ایف بی آر پروفیشنلز آڈٹ: بڑے شہروں میں 250 مہنگے ڈاکٹرز اور بیوٹی پارلرز کے آڈٹ کا آغاز

ایف بی آر پروفیشنلز آڈٹ اور ٹیکس نیٹ توسیع کا عمل
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

ٹیکس نیٹ توسیع: ایف بی آر نے پروفیشنلز کا آڈٹ شروع کر دیا، 2 ہزار نجی آڈیٹرز کی خدمات حاصل کرنے کا فیصلہ

اسلام آباد: فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے ملک میں ٹیکس نیٹ بڑھانے اور محصولات کے دائرہ کار کو مؤثر بنانے کے لیے ایک بڑے آڈٹ پروگرام کا آغاز کر دیا ہے، جس کے تحت مختلف شعبوں سے وابستہ پروفیشنلز، کمپنیوں اور ہائی انکم انفرادی ٹیکس دہندگان کا منظم طریقے سے آڈٹ کیا جائے گا۔ اس سلسلے میں ایف بی آر نے نجی آڈیٹرز کی خدمات حاصل کرنے کا فیصلہ کیا ہے، تاکہ آڈٹ کے عمل کو تیز، شفاف اور کم لاگت بنایا جا سکے۔

ذرائع کے مطابق ایف بی آر نے ابتدائی طور پر 600 نجی آڈیٹرز کی خدمات حاصل کر لی ہیں جبکہ آئندہ چند روز میں مزید 200 آڈیٹرز بھرتی کیے جائیں گے۔ منصوبے کے تحت مجموعی طور پر 2000 نجی آڈیٹرز کی خدمات حاصل کی جائیں گی، جو مختلف شعبوں میں ٹیکس گوشواروں کا جائزہ لیں گے اور ٹیکس چوری یا عدم مطابقت کے کیسز کی نشاندہی کریں گے۔

نجی آڈیٹرز— ٹیکس سسٹم کی اصلاح کا نیا ماڈل

ایف بی آر کی جانب سے اتنی بڑی تعداد میں نجی آڈیٹرز کی بھرتی ایک نئی پالیسی کا حصہ ہے جس کا مقصد سرکاری آڈٹ ٹیموں پر پڑنے والے بوجھ کو کم کرنا اور آڈٹ کے عمل کو جدید طریقوں سے ہم آہنگ کرنا ہے۔ اس ماڈل میں:

  • نجی آڈیٹرز مکمل طور پر رازداری کے پابند ہوں گے۔
  • ٹیکس دہندگان کی معلومات کسی تیسرے فریق یا مارکیٹ میں شیئر نہیں کی جائیں گی۔
  • تمام آڈٹ رپورٹس ایف بی آر کے آن لائن سسٹم کے ذریعے جمع کرائی جائیں گی۔
  • آڈٹ نتائج براہِ راست متعلقہ کمشنر کے زیرِ جائزہ ہوں گے۔

اس اقدام سے نہ صرف آڈٹ کا دائرہ کار بڑھے گا بلکہ ایف بی آر کی رسائی ان سیکٹرز تک بھی ہو سکے گی جن تک سرکاری آڈٹ ٹیمیں محدود وسائل کے باعث مؤثر طریقے سے نہیں پہنچ پاتیں۔

مہنگے ڈاکٹرز کو ٹیکس نیٹ میں لانے کا فیصلہ— پہلی بار منظم کارروائی

ذرائع کے مطابق ایف بی آر نے بڑے شہروں میں بھاری فیسیں لینے والے ڈاکٹرز کو ٹیکس نیٹ میں لانے کا فیصلہ کیا ہے۔ کراچی، لاہور اور اسلام آباد میں مہنگے کلینکس اور کنسلٹنٹس کو پہلے ہی نوٹس جاری کیے جا چکے ہیں۔ یہ اقدام اس حقیقت کے بعد اٹھایا گیا ہے کہ ملک کے بڑے شہروں میں متعدد ڈاکٹرز اپنی سالانہ آمدن کے درست گوشوارے جمع نہیں کراتے یا اپنی اصل آمدنی کو ظاہر نہیں کرتے۔

پہلے مرحلے میں:

  • کراچی میں 100
  • لاہور میں 100
  • اسلام آباد میں 50 ڈاکٹرز

کی آمدن کا آڈٹ کیا جائے گا، یوں مجموعی طور پر 250 مہنگے ڈاکٹرز پہلے مرحلے میں ایف بی آر کی زد میں ہوں گے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ان ڈاکٹرز کا انتخاب مختلف بنیادوں پر کیا گیا ہے، جن میں:

  • کلینک کی فیس
  • روزانہ چیک اپ کی تعداد
  • میڈیکل رپورٹس سے حاصل ڈیٹا
  • کلینکس کے خرچے
  • اربن کمرشل ایریاز میں موجودگی

جیسے عوامل شامل ہیں۔

ایف بی آر کے مطابق اگر ان آڈٹس کے نتائج مثبت نکلتے ہیں تو دوسرے مرحلے میں ملک کے دیگر شہروں میں بھی ایسے کلینکس اور میڈیکل سینٹرز کا آڈٹ کیا جائے گا۔

بیوٹی پارلرز اور کاسمیٹکس سیکٹر— ہائی انکم مگر کم ٹیکس

ایف بی آر نے بڑے شہروں میں مہنگے بیوٹی پارلرز اور سکن کلینکس کو بھی ٹیکس نیٹ میں لانے کا فیصلہ کیا ہے۔ پچھلے چند برسوں میں بیوٹی و سکن کیئر انڈسٹری تیزی سے بڑھی ہے، لیکن اس کے باوجود اس شعبے میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد اپنی اصل آمدن ظاہر نہیں کرتی۔

مہنگے پارلرز میں:

  • ایک وزٹ کی فیس
  • ہیر ٹریٹمنٹ
  • سکن ٹریٹمنٹ
  • میک اپ سروسز
  • برائیڈل پیکجز

کی قیمتیں لاکھوں روپے تک جاتی ہیں، مگر ٹیکس گوشواروں میں آمدن انتہائی کم ظاہر کی جاتی ہے۔ ایف بی آر کے مطابق:

  • بڑے پارلرز کے آڈٹ
  • کاسمیٹکس فروخت کرنے والی کمپنیوں کی ٹیکس جانچ
  • سکن کلینکس کے مالیاتی ریکارڈ کی پڑتال

اس مرحلے میں شامل ہوں گے۔

اس سے نہ صرف ٹیکس ریونیو میں اضافہ ہوگا بلکہ ایسے کاروباروں میں مالی شفافیت بھی بڑھے گی جہاں پہلے ٹیکس چوری باآسانی ممکن تھی۔

پینٹ سیکٹر اور متعلقہ نجی کمپنیاں بھی زد میں

ذرائع کے مطابق ایف بی آر نے پینٹ سیکٹر میں ٹیکس چوری کی شکایات کا نوٹس لیتے ہوئے اس شعبے کا آڈٹ بھی شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ پینٹ انڈسٹری میں:

  • کیش سیل
  • انوائسنگ میں تضادات
  • غیر درج شدہ سپلائی
  • کم ظاہر شدہ پروڈکشن

جیسے مسائل عام پائے جاتے ہیں۔ ایف بی آر نجی کمپنیوں کے ذریعے ان کیسز کی نشاندہی کرے گا جو ٹیکس کی ادائیگی میں بے ضابطگی کے مرتکب ہیں۔

یہ پہلا موقع ہے جب پینٹ سیکٹر کو باقاعدہ طور پر آڈٹ کے دائرے میں لایا جا رہا ہے۔

ٹیکس نیٹ بڑھانا کیوں ضروری ہے؟

پاکستان میں ٹیکس نیٹ کا کم ہونا ہمیشہ سے ایک بڑا مسئلہ رہا ہے۔ صرف چند فیصد لوگ ٹیکس دہندگان کی فہرست میں شامل ہیں جبکہ ملک میں لاکھوں ایسے افراد اور کاروباری ادارے موجود ہیں:

  • جو کروڑوں کی آمدن رکھتے ہیں
  • لگژری اسٹائل آف لائف گزارتے ہیں
  • مہنگے گھروں اور گاڑیوں کے مالک ہیں
  • مگر ٹیکس کم یا بالکل ادا نہیں کرتے

ٹیکس نیٹ بڑھانا اس لیے بھی ضروری ہو چکا ہے کہ:

  • حکومتی ریونیو بڑھ سکے
  • بجٹ خسارہ کم کیا جا سکے
  • بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے اہداف پورے ہوں
  • معاشی نظام شفاف بن سکے
  • ٹیکس دہندگان کے درمیان مساوات پیدا ہو سکے

ایف بی آر کا یہ قدم ملک میں ٹیکس کلچر کو مضبوط بنانے کی سمت ایک بڑا قدم ہے۔

آگے کیا ہونے والا ہے؟

آنے والے چند ہفتوں میں:

  • نجی آڈیٹرز کی مزید بھرتی مکمل ہو جائے گی
  • 2000 کی مکمل ٹیم فعال ہو جائے گی
  • بڑے شہروں میں ڈاکٹرز، پارلرز، پینٹ سیکٹر اور دیگر ہائی انکم پروفیشنلز کی اسیسمنٹ شروع ہو جائے گی
  • نوٹسز کا دائرہ کار بڑھایا جائے گا
  • آڈٹ رپورٹس پر کارروائی شروع ہوگی

ذرائع کے مطابق اگر یہ منصوبہ کامیاب رہا تو ایف بی آر اسے ملک بھر میں پھیلانے کا ارادہ رکھتا ہے۔

ایف بی آر کا نجی آڈیٹرز کے ذریعے بڑے پیمانے پر آڈٹس شروع کرنے کا فیصلہ پاکستان میں ٹیکس نظام کو موثر بنانے کی ایک غیر معمولی کوشش ہے۔ اس اقدام سے نہ صرف ٹیکس نیٹ میں اضافہ ہوگا بلکہ ایسے شعبوں میں شفافیت آئے گی جہاں کئی برسوں سے ٹیکس چوری اور کم آمدن ظاہر کرنے کا سلسلہ جاری تھا۔

مہنگے ڈاکٹرز، بڑے بیوٹی پارلرز، کاسمیٹکس ڈیلرز اور پینٹ سیکٹر پر ہونے والا یہ آڈٹ پاکستان کے ٹیکس نظام کی سمت میں ایک بڑی اصلاح ہے۔ اگر اس پر مؤثر عمل درآمد ہو گیا تو آنے والے چند سالوں میں ٹیکس ریونیو میں نمایاں اضافہ اور معاشی بہتری کے آثار دیکھنے کو ملیں گے۔

ایف بی آر ہیڈکوارٹر اسلام آباد میں افسران کے تقرر و تبادلے کا منظر
ایف بی آر میں 80 سینئر افسران کے تقرر و تبادلوں کے بعد انتظامی تبدیلیاں تیز
مینوئل انکم ٹیکس فائلرز کے لیے خصوصی سہولت کا اعلان:ایف بی آر
فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے مینوئل انکم ٹیکس فائلرز کے لیے آن لائن فائلنگ کی سہولت اور تاریخ میں 30 نومبر تک توسیع کا اعلان کیا۔

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]