چینی کی بڑھتی قیمتیں عوام کیلئے مصیبتوں کا نیا طوفان
پاکستان میں مہنگائی پہلے ہی عوام کو بے حال کر چکی ہے، اور اب چینی کی بڑھتی قیمتیں صورتحال کو مزید خراب کرتی نظر آ رہی ہیں۔ کبھی سبزی مہنگی تو کبھی آٹا، کبھی پیٹرول تو کبھی گھی، لیکن اس بار چینی نے عوام کی جیبوں پر براہِ راست حملہ کر دیا ہے۔ چینی جیسی روزمرہ ضرورت کی شے کا مہنگا ہونا عوام کیلئے اس وقت شدید پریشانی کا باعث ہے۔
مارکیٹ میں چینی کی قیمتوں میں اس قدر تیزی سے اضافہ ہوا ہے کہ لوگ حیران بھی ہیں اور پریشان بھی۔ جہاں درآمدی چینی 200 روپے فی کلو کے قریب مل رہی ہے، وہیں مقامی یعنی پاکستانی چینی 210 سے 215 روپے فی کلو فروخت ہو رہی ہے۔ یہ صورتحال اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ چینی کی بڑھتی قیمتیں صرف طلب اور رسد کا مسئلہ نہیں بلکہ اس کے پیچھے بہت سے عوامل کارفرما ہیں۔
پاکستانی چینی مہنگی کیوں؟
دکانداروں اور ہول سیل مارکیٹ سے ملنے والی معلومات کے مطابق پاکستانی چینی کے مہنگے ہونے کی چند اہم وجوہات یہ ہیں:
1. قلت
دکانداروں کا کہنا ہے کہ مارکیٹ میں اچانک قلت پیدا ہوگئی ہے۔ سٹاک کم ہے، اور جب بھی سٹاک کم ہوتا ہے، قیمتیں بڑھ جاتی ہیں۔
2. کوالٹی
پاکستانی چینی اپنی بہتر مٹھاس اور معیار کی وجہ سے زیادہ پسند کی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ لوگ درآمدی چینی کے مقابلے میں پاکستانی چینی کو ترجیح دیتے ہیں، اور مانگ زیادہ ہونے سے چینی کی بڑھتی قیمتیں مزید اوپر جا رہی ہیں۔
3. ذخیرہ اندوزی کا شبہ
اگرچہ حکام نے واضح طور پر کچھ نہیں کہا، مگر عوامی سطح پر یہ بات عام ہے کہ کچھ عناصر چینی ذخیرہ کرکے مصنوعی بحران پیدا کر رہے ہیں۔
4. حکومتی نرخ صرف کاغذوں تک
سرکاری قیمت 173 روپے ہول سیل اور 177 روپے ریٹیل رکھی گئی ہے، مگر مارکیٹ میں کہیں بھی یہ قیمت نظر نہیں آتی۔ یہی وجہ ہے کہ چینی کی بڑھتی قیمتیں لوگوں کیلئے مزید تکلیف دہ ہو چکی ہیں۔
درآمدی چینی سستی، پھر بھی عوام بے بس کیوں؟
ایک عام صارف یہ سوچتا ہے کہ جب درآمدی چینی سستی ہے تو اسے مارکیٹ میں زیادہ کیوں نہیں لایا جاتا؟ دکانداروں کے مطابق:
درآمدی چینی ہول سیل میں 195 روپے فی کلو پڑ رہی ہے
ذائقہ اور مٹھاس اکثر صارفین کو پسند نہیں آتی
لوگ پھر بھی پاکستانی چینی کو ترجیح دیتے ہیں
یہی وجہ ہے کہ سستی ہونے کے باوجود درآمدی چینی مارکیٹ کو مستحکم کرنے میں پوری طرح کامیاب نہیں ہو پائی، اور چینی کی بڑھتی قیمتیں قابو میں نہیں آ رہیں۔
عوام کیا کہہ رہے ہیں؟
بازاروں میں، دکانوں میں، گھروں میں، ہر جگہ لوگ ایک ہی بحث کرتے نظر آتے ہیں کہ آخر چینی اتنی مہنگی کیوں ہوگئی؟
عوام کے مطابق:
“ہر مہینے بجٹ اوپر سے نیچے ہوجاتا ہے، چینی جیسے بنیادی آئٹم پر بھی رحم نہیں!”
“چینی کی بڑھتی قیمتیں حکومت کی ناکامی ہے.”
“مہنگائی کا کوئی کنٹرول نہیں، اب چائے بھی سوچ کر پینی پڑے گی!”
عوام کی پریشانی اس بات کو واضح کرتی ہے کہ چینی کی بڑھتی قیمتیں محض ایک خبر نہیں بلکہ روزمرہ زندگی پر گہرا اثر ڈالنے والا مسئلہ ہے۔
ماہرین کیا کہتے ہیں؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ہر سال چینی کا بحران کسی نہ کسی شکل میں سامنے آتا ہے۔ اس کے پیچھے چند بنیادی عوامل ہیں:
گنے کی پیداوار میں کمی
فیکٹری مالکان کا باہمی مفاد
حکومتی پالیسیوں میں عدم تسلسل
وقت پر درآمد نہ کرنا
مارکیٹ مانیٹرنگ میں کمزوریاں
یہ تمام فیصلے مل کر چینی کی بڑھتی قیمتیں عوام کے لئے ایک مستقل مسئلہ بنا دیتے ہیں۔
مستقبل کیا بتا رہا ہے؟
اگر حکومت نے سخت چیک اینڈ بیلنس نافذ نہ کیا تو:
قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں
سٹاک پر دباؤ آئے گا
مصنوعی قلت مزید گہری ہو سکتی ہے
لیکن اگر صحیح فیصلے کیے گئے تو چند ہفتوں میں چینی کی بڑھتی قیمتیں نیچے آ سکتی ہیں اور مارکیٹ میں استحکام واپس آ سکتا ہے۔
چینی کی قیمت میں کمی کا امکان، ٹی سی پی نے 36 ہزار ٹن چینی نیلامی کیلئے جاری کردی
نتیجہ
چینی کی قیمت میں اضافہ صرف ایک معاشی مسئلہ نہیں بلکہ متوسط اور غریب طبقے کی روزمرہ زندگی کا سنجیدہ بحران ہے۔ حکومت کیلئے ضروری ہے کہ مارکیٹ کی نگرانی مضبوط کرے، ذخیرہ اندوزوں کے خلاف کارروائی کرے اور سستے داموں چینی کی فراہمی یقینی بنائے۔ کیونکہ جب بات چینی کی ہو، تو یہ صرف مٹھاس کی نہیں بلکہ عام آدمی کی زندگی کے توازن کی بھی ہے۔