18 سال سے کم عمر بچے پتنگ نہیں اڑا سکتے بسنت میں نئے قوانین
پنجاب میں بسنت کی خوشیاں 25 سال بعد واپس آ چکی ہیں، لیکن اب یہ تہوار مکمل طور پر محفوظ اور قانونی دائرے میں منایا جائے گا۔ صوبائی وزیر اطلاعات و ثقافت، عظمٰی بخاری نے واضح کیا ہے کہ 18 سال سے کم عمر بچے پتنگ نہیں اڑا سکتے۔ یہ فیصلہ بچوں کی حفاظت اور عوامی سلامتی کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔
عظمٰی بخاری کے مطابق بسنت اب صرف خوشی کا تہوار ہے اور کوئی بھی شخص قانون توڑ کر خونی ڈور یا خطرناک پتنگ بازی نہیں کر سکتا۔ بچوں کے لیے خصوصی قوانین لاگو کیے گئے ہیں تاکہ حادثات اور زخمی ہونے کے خطرات کو کم کیا جا سکے۔
18 سال سے کم عمر بچے پتنگ نہیں اڑا سکتے قانونی تفصیل
18 سال سے کم عمر بچے پتنگ نہیں اڑا سکتے اور ان کے والدین یا سرپرست ذمہ دار ہوں گے۔
دھات یا کیمیکل ڈور بنانے یا بیچنے والے پر 3 سے 5 سال قید اور 20 لاکھ روپے جرمانہ ہوگا۔
بچوں کے پتنگ بازی ایکٹ کی پہلی خلاف ورزی پر 50 ہزار روپے جرمانہ، دوسری بار 1 لاکھ روپے جرمانہ۔
ڈور بنانے اور بیچنے والے کی رجسٹریشن لازمی، کیو آر کوڈ کے ساتھ شناخت ہوگی۔
یہ قوانین اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ 18 سال سے کم عمر بچے پتنگ نہیں اڑا سکتے اور بسنت کا تہوار محفوظ انداز میں منایا جائے۔
ٹریفک قوانین اور حفاظتی اقدامات
صوبائی وزیر اطلاعات و ثقافت نے بتایا کہ نئے ٹریفک قوانین بھی سخت کیے گئے ہیں۔ موٹر سائیکل سواروں کے لیے حفاظتی اقدامات لازمی قرار دیے گئے ہیں۔
ٹریفک قوانین کا مقصد صرف سزا دینا نہیں بلکہ ہر شہری کی جان اور خاندان کی حفاظت ہے۔
جو قوانین کی خلاف ورزی کرے گا اس پر جرمانہ ہوگا، اور بار بار خلاف ورزی کرنے والے کی گاڑی نیلام کی جا سکتی ہے۔
کم عمر بچوں کو بائیک چلانے سے روکنے کے لیے قانون سازی کی جائے گی تاکہ 18 سال سے کم عمر بچے پتنگ نہیں اڑا سکتے کے اصول کے ساتھ محفوظ ماحول یقینی بنایا جائے۔
خونی ڈور کا مکمل خاتمہ
عظمٰی بخاری نے زور دیا کہ پنجاب میں خونی ڈور کا دھندہ ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا گیا ہے۔ یہ اقدام بسنت کو محفوظ اور خوشگوار بنانے کے لیے ضروری تھا۔
18 سال سے کم عمر بچے پتنگ نہیں اڑا سکتے اس بات سے پتہ چلتا ہے کہ حکومت نے بچوں کی حفاظت کو ترجیح دی ہے۔
سرگرمی اور تفریح کے لیے محفوظ بسنت
بسنت کے تہوار میں اب سبھی سرگرمیاں قانونی دائرے میں ہوں گی۔
کم عمر بچوں کے لیے تفریحی سرگرمیوں کے انتظامات کیے جائیں گے۔
خطرناک دھات یا کیمیکل ڈور کے استعمال پر پابندی ہے، اور خلاف ورزی کرنے والوں کو سخت سزا دی جائے گی۔
یہ سب اقدامات یہ یقینی بناتے ہیں کہ 18 سال سے کم عمر بچے پتنگ نہیں اڑا سکتے لیکن وہ بسنت کی خوشیوں سے محروم نہیں رہیں گے۔
عوام کے لیے پیغام
عظمٰی بخاری نے عوام سے درخواست کی ہے کہ وہ قوانین کی پاسداری کریں۔ بسنت کے دوران محفوظ رہنا ہر شہری کی ذمہ داری ہے۔
والدین اور سرپرست اپنے بچوں پر نظر رکھیں۔
خطرناک ڈور یا پتنگ کے استعمال سے گریز کریں۔
18 سال سے کم عمر بچے پتنگ نہیں اڑا سکتے، اس اصول کو سمجھیں اور عمل کریں۔
پتنگ بازوں کیخلاف سخت کارروائی – عوامی تحفظ کے لیے بڑا قدم
نتیجہ
بسنت اب قانونی، محفوظ اور خوشگوار تہوار کے طور پر منایا جائے گا۔ 18 سال سے کم عمر بچے پتنگ نہیں اڑا سکتے کے قوانین سے پاکستان میں پتنگ بازی کے دوران ہونے والے حادثات میں کمی آئے گی۔
صوبائی وزیر اطلاعات و ثقافت کے مطابق یہ قوانین صرف سزا دینے کے لیے نہیں، بلکہ ہر شہری کی جان اور خاندان کی حفاظت کے لیے ہیں۔