بجلی کی قیمت میں کمی مہنگائی کے ستائے عوام کیلئے بالآخر بڑی خوشخبری
پاکستان میں مہنگائی، بیروزگاری اور معاشی دباؤ نے عوام کی کمر توڑ رکھی ہے۔ ایسے میں جب ہر روز اشیائے خورونوش سے لے کر پیٹرول تک ہر چیز مہنگی ہو رہی ہے، حکومت کی جانب سے بجلی کی قیمت میں کمی کی خبر نے عوام میں ایک نئی امید پیدا کر دی ہے۔ کئی ماہ بعد ایسا محسوس ہوا ہے جیسے حکومت نے واقعی عوام کی آواز سنی ہو۔
وفاقی حکومت نے اس بار بجلی کے بلوں میں ریلیف دینے کا فیصلہ کر لیا ہے، جس کے بعد اگلے ماہ ملک بھر کے صارفین کو نمایاں سہولت ملنے کا امکان ہے۔ سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) نے نیپرا میں 65 پیسے فی یونٹ کمی کی درخواست جمع کرائی ہے، جس کا براہ راست تعلق فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ سے ہے۔ یہ وہی چارجز ہیں جنہوں نے گزشتہ کئی ماہ سے عوام کو شدید پریشان کر رکھا تھا۔
نیپرا میں درخواست، سماعت اور ممکنہ منظوری
نیپرا نے سی پی پی اے کی جانب سے موصول درخواست کے بعد 27 نومبر کو سماعت مقرر کر دی ہے۔ سماعت کے دوران بجلی کمپنیوں، حکومتی نمائندوں اور متعلقہ ماہرین سے سوالات کیے جائیں گے۔
ذرائع کے مطابق امکان یہی ہے کہ بجلی کی قیمت میں کمی کی اس درخواست کو منظور کر لیا جائے گا، کیونکہ عالمی سطح پر ایندھن کی قیمتوں میں کچھ کمی واقع ہوئی ہے، جس کا فائدہ آگے صارفین تک منتقل کرنا قانونی طور پر بھی ضروری ہے۔
اگر نیپرا نے منظور کرلیا تو دسمبر میں استعمال شدہ یونٹس پر صارفین کو 65 پیسے فی یونٹ کا ریلیف مل جائے گا، جس کا مطلب ہے کہ گھریلو بلوں میں مجموعی طور پر ہزاروں روپے تک کمی ممکن ہے۔ ایسے وقت میں جب عوام بجلی، گیس اور پیٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے بے حال ہو چکے تھے، بجلی کی قیمت میں کمی یقینی طور پر ایک بڑی راحت ثابت ہوگی۔
یہ کمی کیوں ضروری تھی؟
پاکستان میں گزشتہ دو برس سے بجلی کے نرخوں میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے۔
فیول ایڈجسٹمنٹ
کوارٹرلی ٹیرف
فکسڈ چارجز
ٹیکس اور سرچارجز
ان سب نے مل کر عوام کی زندگی مشکل بنا دی۔ ایسے حالات میں جب بجلی کا ایک یونٹ بھی وزن رکھتا ہے، بجلی کی قیمت میں کمی کا اعلان تھکے ہوئے اور پریشان عوام کے لئے سانس لینے جیسا محسوس ہوتا ہے۔
عوامی ردعمل — ایک امید کی کرن
ملک بھر میں سوشل میڈیا پر لوگ اس خبر کو غریب اور متوسط طبقے کے لیے ایک ’’چھوٹی مگر اہم جیت‘‘ قرار دے رہے ہیں۔ صارفین کا کہنا ہے کہ 65 پیسے فی یونٹ کی کمی شاید زیادہ بڑی نہیں لگتی، مگر جس طرح ہر ماہ بجلی کا بل بڑھ رہا تھا، اس وقت بجلی کی قیمت میں کمی کسی نعمت سے کم نہیں۔
ایک شہری نے لکھا:
"ہم بجلی کے بل دیکھ کر ڈر جاتے تھے۔ اب اگر حکومت واقعی ریلیف دے رہی ہے تو یہ خوش آئند ہے۔”
ایک اور صارف نے کہا:
"پہلی بار ایسا لگ رہا ہے کہ حکومت عوام کا سوچ رہی ہے۔ اللہ کرے یہ کمی برقرار رہے۔”
معیشت پر ممکنہ اثرات
اگرچہ کمی معمولی ہے، مگر ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سے گھریلو معیشت میں کچھ بہتری آئے گی۔
بجلی کے بل کم ہونے سے اخراجات کم ہوں گے
گھر کا بجٹ تھوڑا مستحکم ہوگا
مارکیٹ میں صارفین کا اعتماد بڑھے گا
مجموعی طور پر عوامی نفسیات پر مثبت اثر پڑے گا
معیشت میں بہتری کا سفر ہمیشہ چھوٹے اقدامات سے شروع ہوتا ہے، اور بجلی کی قیمت میں کمی اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے۔
مستقبل میں مزید کتنی کمی ہو سکتی ہے؟
یہ سب عالمی ایندھن کی قیمتوں، ڈالر کی قدر، حکومت کے معاہدوں اور بجلی کی پیداوار کے اخراجات پر منحصر ہے۔ اگر عالمی سطح پر ایندھن مزید سستا ہوتا ہے اور روپے کی قدر مستحکم رہتی ہے تو امکان ہے کہ آنے والے مہینوں میں عوام کو مزید ریلیف ملے۔
تاہم اگر ڈالر دوبارہ اوپر گیا یا عالمی مارکیٹ میں تیل مہنگا ہو گیا تو بجلی پھر مہنگی ہو سکتی ہے۔ یعنی بجلی کی قیمت میں کمی کا یہ باب کب تک جاری رہے گا، اس کا دارومدار عالمی معاشی حالات پر ہے۔
نیپرا کا جرمانہ: لیسکو، فیسکو، گیپکو پر 5.75 کروڑ روپے جرمانہ، 30 اموات
مجموعی جائزہ
آخر کار حکومت نے کئی ماہ بعد ایک ایسا قدم اٹھایا ہے جس نے عوام کو کچھ دیر کے لیے سہی، مگر خوشی ضرور دی ہے۔ بجلی ہر گھر کی بنیادی ضرورت ہے اور اس کی قیمت میں معمولی کمی بھی عوام کے لیے بڑی اہمیت رکھتی ہے۔
اگر یہی پالیسی برقرار رہی تو آئندہ مہینوں میں لوگ اپنے بجٹ میں تھوڑی بہت بہتری محسوس کر سکیں گے۔