سلینا جیٹلی گھریلو تشدد کے الزام میں شوہر پیٹر ہاگ پر مقدمہ دائر

سلینا جیٹلی گھریلو تشدد مقدمہ - اداکارہ شوہر پر الزامات
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

سلینا جیٹلی گھریلو تشدد کی شکار: بالی ووڈ کی ستارہ کی تکلیف دہ کہانی

بالی ووڈ کی مشہور اداکارہ سلینا جیٹلی ایک بار پھر خبروں میں ہیں، لیکن اس بار یہ خوشی کی بات نہیں بلکہ ایک افسوسناک واقعہ ہے۔ سلینا جیٹلی گھریلو تشدد کا الزام لگا کر اپنے آسٹریلین شوہر پیٹر ہاگ کے خلاف ممبئی کی عدالت میں مقدمہ دائر کر دیا ہے۔ یہ خبر ایسے وقت میں سامنے آئی جب حال ہی میں سلینا نے اپنے بھائی میجر (ر) وکرانت کمار جیٹلی کی نو ماہ کی جبری گمشدگی اور حراست کی دل دہلا دینے والی تفصیلات شیئر کی تھیں۔ سلینا جیٹلی گھریلو تشدد کے اس کیس نے نہ صرف ان کی ذاتی زندگی کو اجاگر کیا بلکہ بالی ووڈ اور سماجی حلقوں میں خواتین کے حقوق پر بحث چھیڑ دی ہے۔

سلینا جیٹلی گھریلو تشدد کا مقدمہ: کیا ہے الزامات کی تفصیل؟

سلینا جیٹلی نے ممبئی کے اندھیری علاقے میں جوڈیشل مجسٹریٹ فرسٹ کلاس کی عدالت میں اپنی درخواست جمع کرائی ہے۔ درخواست میں انہوں نے شوہر پیٹر ہاگ پر سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔ سلینا جیٹلی گھریلو تشدد کی شکار ہو کر شدید ذہنی اور جسمانی اذیت کا سامنا کر رہی تھیں۔ ان کے مطابق پیٹر ہاگ ایک خود پسند اور خود غرض شخص ہیں جو نہ تو ان کی اور نہ ہی ان کے بچوں کی کوئی ہمدردی رکھتے ہیں۔ سلینا کا کہنا ہے کہ شوہر کے تشدد آمیز رویے کی وجہ سے وہ آسٹریلیا میں اپنے گھر سے بھارت واپس آنے پر مجبور ہوئیں۔

درخواست میں سلینا جیٹلی گھریلو تشدد کے واقعات کی تفصیلات بیان کی گئی ہیں، جن میں جسمانی تشدد، ذہنی پریشان کن دھمکیاں اور بچوں کی پرورش میں رکاوٹی شامل ہیں۔ سلینا نے عدالت سے 50 کروڑ روپے کے ہرجانے کی بھی درخواست کی ہے، جو ان کی آمدنی اور املاک کے مبینہ نقصان کی تلافی کے لیے ہے۔ یہ مقدمہ سلینا جیٹلی گھریلو تشدد کی ایک اور مثال بن گیا ہے جو بالی ووڈ کی خواتین کو درپیش خفیہ مسائل کو سامنے لاتا ہے۔

سلینا جیٹلی کا کیریئر: بالی ووڈ میں کامیابی کی راہ

سلینا جیٹلی 1981 میں بھارت کے ممبئی میں پیدا ہوئیں۔ ان کا اصل نام سلینا جیٹلی ہے اور وہ ایک سابق مس ورلڈ فائنالسٹ ہیں۔ 2001 میں مس انڈیا کا خطاب جیتنے کے بعد سلینا نے بالی ووڈ میں قدم رکھا۔ ان کی پہلی فلم "جان ترا ہیرو” تھی، جو 2003 میں ریلیز ہوئی۔ سلینا جیٹلی کی مقبولیت "ہر پانسے”، "شعولی”، "اندرا” اور "میری لائف” جیسی فلموں سے بڑھی۔ انہوں نے جنوبی فلم انڈسٹری میں بھی کام کیا اور "آنکھیں” جیسی فلموں میں اپنی اداکاری کا لوہا منوایا۔

شادی کے بعد سلینا جیٹلی نے فلموں سے دوری اختیار کی تاکہ خاندان کو وقت دے سکیں، لیکن اب سلینا جیٹلی گھریلو تشدد کا شکار ہونے کی وجہ سے ایک بار پھر لائم لائٹ میں ہیں۔ ان کی شادی 2017 میں پیٹر ہاگ سے ہوئی تھی، جو ایک آسٹریلین بزنس مین ہیں۔ سلینا کے دو بڑے بیٹے ہیں، جن کی پرورش اب ان کی سب سے بڑی ترجیح ہے۔ سلینا جیٹلی گھریلو تشدد کے اس مقدمے میں عدالت سے بچوں کی تحویل اور تحفظ کی بھی اپیل کر رہی ہیں۔

بھائی وکرانت جیٹلی کی گمشدگی: سلینا کا خاندانی صدمہ

یہ مقدمہ سلینا جیٹلی گھریلو تشدد سے پہلے ہی ان کے خاندان پر ایک بڑا صدمہ تھا۔ سلینا کے بھائی، ریٹائرڈ میجر وکرانت کمار جیٹلی، نو ماہ تک جبری گمشدگی کا شکار رہے۔ سلینا نے دہلی ہائی کورٹ میں انصاف کی اپیل کی تھی، جس میں انہوں نے بتایا کہ وکرانت کو مبینہ طور پر حکومتی ایجنسیوں کی جانب سے حراست میں رکھا گیا تھا۔ یہ معاملہ 2024 میں شروع ہوا جب وکرانت غائب ہو گئے، اور سلینا نے سوشل میڈیا پر ویڈیوز شیئر کر کے عوامی حمایت حاصل کی۔

عدالت نے وکرانت کو رہا کرنے کا حکم دیا، لیکن اس دوران سلینا جیٹلی گھریلو تشدد کی وجہ سے ذہنی دباؤ میں تھیں۔ خاندانی مسائل اور ذاتی زندگی کی مشکلات نے سلینا کو مزید کمزور کر دیا۔ اب سلینا جیٹلی گھریلو تشدد کا مقدمہ ان کی ہمت کی علامت بن گیا ہے، جو دوسرے متاثرین کو آواز اٹھانے کی ترغیب دے رہا ہے۔

سلینا جیٹلی گھریلو تشدد: بالی ووڈ میں خواتین کی جدوجہد

بالی ووڈ میں سلینا جیٹلی گھریلو تشدد کا کیس کوئی پہلا کیس نہیں ہے۔ اس سے پہلے رانی مختارجہ، چانکیا پانڈے اور دیگر اداکاراؤں نے بھی ذاتی مسائل کا سامنا کیا ہے۔ سلینا جیٹلی گھریلو تشدد کی یہ کہانی خواتین کی حفاظت پر سوالات اٹھاتی ہے، خاص طور پر انٹرنیشنل شادیوں میں۔ بھارت میں گھریلو تشدد کے قوانین موجود ہیں، جیسے ڈومیسٹک وائلنس ایکٹ 2005، جو جسمانی، ذہنی اور معاشی تشدد کو روکنے کا حکم دیتا ہے۔

تاہم، سلینا جیٹلی گھریلو تشدد کے اس کیس میں الزام ہے کہ شوہر کی آسٹریلوی قومیت کی وجہ سے قانونی پیچیدگیاں پیدا ہو رہی ہیں۔ سلینا نے عدالت سے فوری ریلیف کی درخواست کی ہے، جس میں شوہر سے رابطہ روکنے اور بچوں کی تحویل شامل ہے۔ یہ کیس بالی ووڈ کی خواتین کو درپیش خفیہ لڑائیوں کو اجاگر کرتا ہے، جہاں چمک دمک کے پیچھے تکلیفیں چھپی ہوتی ہیں۔

سماجی ردعمل: سلینا جیٹلی گھریلو تشدد پر مداحوں کی حمایت

سلینا جیٹلی گھریلو تشدد کی خبر پھیلتے ہی سوشل میڈیا پر ہنگامہ برپا ہو گیا۔ مداحوں نے #JusticeForSelina جیسے ہیش ٹیگ سے سلینا کی حمایت کا اظہار کیا۔ مشہور اداکارہ تھیریسا اور دیگر نے سلینا جیٹلی گھریلو تشدد کے خلاف آواز اٹھائی۔ سماجی کارکنوں کا کہنا ہے کہ ایسے کیسز خواتین کو آگے بڑھنے کی ہمت دیتے ہیں۔

بھارت میں گھریلو تشدد کے اعداد و شمار خوفناک ہیں۔ نیشنل کرائم ریکارڈز بیورو کے مطابق 2023 میں 4 لاکھ سے زائد کیسز رپورٹ ہوئے۔ سلینا جیٹلی گھریلو تشدد کا یہ مقدمہ ان اعداد و شمار کو چیلنج کرتا ہے اور قانون کی عملداری پر زور دیتا ہے۔ سلینا کی ہمت نے بہت سی خواتین کو اپنی آواز بلند کرنے کی ترغیب دی ہے۔

قانونی پہلو: سلینا جیٹلی گھریلو تشدد کا مقدمہ کیا نتیجہ دے گا؟

سلینا جیٹلی گھریلو تشدد کی درخواست ممبئی کی عدالت میں زیر سماعت ہے۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر الزامات ثابت ہوئے تو پیٹر ہاگ کو بھارتی قانون کے تحت سزا ہو سکتی ہے، چاہے وہ آسٹریلوی ہوں۔ سلینا نے 50 کروڑ ہرجانے کی درخواست کے علاوہ شوہر کی جائیداد منجمد کرنے کی بھی اپیل کی ہے۔

عدالت نے ابتدائی سماعت پر شوہر کو نوٹس جاری کر دیا ہے۔ سلینا جیٹلی گھریلو تشدد کے اس کیس کی اگلی سماعت دسمبر 2025 میں ہو گی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ کیس انٹرنیشنل فیملی لاء کو متاثر کر سکتا ہے۔ سلینا جیٹلی گھریلو تشدد کی یہ لڑائی نہ صرف ذاتی انصاف بلکہ سماجی تبدیلی کا بھی ذریعہ بن سکتی ہے۔

سلینا جیٹلی گھریلو تشدد: سبق اور مستقبل

سلینا جیٹلی گھریلو تشدد کا یہ واقعہ ہمیں بتاتا ہے کہ شادی شدہ زندگی میں مسائل ہونے پر خاموش رہنے کی بجائے آواز اٹھانا ضروری ہے۔ سلینا جیٹلی گھریلو تشدد کی شکار ہو کر بھی مضبوط کھڑی ہیں اور اپنے بچوں کے لیے لڑ رہی ہیں۔ یہ کیس خواتین کو طاقت دیتا ہے کہ وہ اپنے حقوق کے لیے کھڑی ہوں۔

شردھا کپور حادثہ—ڈانس سین کے دوران فریکچر، فلم کی شوٹنگ معطل

بالی ووڈ میں سلینا جیٹلی جیسی اداکارائیں نہ صرف تفریح دیتی ہیں بلکہ سماجی مسائل پر بھی روشنی ڈالتی ہیں۔ سلینا جیٹلی گھریلو تشدد کے خلاف ان کی لڑائی کامیاب ہو، اسی دعا کے ساتھ ہم سب ان کی حمایت کرتے ہیں۔

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]