ثانیہ مرزا کا اعتراف: بیٹے کی تنہا پرورش ایک بہت مشکل کام ہے

بیٹے کی تنہا پرورش ایک مشکل کام ہے
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

تنہا پرورش مشکل کام ہے کیونکہ ہمارے پاس مختلف ذمہ داریاں بھی ہیں، ثانیہ مرزا نے بیٹے کو چھوڑ کر سفر کرنے کو سب سے بڑا چیلنج قرار دیا

عالمی شہرت یافتہ ٹینس سٹار اور بھارتی کھیل کی دنیا کا ایک بڑا نام، ثانیہ مرزا نے اپنی نجی زندگی کے ایک انتہائی اہم اور مشکل پہلو، یعنی اپنے بیٹے اذہان کی تنہا پرورش (Single Parenting) کے بارے میں کھل کر بات کی ہے۔ شعیب ملک سے طلاق کے بعد، ثانیہ مرزا کو اپنے کیریئر کے ساتھ ساتھ اپنے بیٹے کی مکمل ذمہ داری بھی سنبھالنی پڑی ہے، اور انہوں نے اعتراف کیا ہے کہ یہ ایک بہت مشکل کام ہے۔

کرن جوہر کے ساتھ انٹرویو میں اعتراف

ثانیہ مرزا نے حال ہی میں بالی وڈ کے مشہور ہدایتکار اور پروڈیوسر کرن جوہر کے ساتھ ایک ٹی وی انٹرویو میں شرکت کی، جہاں انہوں نے خود میزبان کی نشست سنبھالی اور کرن جوہر سے سنگل پیرنٹنگ سمیت مختلف موضوعات پر سوالات کیے۔ اسی گفتگو کے دوران، ثانیہ نے اپنے ذاتی تجربات کا بھی ذکر کیا۔

تنہا پرورش کے حوالے سے ایک سوال کے دوران، ثانیہ مرزا نے اعتراف کیا کہ "بیٹے کی تنہا پرورش ایک مشکل کام ہے کیوں کہ ہم کام کرتے ہیں لہٰذا ہم پر مختلف ذمہ داریاں بھی ہیں۔” ان کا اشارہ واضح تھا کہ ایک پیشہ ورانہ کیریئر اور ماں کی ذمہ داریوں کو اکیلے سنبھالنا ایک بہت بڑا چیلنج ہے۔

دبئی سے سفر اور سب سے بڑا چیلنج

ثانیہ مرزا نے خاص طور پر اس مشکل کی وضاحت کی جو انہیں اپنے کام کی نوعیت کی وجہ سے درپیش آتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ "میں دبئی میں رہتی ہوں اور بیٹے کو وہاں چھوڑ کر ہفتے بھر کیلئے کہیں سفر کرنا میرے لیے سب سے بڑا چیلنج ہے کیوں کہ میں اس کو دیکھ نہیں سکتی۔”

ایک کامیاب کھلاڑی اور ایک عوامی شخصیت ہونے کے ناطے، ثانیہ کو اکثر کام کے سلسلے میں سفر کرنا پڑتا ہے۔ بچے سے دوری اور یہ فکر کہ وہ کس حال میں ہوگا، ایک ایسی ماں کے لیے سب سے زیادہ تکلیف دہ لمحہ ہوتا ہے جو اکیلے اپنے بچے کی تنہا پرورش کر رہی ہو۔ ان کا یہ کہنا کہ سفر سب سے بڑا چیلنج ہے، اس بات کی گہرائی کو بیان کرتا ہے کہ وہ ایک ماں کے طور پر کتنی حساس ہیں۔

والدہ ایک رحمت کی صورت میں

ثانیہ مرزا نے اس مشکل صورتحال میں اپنی والدہ کے تعاون کو ایک "رحمت” قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ "میری والدہ میرے لیے رحمت ہیں کیوں کہ وہ میرے بیٹے کے ساتھ ہوتی ہیں، دوسری جانب باقی سب ٹھیک ہے۔”

ماں کا تعاون ثانیہ کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ اپنے پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کو نبھا سکیں۔ اگرچہ ثانیہ بیٹے کی تنہا پرورش کر رہی ہیں، لیکن خاندان کا مضبوط سہارا انہیں اس بڑے چیلنج کو زیادہ آسانی سے سنبھالنے میں مدد دیتا ہے۔ ان کی والدہ کا ان کے بیٹے کے ساتھ ہونا ثانیہ کے لیے ذہنی سکون کا باعث بنتا ہے۔

ذاتی زندگی پر تنہا پرورش کے اثرات

ثانیہ نے بیٹے کی تنہا پرورش کے اپنے طرز زندگی پر پڑنے والے غیر متوقع اثرات کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ "میں نے کئی بار رات کا کھانا چھوڑ دیا کیوں کہ میں اکیلے کھانا نہیں کھا سکتی۔” یہ ایک جذباتی پہلو ہے جو ظاہر کرتا ہے کہ اپنے بیٹے کے ساتھ وقت نہ گزارنے کا احساس انہیں اس حد تک متاثر کرتا ہے کہ وہ کھانا بھی اکیلے نہیں کھا پاتیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ انہوں نے کہا کہ اس صورتحال نے انہیں اپنا وزن کم کرنے میں بھی مدد کی۔ اگرچہ یہ بظاہر ایک مثبت نکتہ ہے، لیکن یہ درحقیقت اس ذہنی دباؤ اور جذباتی چیلنج کی نشاندہی کرتا ہے جو تنہا پرورش سے گزرنے والی مائیں محسوس کرتی ہیں۔

شعیب ملک اور ثنا جاوید کی طلاق اور اختلافات کی خبریں، شعیب ملک کی وضاحت

طلاق اور تنہا پرورش کا آغاز

یہاں واضح رہے کہ ٹینس کی عالمی سٹار ثانیہ مرزا اور پاکستانی کرکٹر شعیب ملک کے درمیان 2024 میں طلاق ہوگئی تھی۔ دونوں کا ایک بیٹا ہے، جس کا نام اذہان مرزا ملک ہے۔ طلاق کے بعد ہی ثانیہ نے باضابطہ طور پر اپنے بیٹے کی تنہا پرورش کا سفر شروع کیا، جو ان کے کیریئر کی دوسری اننگز کی طرح ہی مشکل اور صبر آزما ہے۔ ان کی جدوجہد دنیا بھر کی ان تمام خواتین کے لیے ایک مثال ہے جو اکیلے اپنے بچوں کی بہترین تربیت کے لیے کوشاں ہیں۔

متعلقہ خبریں

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]