چینی کی قیمتوں میں اضافہ: شوگر ملز ایسوسی ایشن نے ذمہ داری حکومتی پابندیوں اور ایف بی آر پورٹلز کی بندش پر ڈال دی

پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن کا چینی کی قیمتوں میں اضافے پر حکومتی اقدامات کو ذمہ دار قرار دینے کا بیان
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

چینی کی قیمتوں میں اضافہ حکومتی اقدامات کا نتیجہ ہے، شوگر ملز ایسوسی ایشن کا مؤقف

پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن (PSMA) نے حالیہ دنوں میں چینی کی قیمتوں میں ہونے والے اضافے پر اپنا باضابطہ اور تفصیلی مؤقف جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ چینی کی قیمتوں میں اضافہ کسی طور پر شوگر انڈسٹری کی وجہ سے نہیں ہوا، بلکہ اس کے پیچھے متعدد حکومتی اقدامات، غیر ضروری پابندیاں، انتظامی کمزوریاں اور ایف بی آر پورٹلز کی بندش بنیادی عوامل ہیں۔ ایسوسی ایشن کے مطابق ان پالیسی پچیدگیوں نے چینی کی سپلائی چین کو متاثر کیا، جس کا براہِ راست نتیجہ مارکیٹ میں عدم استحکام اور قیمتوں کے بڑھاؤ کی صورت میں سامنے آیا۔

ایف بی آر پورٹلز کی بندش اور اس کے اثرات

ایسوسی ایشن نے سب سے بنیادی مسئلے کے طور پر ایف بی آر کے پورٹلز کی بندش کو چینی کی بڑھتی قیمتوں کی ایک بڑی وجہ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ کئی ماہ سے صنعت مسلسل خبردار کرتی رہی کہ اگر حکومتی پورٹلز بند کیے گئے یا ان تک رسائی محدود کر دی گئی، تو چینی کی سپلائی متاثر ہوگی، جس سے مارکیٹ میں قلت اور قیمتوں میں اضافہ ناگزیر ہو جائے گا۔
بیان کے مطابق حکومت کو متعدد بار تحریری اور زبانی طور پر اس خطرے سے آگاہ کیا گیا تھا کہ ڈیجیٹل نظام کی بندش کا براہِ راست اثر مارکیٹ کی کارکردگی پر پڑے گا۔ اس کے باوجود متعلقہ حکام نے معاملے پر بروقت توجہ نہیں دی، جس کا ٹھیٹھ نتیجہ آج عوام اور مارکیٹ دونوں کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔

دورِ حکومت میں غیر ضروری دباؤ اور درآمدی چینی کے فروغ کی کوشش

ایسوسی ایشن نے اپنے اعلامیے میں یہ بھی واضح کیا کہ حکومت کی جانب سے شوگر ملوں پر مسلسل دباؤ ڈالا گیا کہ وہ گھریلو چینی کی فروخت کو پسِ پشت ڈال کر درآمدی چینی کو مارکیٹ میں متعارف کروائیں۔
صنعت کا کہنا ہے کہ عوام کی اکثریت نے درآمدی چینی کو پسند نہیں کیا کیونکہ اس کی کوالٹی مقامی چینی کے مقابلے میں کمزور تھی۔ تاہم حکومتی اداروں نے مسلسل ایسے اقدامات کیے جن کے ذریعے درآمدی چینی کی فروخت اور اس سے منسلک مخصوص ڈیلرز کو فائدہ پہنچایا جائے۔

خصوصاً سندھ میں حکومتی پورٹلز کو اس وقت تک بند رکھا گیا جب تک درآمدی چینی کو پہلے پورٹ پر موجود اسٹاک سے کلیئر اور فروخت نہیں کروا لیا گیا۔ اس پالیسی نے سپلائی چین کو شدید متاثر کیا اور نتیجتاً مارکیٹ میں اصل اور مطلوبہ مقدار میں چینی کی ترسیل ممکن نہ ہو سکی۔

بین الصوبائی ترسیل پر پابندیاں اور ان کے منفی اثرات

اعلامیے میں کہا گیا کہ بین الصوبائی ترسیل پر غیر آئینی اور غیر قانونی پابندیاں بھی چینی کی قیمتوں میں اضافے کا ایک بنیادی سبب بنیں۔ پاکستان جیسے وفاقی ڈھانچے والے ملک میں زرعی اور غذائی اجناس کی آزادانہ نقل و حرکت ضروری ہوتی ہے، مگر حالیہ اقدامات نے صوبوں کے درمیان رسد کو محدود کیا، جس سے بعض علاقوں میں قلت اور بعض میں مصنوعی مہنگائی نے جنم لیا۔

ایسوسی ایشن کے مطابق جب بھی کسی بنیادی خوراک کی بین الصوبائی ترسیل میں رکاوٹ ڈالی گئی، تو اس کا نتیجہ ہمیشہ بحران اور قیمتوں کے عدم توازن کی صورت نکلا۔ یہی سلسلہ اس بار بھی دہرایا گیا جس کی ذمہ داری اُن حکومتی اداروں پر عائد ہوتی ہے جنہوں نے انتظامی فیصلے زمینی حقائق کو دیکھے بغیر کیے۔

پنجاب میں ضلعی انتظامیہ کی مداخلت اور غیر شفاف ڈیلرز کی حکمتِ عملی

ایسوسی ایشن نے پنجاب کی ضلعی انتظامیہ کے کردار پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ ان کے مطابق پنجاب میں انتظامی حکام نے شوگر ملوں کو مجبور کیا کہ وہ چینی صرف انہی ڈیلرز کے ذریعے فروخت کریں جنہیں حکومت نے نامزد کیا تھا۔
ایسوسی ایشن کے مطابق یہ ڈیلرز حکومتی منظورِ نظر تھے، جنہوں نے مارکیٹ میں چینی کی مصنوعی قلت پیدا کی اور بھاری منافع کمانے کے لیے قیمتیں اپنی مرضی سے بڑھا دیں۔ اس غیر شفاف نظام نے مارکیٹ مکینزم کو تباہ کیا اور عمومی صارفین کو شدید نقصان پہنچایا۔

صنعت کا مؤقف: ذمہ داری شوگر انڈسٹری پر نہیں

پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن نے زور دے کر کہا کہ مارکیٹ میں چینی کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ ہرگز شوگر ملز یا شوگر انڈسٹری کی وجہ سے نہیں ہوا۔
انہوں نے کہا کہ اگر کوئی شعبہ چینی کی رسد اور قیمتوں کا ذمہ دار ہے تو وہ ان سرکاری اقدامات پر مشتمل انتظامی فیصلے ہیں جنہوں نے چینی کی رسد میں رکاوٹ ڈالی، پورٹلز بند کیے، درآمدی چینی کو فروغ دیا، اور مارکیٹ میں مخصوص گروہوں کے ذریعے مداخلت کی۔

قیمتوں میں استحکام کا امکان اور مستقبل کا لائحہ عمل

اعلامیے کے مطابق نئی فصل سے حاصل ہونے والی چینی جیسے ہی مارکیٹ میں داخل ہوگی، قیمتوں میں نمایاں کمی اور استحکام آئے گا۔
صنعت کو اُمید ہے کہ آنے والے ہفتوں میں سپلائی بہتر ہونے سے مارکیٹ میں معمول بحال ہو جائے گا۔ تاہم اس کے لیے ضروری ہے کہ حکومت فوری طور پر غیر ضروری پابندیوں کو ختم کرے، خصوصاً بین الصوبائی ترسیل پر عائد پابندی کو ہٹایا جائے تاکہ چینی کی ملک بھر میں بلا تعطل فراہمی ممکن بن سکے۔

حکومت سے مطالبات

پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن نے حکومت سے درج ذیل بنیادی مطالبات کیے ہیں:

  1. بین الصوبائی ترسیل پر پابندی فوری طور پر اٹھائی جائے۔
  2. ایف بی آر پورٹلز کو مستقل بنیادوں پر فعال رکھا جائے تاکہ سپلائی چین متاثر نہ ہو۔
  3. شوگر ملوں پر غیر ضروری دباؤ اور نامزد کردہ ڈیلرز کے ذریعے فروخت کے نظام کو ختم کیا جائے۔
  4. چینی کی مارکیٹ کو سیاسی مداخلت سے پاک کر کے شفافیت فراہم کی جائے۔
  5. درآمدی چینی کے غیر متوازن فروغ کے بجائے ملکی پیداوار کے مطابق پالیسی ترتیب دی جائے۔
گنے کے کاشتکار احتجاجی بینرز اٹھائے ریلی نکال رہے ہیں۔
گھوٹکی کے گنے کے کاشتکار شوگر ملز کی جانب سے مقرر کردہ نرخ کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں
پاکستان میں چینی کی بڑھتی قیمتیں اور حکومت کا شوگر سیکٹر ڈی ریگولیٹ کرنے کا فیصلہ
وفاقی حکومت نے چینی کی بڑھتی قیمتوں کے بعد شوگر سیکٹر کو مکمل ڈی ریگولیٹ کرنے کا اہم فیصلہ کرلیا۔

متعلقہ خبریں

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]