کراچی ای چالان کو 30 روز مکمل 93 ہزار سے زائد چالان، شہریوں کے رویے پر بڑا سوال
کراچی… وہ شہر جو کبھی سوتا نہیں، مگر ٹریفک قوانین اکثر ضرور سو جاتے ہیں۔ اسی حقیقت کو بدلنے کے لیے شہر میں کراچی ای چالان سسٹم شروع کیا گیا، اور آج اس نظام کو 30 دن مکمل ہوگئے ہیں۔ ان 30 دنوں میں جو اعداد و شمار سامنے آئے ہیں، وہ شہر کی ٹریفک صورتحال اور ڈرائیونگ رویوں کا ایک واضح آئینہ ہیں۔
ایک ماہ میں 93 ہزار سے زائد چالان… یہ تعداد محض ایک نمبر نہیں، بلکہ شہریوں کی روزمرہ لاپرواہی اور قواعد کی خلاف ورزیوں کی تصویر ہے۔ کراچی ای چالان کا مقصد سڑکوں کو محفوظ بنانا تھا، مگر اس نظام نے یہ بھی دکھا دیا کہ ہم سنجیدہ ہونے کو اب بھی تیار نہیں۔
سب سے زیادہ چالان — سیٹ بیلٹ کی خلاف ورزی
رپورٹ کے مطابق 57 ہزار 541 چالان صرف اس لیے ہوئے کہ ڈرائیور نے سیٹ بیلٹ نہ باندھی۔
یہ اعداد و شمار حیران بھی کرتے ہیں اور پریشان بھی۔
ایسا لگتا ہے جیسے ہم سیٹ بیلٹ کو ایک اضافی بوجھ سمجھتے ہیں، نہ کہ اپنی جان کا تحفظ۔
اور چونکہ کراچی ای چالان کیمرے ہر لمحے نظر رکھ رہے ہیں، اب یہ لاپرواہی چھپ نہیں پا رہی۔
سیٹ بیلٹ نہ باندھنے پر ہونے والے جرمانے کی رقم بھی کم نہیں — 57 کروڑ 54 لاکھ 10 ہزار روپے۔
یہ جرمانے شہریوں کے لیے ایک بڑے سبق کی حیثیت رکھتے ہیں۔
ہیلمٹ نہ پہننے والوں کی بڑی تعداد
موٹر سائیکل کراچی کی پہچان ہے، اور ہیلمٹ نہ پہننا شاید ایک عادت۔
اسی وجہ سے 22 ہزار 227 بائیک سواروں کے چالان کراچی ای چالان سسٹم کے ذریعے جاری کیے گئے۔
جرمانوں کی رقم کے مطابق بائیک سواروں کو 11 کروڑ 11 لاکھ 35 ہزار روپے ادا کرنے پڑے۔
یہ واضح اشارہ ہے کہ ہم اپنی حفاظت خود کم اہمیت دیتے ہیں، جبکہ حادثے کی صورت میں ہیلمٹ زندگی اور موت کے درمیان فرق ہوتا ہے۔
تیز رفتاری — کراچی کے روڈز پر خطرناک رویہ
کراچی شہر میں تیز رفتاری ایک عام منظر ہے۔ ڈمپر، ٹریلر اور واٹر ٹینکرز میں نصب ٹریکرز کے ذریعے
1,188 چالان تیز رفتاری پر کیے گئے۔
جبکہ عام گاڑیوں پر 2,699 چالان عائد ہوئے۔
یہ وہ رویہ ہے جو روزانہ درجنوں حادثات، زخمیوں اور اموات کی وجہ بنتا ہے، اور کراچی ای چالان کے نفاذ نے اسے نمایاں کر دیا ہے۔
ٹریفک سگنل کی خلاف ورزیاں — خطرہ جو سب کو لاحق
سگنل توڑنا کراچی میں عام روایت بن چکا ہے، اسی لیے 3,102 شہریوں نے یہ غلطی کی اور کیمروں کے ہاتھوں پکڑے گئے۔
کئی بار ہم سگنل کو وقت کی بربادی سمجھتے ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ ایک لمحے کی جلد بازی کئی زندگیوں کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔
کراچی ای چالان نے ایسی خلاف ورزیوں کا خودکار ریکارڈ بنانا شروع کر دیا ہے، جو مستقبل میں حادثات کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔
فینسی نمبر پلیٹس، رنگین شیشے اور دیگر خلاف ورزیاں
پولیس رپورٹ کے مطابق:
فینسی نمبر پلیٹس پر 1,278 چالان
رنگین شیشوں والی گاڑیوں پر 1,178 چالان
اسٹاپ لائن کی خلاف ورزی پر 611 چالان
رانگ وے پر گاڑی چلانے پر 426 چالان
یہ سب وہ غلطیاں ہیں جو شہری روزانہ کرتے ہیں اور پھر حادثات پر حیران ہوتے ہیں۔
کراچی ای چالان نے ایسے عوامل کو بھی فوکس کیا ہے جو حادثات اور جرائم کی روک تھام میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
جرمانوں کی مجموعی رقم — شہریوں کے لیے بڑا دھچکا
کوئی بھی جرمانہ خوشی سے نہیں دیتا، مگر یہاں جرمانے لاکھوں نہیں، کروڑوں کی سطح پر پہنچ چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق:
سیٹ بیلٹ جرمانہ: 57 کروڑ 54 لاکھ 10 ہزار روپے
ہیلمٹ نہ پہننے کا جرمانہ: 11 کروڑ 11 لاکھ 35 ہزار روپے
رنگین شیشوں کا جرمانہ: 2 کروڑ 94 لاکھ 50 ہزار روپے
یعنی کراچی ای چالان نے ایک ماہ میں جرمانوں کی مد میں کروڑوں روپے جمع کیے۔
یہ رقم شہریوں کے رویے کی گہرائی دکھاتی ہے کہ قانون سے بچنے کی ذہنیت کتنی عام ہے۔
کراچی ای چالان — نظام کہاں کامیاب، کہاں کمزور؟
اس نظام نے:
شہریوں کو ذمہ داری کا احساس دلایا
ٹریفک میں نظم و ضبط کی بنیاد رکھی
قانون کو مؤثر طریقے سے لاگو کیا
حادثات کے خطرات میں کمی کی جانب قدم بڑھایا
مگر…
شہر ابھی مکمل طور پر تیار نہیں۔
بہت سے لوگ اب بھی قوانین کو معمولی سمجھتے ہیں۔
کئی شہری اب بھی نہیں جانتے کہ کراچی ای چالان کہاں دیکھا جاتا ہے، کیسے ادا ہوتا ہے، کیسے اعتراض کیا جا سکتا ہے۔
یہی وہ جگہ ہے جہاں مزید آگاہی، تعلیم اور مہمات کی ضرورت ہے۔
کراچی ای چالان سسٹم کی غلطی—چوری شدہ گاڑی پر 28 سال بعد جرمانہ
اختتامی پیغام — ذمہ داری کا وقت آ گیا ہے
کراچی صرف ایک شہر نہیں، ہماری زندگیوں کا مرکز ہے۔
روزانہ لاکھوں لوگ سڑکوں پر نکلتے ہیں، اور ہر ایک کی زندگی اہم ہے۔
کراچی ای چالان کا مقصد سزا دینا نہیں، بلکہ بچانا ہے۔
اگر ہم نے آج اپنے رویے نہ بدلے تو کل یہ اعداد و شمار شاید مزید خوفناک ہوں گے۔
One Response