی لیے ماہرین کی رائے ہے کہ دہی کھانے کے نقصانات ان لوگوں میں زیادہ سامنے آتے ہیں جو اسے روٹین سے بڑھ کر استعمال کرتے ہیں۔
2 — بلغم میں اضافہ اور سانس کے مسائل
یہ ایک بہت اہم نکتہ ہے، خاص طور پر اُن لوگوں کے لیے جو پہلے ہی سانس یا الرجی کے مسائل کا شکار ہیں۔
دہی ایک Cooling Food ہے، یعنی جسم میں ٹھنڈک پیدا کرتی ہے۔ اسی وجہ سے:
نزلہ
زکام
گلے میں خراش
سینے میں بلغم
دمہ
کی علامات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
رات کے وقت ٹھنڈی دہی کھانا تو بالکل بھی مناسب نہیں۔
یہی وجہ ہے کہ ماہرین نے بارہا اس بات پر زور دیا ہے کہ دہی کھانے کے نقصانات ان افراد میں زیادہ دیکھے جاتے ہیں جو پہلے سے سانس کی بیماریوں میں مبتلا ہوں۔
3 — وزن میں اضافہ
یہ بات عام طور پر کم لوگ جانتے ہیں کہ دہی بھی وزن بڑھا سکتی ہے۔ حیران کن مگر سچ!
بازار کی دہی میں:
اضافی چکنائی
کریم
تھکنر
مصنوعی مٹھاس
شامل ہوتی ہے، جو وزن بڑھانے کا بڑا سبب ہے۔
خاص طور پر:
ملاوٹی دہی
بیسن والی گاڑھی دہی
مٹھاس والی دہی
کریم والی دہی
روزانہ کھائی جائے تو جسم کی کیلوریز تیزی سے بڑھنے لگتی ہیں۔
ماہرین کے مطابق:
’’زیادہ مقدار میں دہی کھانے کے نقصانات میں سب سے نمایاں نقصان وزن میں غیر متوقع اضافہ ہے۔‘‘
بلکہ یہ کولیسٹرول بڑھانے کا بھی سبب بنتی ہے۔
4 — جوڑوں کے درد اور سوزش میں اضافہ
دہی فطری طور پر تیزابی (Acidic) خصوصیت رکھتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ:
جوڑوں کے درد
گھٹنوں کی سوزش
ٹانگوں اور بازوؤں کے درد
میں بڑھاؤ پیدا کر سکتی ہے۔
وہ افراد جو پہلے ہی:
آرتھرائٹس
یورک ایسڈ
گٹھیا
جیسی بیماریوں میں مبتلا ہوں، ان کے لیے دہی کا زیادہ استعمال تکلیف میں اضافے کا باعث بن سکتا ہے۔
بعض طبی ماہرین تو یہاں تک کہتے ہیں کہ دہی جسم میں toxins buildup میں اضافہ کرتی ہے، جس سے درد کی شدت بڑھ سکتی ہے۔
اسی لیے یہ بھی دہی کھانے کے نقصانات میں شامل ہے۔
دہی کھانے کا صحیح طریقہ — کیسے کھائیں کہ فائدہ ہی فائدہ ہو؟
دن کے وقت کھائیں، رات میں نہیں
رات کے وقت جسم کا نظامِ ہاضمہ سست ہوتا ہے۔
اسی لیے رات کو کھائی گئی دہی نقصان دیتی ہے۔
دوپہر کے کھانے کے ساتھ بہترین ہے
یہ وقت جسمانی نظام مکمل فعال ہوتا ہے۔
ٹھنڈی دہی نہ کھائیں
خاص طور پر سرد موسم میں۔
مقدار اعتدال میں رکھیں
زیادہ کھانا نقصان دہ ہے۔
ملاوٹی یا کریم والی دہی سے پرہیز کریں
اگر آپ اس طرح استعمال کریں گے تو دہی کھانے کے نقصانات خودبخود ختم ہونے لگیں گے اور دہی فائدے دینے لگے گی۔
کینو کے فوائد موسم سرما میں صحت کے لیے حیرت انگیز پھل
آخر میں — کیا دہی چھوڑ دینی چاہیے؟
نہیں، بالکل نہیں۔
دہی ایک بہترین غذا ہے، لیکن ہر چیز کے استعمال کا ایک توازن ہوتا ہے۔
اگر آپ:
دوپہر کے وقت
اعتدال میں
بغیر چینی اور بغیر کریم والی دہی
کھاتے ہیں تو دہی بےشمار فائدے دیتی ہے۔
مگر اگر غلط وقت، غلط مقدار اور غلط جسمانی حالت میں کھائیں گے تو دہی کھانے کے نقصانات کا سامنا ضرور کرنا پڑے گا۔