پاکستان میں سٹاک مارکیٹ کا مثبت رجحان، ڈالر مزید سستا

پاکستان میں سٹاک مارکیٹ کا مثبت رجحان اور ڈالر کی قیمت میں کمی کی خبر
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

پاکستان میں سٹاک مارکیٹ کا مثبت رجحان اور ڈالر کی قدر میں کمی سرمایہ کاروں کے لیے اچھی خبر

پاکستان کی معاشی فضا میں آج کی صبح ایک خوشگوار تبدیلی کے ساتھ طلوع ہوئی، جب ایک طرف سٹاک مارکیٹ کا مثبت رجحان دیکھا گیا اور دوسری جانب امریکی ڈالر کی قیمت میں معمولی مگر اہم کمی ریکارڈ کی گئی۔ معاشی غیر یقینی کے دور میں ایسی خبریں نہ صرف سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بحال کرتی ہیں بلکہ عام شہری کے لیے بھی امید کی کرن بن جاتی ہیں۔

اس وقت جب لوگوں کی توجہ مہنگائی، ملازمت کے بحران اور معاشی تذبذب پر رہی ہے، سٹاک مارکیٹ کا مثبت رجحان ایک مضبوط اشارہ ہے کہ معاشی سرگرمیوں میں جان آ رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سرمایہ کار آج قدرے پُراعتماد نظر آئے اور خریداری کا حجم بھی نمایاں طور پر بڑھا۔

انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر کی قدر میں کمی

آج انٹربینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر کی قیمت ایک پیسہ کم ہو کر 280 روپے 50 پیسے کی سطح پر ٹریڈ ہوتی رہی۔ اگرچہ یہ کمی بہت زیادہ نہیں، مگر معاشی نفسیات کے اعتبار سے اس کی اہمیت کافی بڑی ہے۔
پاکستانی کرنسی میں استحکام ہمیشہ سے سٹاک مارکیٹ کو سہارا دیتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ ڈالر کی معمولی کمی نے بھی سٹاک مارکیٹ کے مثبت رجحان کو تقویت دی۔

ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن آف پاکستان کے مطابق آج کرنسی کی تجارت کا آغاز محتاط ماحول میں ہوا۔ نہ غیر معمولی طلب دیکھی گئی اور نہ ہی رسد میں کوئی بڑا اتار چڑھاؤ دیکھا گیا، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ مارکیٹ میں گھبراہٹ یا دباؤ موجود نہیں۔

سٹاک مارکیٹ کا مثبت رجحان 400 پوائنٹس کا اضافہ

پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں آج کاروباری سرگرمیاں شروع ہوتے ہی سٹاک مارکیٹ کا مثبت رجحان نمایاں تھا۔
بینچ مارک 100 انڈیکس میں 400 پوائنٹس تک اضافہ دیکھا گیا، جو مارکیٹ میں سرمایہ کاروں کی دلچسپی اور اعتماد کو ظاہر کرتا ہے۔

کاروبار کے دوران انڈیکس 1 لاکھ 68 ہزار 462 پوائنٹس کی سطح تک پہنچ گیا، جو کہ ایک مضبوط پوزیشن ہے۔ سرمایہ کاروں کی خریداری میں وسعت دیکھی گئی اور بازار میں خاصا استحکام نظر آیا۔

سرمایہ کاروں کا اعتماد کیوں بڑھا؟

مارکیٹ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ سٹاک مارکیٹ کا مثبت رجحان کسی اتفاق یا وقتی صورتحال کا نتیجہ نہیں، بلکہ اس کے پیچھے کئی مضبوط عوامل موجود ہیں:

حکومتی معاشی اصلاحات

بہتر مالیاتی اشارے (Financial Indicators)

ٹیکس اصلاحات کے بعد بہتری

درآمدات میں کمی اور ترسیلات میں اضافہ

سرمایہ کاروں کی رسک برداشت کرنے کی آمادگی

ان عوامل نے مجموعی طور پر مارکیٹ کا ماحول بہتر بنایا۔
خاص طور پر ڈالر کی قیمت میں کمی نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو مزید بڑھا دیا، کیونکہ جب کرنسی مستحکم رہتی ہے تو غیر یقینی صورتحال کم ہو جاتی ہے اور لوگ سرمایہ کاری میں دلچسپی لیتے ہیں۔

مستقبل کی توقعات — کیا یہ رجحان برقرار رہ سکتا ہے؟

ماہرین کہتے ہیں کہ اگر یہی رفتار برقرار رہی تو پاکستان کی مالیاتی منڈی میں مزید بہتری دیکھنے کو مل سکتی ہے۔
سٹاک مارکیٹ کا مثبت رجحان صرف ایک دن کا معاملہ نہیں ہونا چاہیے، بلکہ اسے پالیسی سطح پر مستحکم بنیادوں کی ضرورت ہے۔

اگر حکومت کاروبار دوست پالیسیاں برقرار رکھتی ہے، ٹیکس نظام کو آسان بناتی ہے اور درآمدات پر دباؤ کم رہتا ہے، تو نہ صرف سرمایہ کاری میں اضافہ ہو سکتا ہے بلکہ ملک کی معاشی ساکھ بھی بہتر ہو گی۔

عام شہری پر اثر

سٹاک مارکیٹ میں بہتری کا سب سے بڑا اثر اس وقت دیکھا جاتا ہے جب ملکی کرنسی مستحکم ہو اور مہنگائی میں کمی آئے۔
اگر سٹاک مارکیٹ کا مثبت رجحان جاری رہتا ہے، تو مستقبل میں:

مہنگائی کم ہو سکتی ہے

معاشی سرگرمیاں بڑھ سکتی ہیں

روزگار کے مواقع پیدا ہو سکتے ہیں

درآمدی اشیا کی قیمت کم ہو سکتی ہے

یوں سٹاک مارکیٹ کا اچھا ہونا صرف بڑے سرمایہ کاروں کے لیے نہیں بلکہ ہر شہری کے لیے فائدہ مند ہے۔

ایف بی آر ٹیکس شارٹ فال: رواں ماہ ہدف ناکام، پہلے پانچ ماہ میں 315 ارب کا خسارہ

نتیجہ

آج پاکستان میں دو بڑی معاشی خوشخبریاں سامنے آئیں — سٹاک مارکیٹ کا مثبت رجحان اور ڈالر کی قدر میں کمی — جو مجموعی طور پر بہتر معاشی مستقبل کی جانب اشارہ کرتی ہیں۔
سرمایہ کار پرامید ہیں، مارکیٹ مستحکم ہے، اور اگر حالات ایسے ہی رہے تو پاکستان کی معیشت آنے والے دنوں میں مضبوطی کی طرف بڑھ سکتی ہے۔

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]