فیصل آباد میں کیمیکل فیکٹری کا بوائلر پھٹ گیا، 17 جاں بحق — بچوں اور خواتین کی چیخوں سے علاقہ گونج اٹھا، جبکہ 20 سے زائد افراد زخمی
فیصل آباد (رئیس الاخبار) :— فیصل آباد کے علاقے ملک پور میں واقع ایک کیمیکل فیکٹری میں بوائلر پھٹنے سے خوفناک دھماکہ ہوا جس کے نتیجے میں چار بچوں اور خواتین سمیت 17 افراد جاں بحق جبکہ 20 سے زائد افراد زخمی ہوگئے۔ دھماکے کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ قریبی 9 گھروں کی چھتیں زمین بوس ہوگئیں اور پورے علاقے میں افراتفری مچ گئی۔
عینی شاہدین کے مطابق دھماکے کے بعد فیکٹری کے اندر اور باہر آگ بھڑک اٹھی جبکہ دھواں دور دور تک دیکھنے میں آ رہا تھا۔ مقامی رہائشیوں نے بتایا کہ دھماکے کے بعد کئی گھروں میں دراڑیں پڑ گئیں اور لوگ خوف میں گھروں سے باہر نکل آئے۔
ریسکیو آپریشن — لاشیں اور زخمی ملبے سے نکالے گئے
ریسکیو 1122 اور امدادی اداروں نے موقع پر پہنچ کر فیکٹری اور قریبی گھروں کے ملبے میں دبے افراد کو نکالا۔ چار بچوں اور خواتین سمیت 13 افراد کی لاشیں فوری طور پر نکالی گئیں جبکہ دیگر کو بعد ازاں ملبہ ہٹانے کے بعد نکالا گیا۔
20 زخمیوں کو الائیڈ اسپتال منتقل کردیا گیا، جہاں ڈاکٹرز کے مطابق 10 افراد کی حالت تشویشناک ہے۔ اسپتال میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی۔
ریسکیو اہلکاروں کا کہنا ہے کہ فیصل آباد میں کیمیکل فیکٹری کا بوائلر دھماکے کی نوعیت انتہائی سنگین تھی اور فیکٹری کے اندر بوائلر کا پریشر غیر معمولی حد تک بڑھنے کے باعث یہ سانحہ پیش آیا۔
فیکٹری منیجر گرفتار، مالک فرار — مقدمہ درج کرنے کی تیاریاں
پولیس نے موقع سے بھاگنے کی کوشش کرنے والے فیکٹری منیجر بلال کو گرفتار کر لیا جبکہ فیکٹری مالک قیصر چغتائی دھماکے کے فوراً بعد فرار ہو گیا، جس کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
پولیس حکام کے مطابق ابتدائی نشاندہی سے معلوم ہوا ہے کہ فیکٹری میں حفاظتی اقدامات نہ ہونے کے برابر تھے اور فیصل آباد میں کیمیکل فیکٹری کا بوائلر کی باقاعدہ انسپیکشن بھی نہیں کرائی گئی تھی۔ حکام نے کہا کہ ذمہ داروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
متاثرین کا احتجاج — "رہائشی علاقے میں فیکٹری کیوں چل رہی تھی؟”
علاقہ مکینوں نے شدید احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ رہائشی آبادی کے درمیان کیمیکل فیکٹری کا قائم ہونا انتہائی خطرناک تھا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ فیکٹری کے مالک اور متعلقہ سرکاری محکموں کے خلاف بھی کارروائی کی جائے جن کی غفلت سے یہ سانحہ پیش آیا۔
ایک مقامی رہائشی نے بتایا:
"ہم نے کئی بار شکایت کی کہ یہاں فیکٹری نہیں ہونی چاہیے، لیکن کسی نے نہیں سنا۔ آج 17 گھر برباد ہوگئے۔”
آئی جی پنجاب کا نوٹس — ریسکیو ٹیموں کو ہدایات
انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب ڈاکٹر عثمان انور نے فیصل آباد میں کیمیکل فیکٹری کا بوائلر پھٹنے کے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ہدایت کی کہ ریسکیو ٹیمیں متاثرہ مقام پر مکمل تعاون فراہم کریں اور ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے کے لیے ہر ممکن کوشش کی جائے۔
انہوں نے ٹریفک پولیس کو بھی ہدایت کی کہ جائے حادثہ تک ایمبولینسز اور امدادی گاڑیوں کی رسائی فوری طور پر یقینی بنائی جائے۔

گزشتہ برس بھی بوائلر دھماکہ — حفاظتی انتظامات پر سوالات
واضح رہے کہ گزشتہ سال اپریل میں بھی فیصل آباد کی ایک ٹیکسٹائل مل میں بوائلر پھٹنے سے ایک درجن کے قریب مزدور زخمی ہوئے تھے۔ ماہرین کے مطابق فیصل آباد کی کئی فیکٹریوں میں بوائلر سیکیورٹی اسٹینڈرڈز کی سخت خلاف ورزیاں پائی جاتی ہیں۔
صنعتی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے حادثات اس وقت تک ہوتے رہیں گے جب تک فیکٹری مالکان اور حکومتی ادارے حفاظتی قوانین پر سختی سے عملدرآمد نہیں کرواتے۔
حکام کی جانب سے تحقیقات کا آغاز
ضلعی انتظامیہ نے فیکٹری کی قانونی حیثیت، بوائلر کی انسپیکشن رپورٹ اور حفاظتی ریکارڈ کی مکمل تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ ابتدائی رپورٹس کے مطابق فیکٹری کی مشینری پرانی تھی اور بوائلر کی مرمت بھی وقت پر نہیں کی گئی تھی۔
مزید تحقیقات کے بعد ذمہ داروں کے خلاف فوجداری کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
#Faisalabadblast
فیصل آباد میں فیکٹری کا بوائلر پھٹنے سے دھماکا، 7 افراد جاں بحق، متعدد زخمی، دھماکے کی شدت سے قریبی گھروں کی چھتیں گرگئیں، ہلاکتوں کا خدشہ pic.twitter.com/IiZ8At73iq
— Umar Sidique (@umar_938sadeeq) November 21, 2025