شوگر ملز ایسوسی ایشن نے چینی کی قیمتوں میں اضافہ کی حیران کن وجہ بتا دی
پاکستان میں گزشتہ چند ہفتوں سے چینی کی قیمتوں میں اضافہ عوام کے لیے ایک بڑا مسئلہ بنا ہوا ہے۔ گھریلو بجٹ ہو یا کاروباری لاگت، چینی کے نرخ بڑھنے نے ہر طبقے کو متاثر کیا ہے۔ ایسے میں پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن نے بالآخر حکومت، صارفین اور میڈیا کو اس صورتحال کی بنیادی وجوہات سے آگاہ کیا ہے۔ شوگر انڈسٹری کے مطابق اس بار چینی کی قیمتوں میں اضافہ کسی منافع خوری یا ذخیرہ اندوزی کا نتیجہ نہیں بلکہ حکومتی پالیسیوں اور انتظامی فیصلوں کا براہِ راست نتیجہ ہے۔
آئیے دیکھتے ہیں کہ وہ کون سی رکاوٹیں تھیں جنہوں نے ملک بھر میں چینی کی قیمتوں میں اضافہ پیدا کیا اور اس کے اثرات کن سطحوں تک پہنچے۔
سرکاری پورٹلز میں تاخیر — سپلائی چین کے لیے خطرہ
پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن کے ترجمان نے کہا کہ بنیادی وجہ ایف بی آر پورٹلز کا تاخیر سے کھلنا تھا۔ چینی کی بین الصوبائی نقل و حمل کے لیے ان پورٹلز کا کھلا ہونا لازمی ہے۔ جب پورٹلز بند رہے تو میلوں سے چینی نکل کر مارکیٹ تک نہیں پہنچ سکی، نتیجتاً سپلائی کم ہوئی اور چینی کی قیمتوں میں اضافہ ہونا شروع ہو گیا۔
یہ اضافہ وہ قدرتی قیمت نہیں تھی جو طلب اور رسد کے اصول کے تحت ہوتی ہے بلکہ یہ ایک مصنوعی دباؤ تھا جو حکومتی تکنیکی خامیوں سے پیدا ہوا۔
بین الصوبائی پابندیاں — چینی کو روکے رکھنا
ایک اور اہم وجہ چینی کی آزادانہ بین الصوبائی ترسیل پر پابندی تھی۔ ترجمان کے مطابق جب ایک صوبے میں کمی ہوتی ہے تو دوسرے صوبے سے چینی اس خلا کو پورا کرتی ہے۔ مگر اس مرتبہ پابندیوں نے اس نظام کو جام کر دیا۔ نتیجہ؟
رسد کم ہوئی، مارکیٹ گرم ہوئی، اور چینی کی قیمتوں میں اضافہ مزید بڑھ گیا۔
درآمدی چینی کو زبردستی ترجیح دینا
ترجمان نے بتایا کہ حکومت مسلسل دباؤ ڈال رہی تھی کہ مقامی چینی کی بجائے امپورٹڈ چینی بیچی جائے، جبکہ عوام عموماً درآمدی چینی کو کم ترجیح دیتے ہیں۔ اس پالیسی نے مارکیٹ میں ایک بے چینی پیدا کی۔
جب مقامی چینی مناسب تعداد میں بازار میں نہ پہنچ سکی، تو قیمتیں اوپر جانے لگیں اور چینی کی قیمتوں میں اضافہ ایک بڑے بحران کی شکل اختیار کر گیا۔
مقامی انتظامیہ کی مداخلت
ترجمان کے مطابق پنجاب میں ضلعی انتظامیہ نے شوگر ملوں کو مجبور کیا کہ وہ صرف حکومت کے نامزد کردہ ڈیلرز کو چینی فروخت کریں۔ ان نامزد ڈیلرز نے چینی مہنگے داموں فروخت کی، جس سے مجموعی مارکیٹ مزید متاثر ہوئی۔ اس عمل نے بھی براہِ راست چینی کی قیمتوں میں اضافہ میں اضافہ کیا۔
کیا شوگر ملز ذمہ دار ہیں؟
ترجمان نے زور دیتے ہوئے کہا کہ اس سارے معاملے میں شوگر ملز کا کوئی ذاتی فائدہ شامل نہیں۔ نہ وہ ذخیرہ اندوزی میں ملوث ہیں اور نہ ہی منافع کے لیے مصنوعی بحران پیدا کر رہی ہیں۔
ان کے مطابق اگر حکومتی قدغنیں اور پابندیاں ختم کر دی جائیں تو سپلائی کے نارمل ہونے کے ساتھ ساتھ چینی کی قیمتوں میں اضافہ خود بخود کم ہو جائے گا۔
کرشنگ سیزن شروع — کیا قیمتیں نیچے آئیں گی؟
ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ ملک بھر میں کرشنگ سیزن شروع ہو چکا ہے۔ جیسے ہی نئی چینی مارکیٹ میں آنے لگے گی، اس بات کا قوی امکان ہے کہ چینی کی قیمتوں میں اضافہ رک جائے اور نرخ دوبارہ معمول کی سطح پر آ جائیں۔
شوگر انڈسٹری کا مطالبہ
شوگر انڈسٹری نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ:
بین الصوبائی پابندی فوری اٹھائی جائے
پورٹلز کو مستقل اور وقت پر فعال رکھا جائے
مقامی چینی کی سپلائی کو سیاسی فیصلوں کے بجائے مارکیٹ اصولوں کے مطابق چلنے دیا جائے
اگر ایسا نہ ہوا تو مستقبل میں بھی چینی کی قیمتوں میں اضافہ جیسے مسائل سامنے آتے رہیں گے۔
عوام کا ردِعمل — قیمتوں کا بوجھ برداشت سے باہر
گھریلو خواتین، چھوٹے کاروباری حضرات اور دکان دار سب اس بات پر متفق نظر آتے ہیں کہ رواں برس چینی کی قیمتوں میں اضافہ نے ان کے روزمرہ بجٹ کو شدید متاثر کیا ہے۔ بہت سے صارفین نے گلہ کیا کہ حکومتی پالیسیوں میں تسلسل نہ ہونے کی وجہ سے ہر سال یہی مسئلہ سامنے آتا ہے۔
گنے کے کاشتکاروں کا احتجاج شوگر ملز کا 400 روپے فی من نرخ مسترد، یہ معاشی قتل ہے
کیا مستقبل روشن ہے؟
اگر حکومتی ادارے شوگر انڈسٹری کی طرف سے پیش کی گئی تجاویز پر سنجیدگی سے عمل کریں تو اگلے چند ہفتوں میں چینی کی قیمتوں میں اضافہ رک سکتا ہے اور ملک میں قیمتیں مستحکم ہو سکتی ہیں۔
لیکن اگر پالیسیوں میں بے ربطی برقرار رہی تو یہ بحران بار بار سر اٹھاتا رہے گا۔