جوڈیشل کمیشن آف پاکستان نے سندھ و بلوچستان کے نئے چیف جسٹس مقرر کر دیے

جوڈیشل کمیشن آف پاکستان نے سندھ و بلوچستان کے نئے چیف جسٹس مقرر کر دیے
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

جوڈیشل کمیشن آف پاکستان نے سندھ و بلوچستان کے نئے چیف جسٹس مقرر کر دیے، جسٹس ظفر احمد سندھ ہائیکورٹ اور جسٹس کامران خان ملاخیل بلوچستان ہائیکورٹ کے چیف جسٹس مقرر

اسلام آباد (رئیس الاخبار) :— جوڈیشل کمیشن آف پاکستان نے اہم عدالتی عہدوں پر تقرریوں کے لیے ہونے والے سلسلہ وار اجلاسوں میں سندھ ہائیکورٹ اور بلوچستان ہائیکورٹ کے مستقل چیف جسٹسز کے ناموں کی منظوری دے دی، جبکہ سپریم کورٹ میں ایک مستقل جج کی تعیناتی بھی طے کر دی گئی۔

سندھ ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کے لیے جسٹس ظفر راجپوت کی منظوری

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی کی زیرِ صدارت کمیشن کے پہلے اجلاس میں سندھ ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کی تقرری کے معاملے پر غور کیا گیا۔
اس موقع پر سندھ ہائیکورٹ کے تین سینئر ججز—قائم مقام چیف جسٹس جسٹس ظفر احمد راجپوت، جسٹس اقبال کلہوڑو اور جسٹس محمود اے خان—کے نام زیرِ بحث آئے۔

ذرائع کے مطابق کمیشن نے تفصیلی مشاورت کے بعد جسٹس ظفر احمد راجپوت کے نام کی منظوری دیتے ہوئے انہیں سندھ ہائیکورٹ کا مستقل چیف جسٹس مقرر کرنے کا فیصلہ کیا۔

اسلام آباد میں دفعہ 144 نافذ
اسلام آباد میں دو ماہ کے لیے دفعہ 144 نافذ، ریلیوں اور اجتماعات پر پابندی

بلوچستان ہائیکورٹ کے مستقل چیف جسٹس کے لیے جسٹس کامران خان ملاخیل منتخب

کمیشن کے دوسرے اجلاس میں بلوچستان ہائیکورٹ کے مستقل چیف جسٹس کی تقرری پر مشاورت کی گئی۔ اس اجلاس میں تین سینئر ججز—جسٹس کامران خان ملاخیل، جسٹس اقبال احمد کانسی اور جسٹس شوکت علی درخشانی—کے نام زیر غور آئے۔

ذرائع کے مطابق کمیشن نے وسیع مشاورت کے بعد جسٹس کامران خان ملاخیل کے نام کی منظوری دے دی، جنہیں بلوچستان ہائیکورٹ کا مستقل چیف جسٹس تعینات کیا جائے گا۔

سپریم کورٹ میں مستقلی: جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب کا نام منظور

جوڈیشل کمیشن کے تیسرے اجلاس میں سپریم کورٹ میں مستقل جج کی تعیناتی پر غور کیا گیا۔ اس سلسلے میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے تین سینئر ججز کے ناموں کا جائزہ لیا گیا۔

ذرائع کے مطابق کمیشن نے موجودہ ایکٹنگ جج جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب کو ہی سپریم کورٹ کا مستقل جج مقرر کرنے کی منظوری دے دی۔

جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کے تینوں اجلاسوں کے فیصلوں کا باقاعدہ سرکاری اعلامیہ چند گھنٹوں میں جاری ہونے کا امکان ہے۔

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]