پی آئی اے پرواز حادثے سے بچ گئی کراچی سے سکھر فلائٹ میں تکنیکی خرابی

پی آئی اے پرواز حادثے سے بچ گئی — کراچی سے سکھر فلائٹ کی ہنگامی واپسی
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

پی آئی اے پرواز حادثے سے بچ گئی، وزیر بلدیات سمیت تمام مسافر محفوظ

ہوائی سفر کو دنیا کا محفوظ ترین سفر سمجھا جاتا ہے، مگر کبھی کبھار ایسے واقعات پیش آ جاتے ہیں جو انسان کو یہ احساس دلاتے ہیں کہ زندگی کتنی نازک اور غیر یقینی ہوتی ہے۔ آج پیش آنے والا واقعہ بھی کچھ ایسا ہی تھا، جب پی آئی اے پرواز حادثے سے بچ گئی اور سوار تمام مسافروں نے سکھ کا سانس لیا۔

کراچی ایئرپورٹ سے اڑان بھرنے والی پی آئی اے کی پرواز PK-536 حسبِ معمول سکھر کے لیے روانہ ہوئی تھی۔ فلائٹ میں صوبائی وزیر بلدیات سندھ جام خان شورو المعروف ناصر شاہ، میئر سکھر ارسلان شیخ اور کئی عام مسافر موجود تھے جن کے ذہن میں معمول کا سفر تھا—لیکن انہیں اندازہ نہیں تھا کہ آج کا سفر ان کی زندگیوں میں یادگار خوف بن سکتا تھا۔

اڑان کے 17 منٹ بعد بڑا مسئلہ — پی آئی اے پرواز حادثے سے بچ گئی

ذرائع کے مطابق، اڑان بھرنے کے تقریباً 17 منٹ بعد اے ٹی آر طیارے میں اچانک ایک سنگین تکنیکی خرابی پیدا ہوگئی۔ جیسے ہی کپتان نے اس خرابی کو محسوس کیا، انہوں نے فوری طور پر ایئر ٹریفک کنٹرول (ATC) سے رابطہ کیا اور ہنگامی طور پر طیارے کو واپس کراچی لانے کا فیصلہ کیا۔

یہ وہ لمحہ تھا جب حقیقتاً پی آئی اے پرواز حادثے سے بچ گئی کیونکہ اگر کپتان چند لمحے تاخیر کردیتے تو صورتحال کہیں زیادہ خطرناک ہوسکتی تھی۔

کپتان کا بروقت فیصلہ— سیکڑوں جانیں محفوظ رہیں

کپتان نے نہ صرف ATC کو فوری اطلاع دی بلکہ مسافروں کو بھی اعتماد میں لیا۔ فضا میں موجود بے یقینی کے ماحول میں سب کی دھڑکنیں تیز تھیں، مگر جب کپتان نے اعلان کیا کہ "ہم واپس کراچی جا رہے ہیں، صورتحال کنٹرول میں ہے”، تو مسافروں کے چہروں پر تھوڑی سی تسلی نظر آئی۔

یہی وجہ ہے کہ بعد ازاں حکام نے بھی تصدیق کی کہ پی آئی اے پرواز حادثے سے بچ گئی محض کپتان کی بروقت حکمتِ عملی کی بدولت۔

طیارے میں موجود اہم شخصیات اور عوامی تاثرات

پرواز میں صوبائی وزیر ناصر شاہ اور میئر سکھر ارسلان شیخ بھی موجود تھے۔ اطلاعات کے مطابق، پرواز کی اچانک واپسی سے متعلق انہیں فوری آگاہ کر دیا گیا تھا، اور ہنگامی لینڈنگ کے بعد سب مسافر محفوظ طریقے سے اتر آئے۔

مسافروں نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ جب طیارہ واپس مڑا تو انہیں اندازہ ہوا کہ صورتحال معمولی نہیں ہے۔ انہی لمحوں میں حقیقتاً محسوس ہوا کہ پی آئی اے پرواز حادثے سے بچ گئی تو یہ کسی معجزے سے کم نہیں۔

پی آئی اے حکام کا مؤقف — خرابی کیا تھی؟

پی آئی اے حکام نے تصدیق کی کہ اے ٹی آر طیارے میں تکنیکی خرابی پیدا ہوئی تھی۔ اگرچہ خرابی کی نوعیت تفصیل سے بیان نہیں کی گئی، مگر ترجمان نے واضح کیا کہ:

طیارے کو واپس لانا ضروری تھا

مسافروں کو بروقت اطلاع دی گئی

پرواز کو مکمل طور پر منسوخ کر دیا گیا

طیارے کا معائنہ ماہر انجینئرز کریں گے

ترجمان کے مطابق، یہ صحیح فیصلہ تھا کیونکہ اس طرح پی آئی اے پرواز حادثے سے بچ گئی اور کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

پرواز منسوخ — وزیر بلدیات ناصر شاہ کی مصروفیات متاثر

وزیر بلدیات کو سکھر میں ایک اہم تقریب میں شرکت کرنا تھی۔ مگر طیارے کی واپسی کے بعد، انہوں نے کراچی ایئرپورٹ سے واپس جانے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ:

"سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہم محفوظ ہیں… باقی سفر تو دوبارہ بھی ہو سکتا ہے۔”

ان کے اس بیان سے اندازہ ہوتا ہے کہ پی آئی اے پرواز حادثے سے بچ گئی کے واقعے نے مسافروں کو کافی حد تک ہلا کر رکھ دیا۔

مسافروں کی کیفیت — خوف، دعا اور شکرگزاری

جو لوگ ہوائی سفر کرتے ہیں، وہ جانتے ہیں کہ فضا میں جب کسی خرابی کا سامنا ہو تو دل کی حالت کیا ہوتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق کئی مسافروں نے واپسی کے لمحات میں:

تسبیح پڑھی

دعائیں مانگیں

ہاتھ ایک دوسرے کے ہاتھ میں تھام لیے

خاموشی سے کھڑکی سے باہر دیکھتے رہے

جب طیارہ بحفاظت لینڈ ہوا تو کئی مسافروں کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ سب یہی کہہ رہے تھے کہ پی آئی اے پرواز حادثے سے بچ گئی ورنہ خدا نہ کرے کچھ بھی ہو سکتا تھا۔

ایوی ایشن ماہرین کا رد عمل

ہوابازی ماہرین کے مطابق:

اے ٹی آر طیارے محفوظ ہوتے ہیں

مگر ان میں تکنیکی خرابی کبھی کبھار پیش آ سکتی ہے

کپتان کا بروقت فیصلہ ہمیشہ سب سے زیادہ اہم ہوتا ہے

انہوں نے بھی اس بات پر زور دیا کہ آج واقعی پی آئی اے پرواز حادثے سے بچ گئی کیونکہ فیصلہ درست وقت پر کیا گیا۔

پاکستان میں اے ٹی آر طیاروں پر سوالات دوبارہ اٹھ کھڑے

ماضی میں بھی اے ٹی آر طیاروں کے حادثات سامنے آ چکے ہیں، جن میں سب سے بڑا 2016 کا حادثہ تھا۔ اسی لیے آج کا واقعہ ایک سوال ضرور اٹھاتا ہے کہ:

کیا اے ٹی آر طیاروں کی مزید جانچ کی ضرورت ہے؟

کیا ان طیاروں کو نئے ماڈلز سے بدلنا چاہیے؟

یہ باتیں ایک بار پھر اس لیے زیرِ بحث ہیں کیونکہ پی آئی اے پرواز حادثے سے بچ گئی لیکن اگر نہ بچتی تو ملک ایک اور بڑے سانحے کا سامنا کر سکتا تھا۔

پی آئی اے نجکاری میں دلچسپی رکھنے والے کاروباری شخصیات کی وزیر اعظم سے ملاقات، شفاف عمل اور لائیو بِڈنگ کا اعلان

آخر میں— زندگی کی اہمیت

جب تمام مسافر بحفاظت اترے، تو ہر شخص کے ذہن میں ایک ہی بات تھی:

"زندگی اللہ کی امانت ہے… اور کبھی کبھار لمحہ بھر میں بدل سکتی ہے۔”

آج کا دن اس بات کی یاد دہانی ہے کہ انسان کتنی ہی ٹیکنالوجی اور ترقی کرلے، مگر اصل حفاظت اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے۔ یہ واقعہ ایک سبق بھی ہے اور ایک شکر بھی کہ پی آئی اے پرواز حادثے سے بچ گئی اور سب مسافر محفوظ رہے۔

متعلقہ خبریں

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]