تحقیق کا انکشاف الٹرا پروسیسڈ خوراک سے شوگر اور بلڈ شوگر کا خطرہ بڑھ جاتا ہے
جدید طرزِ زندگی میں فاسٹ فوڈ اور دیگر پروسیسڈ کھانوں کا استعمال عام ہو چکا ہے، لیکن اب ایک نئے مطالعے نے اس کے صحت پر پڑنے والے سنگین اثرات سے خبردار کیا ہے۔ تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ الٹرا پروسیسڈ خوراک کے زیادہ استعمال سے نوجوانوں میں پری ذیابیطس (Prediabetes) اور بلند بلڈ شوگر کے امکانات میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔
الٹرا پروسیسڈ خوراک سے شوگر کا خطرہ بڑھنے کا یہ انکشاف صحت کے حکام کے لیے ایک اہم الارم ہے۔ اس میں فاسٹ فوڈ، پیکیجڈ اسنیکس، زیادہ شوگر یا نمک والے مشروبات، اور غیر صحت مند چکنائی والے کھانے شامل ہیں۔ تحقیق ظاہر کرتی ہے کہ ان غیر صحت مند کھانوں کا محض معمولی اضافہ بھی پری ذیابیطس کے خطرے کو بڑھا سکتا ہے۔
لائف سٹائل کا اہم موڑ
لیڈ مصنفہ ڈاکٹر وایا لیڈا چاٹزی نے اس مطالعے کے نتائج پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ نوجوانی اور ابتدائی بلوغت کے سال طویل مدتی صحت کی بنیاد رکھنے کے لیے انتہائی اہم ہوتے ہیں۔ یہ وہ وقت ہے جب غذائی عادات مستقل شکل اختیار کرتی ہیں، اور اگر اس دوران غیر صحت مندانہ عادات اپنا لی جائیں تو ان کے نتائج زندگی بھر بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔
ڈاکٹر چاٹزی نے نشاندہی کی کہ اسی دوران اگر غذائی عادات پر توجہ دی جائے تو پری ذیابیطس جیسی صورتحال کو زندگی بھر کے مسئلے میں تبدیل ہونے سے پہلے ہی روکا جا سکتا ہے۔ پری ذیابیطس ایک ایسی حالت ہے جہاں بلڈ شوگر کی سطح معمول سے زیادہ ہوتی ہے لیکن ابھی ذیابیطس کی حد تک نہیں پہنچی ہوتی۔ اس اسٹیج پر الٹرا پروسیسڈ خوراک سے شوگر کے امکانات کو کم کیا جا سکتا ہے۔
تحقیقی طریقہ کار اور نتائج کا تجزیہ
یہ مطالعہ کیلیفورنیا یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے کیا، جس میں 17 سے 22 سال کی عمر کے 85 نوجوانوں کا 4 سال تک مشاہدہ کیا گیا۔ سائنسدانوں نے ان تمام شرکاء کے الٹرا پروسیسڈ فوڈ کے استعمال کا تفصیلی تجزیہ کیا اور ان کی صحت کے پیرامیٹرز کی باقاعدگی سے جانچ کی۔
تجزیے سے معلوم ہوا کہ جن نوجوانوں نے اپنی روزمرہ کی خوراک میں الٹرا پروسیسڈ کھانوں کا استعمال زیادہ رکھا، ان میں پری ذیابیطس اور بلند بلڈ شوگر کی تشخیص کا خطرہ ان نوجوانوں کی نسبت کہیں زیادہ تھا جنہوں نے کم پروسیسڈ خوراک کھائی۔ یہ نتائج اس بات کی مضبوطی سے تائید کرتے ہیں کہ الٹرا پروسیسڈ خوراک سے شوگر کا براہ راست تعلق ہے۔ تحقیق نے خاص طور پر ہائی شوگر اور ہائی فیٹ والے اسنیکس اور ڈرنکس کے منفی اثرات کو اجاگر کیا۔
صحت عامہ پر اثرات اور حل
الٹرا پروسیسڈ خوراک سے شوگر کے بڑھتے ہوئے خطرات کو دیکھتے ہوئے، صحت عامہ کی پالیسیوں اور عوامی آگاہی کی مہمات میں تبدیلی لانا ضروری ہے۔ خوراک کے ماہرین کے مطابق، عوام کو پروسیسڈ کھانوں کے بجائے تازہ اور کم پروسیسڈ غذائیں جیسے کہ پھل، سبزیاں، اناج اور دالیں استعمال کرنے کی ترغیب دی جانی چاہیے۔
الٹرا پروسیسڈ خوراک سے شوگر کے بڑھتے کیسز کی روک تھام کے لیے سکولوں اور کالجوں کی کینٹینوں میں صحت مند متبادل فراہم کرنا اور خوراک کے لیبلز پر واضح وارننگ دینا ضروری ہے۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ابتدائی بلوغت کے سالوں میں مداخلت کرکے اور صحت مندانہ غذائی عادات کو فروغ دے کر، ذیابیطس کے عالمی بوجھ کو نمایاں طور پر کم کیا جا سکتا ہے۔ یہ نئی تحقیق غذائی فیصلوں کے نتائج پر ایک واضح انتباہ ہے۔
الٹرا پراسیس غذائیں: گردوں کے امراض کا بڑھتا خطرہ
الٹرا پروسیسڈ خوراک سے شوگر کا خطرہ ایک عالمی مسئلہ ہے۔ اس تحقیق کے ذریعے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ الٹرا پروسیسڈ خوراک سے شوگر کا خطرہ کسی بھی عمر میں زیادہ ہے۔ ہمیں اپنے بچوں کو الٹرا پروسیسڈ خوراک سے شوگر کے خطرات کے بارے میں تعلیم دینی چاہیے۔ ہر فرد کو الٹرا پروسیسڈ خوراک سے شوگر کے خطرات سے بچنے کے لیے اپنی خوراک کا بغور جائزہ لینا چاہیے۔ عالمی ادارہ صحت (WHO) بھی الٹرا پروسیسڈ خوراک سے شوگر کے بارے میں خدشات کا اظہار کر چکا ہے۔ صحت مند طرز زندگی ہی الٹرا پروسیسڈ خوراک سے شوگر کے خطرے کو کم کر سکتا ہے۔ الٹرا پروسیسڈ خوراک سے شوگر کے بڑھتے کیسز ایک تشویشناک رجحان ہیں۔
One Response