صدر شی جن پھنگ اور ایمانوئل میکرون کی چھنگ دو میں تاریخی و دوستانہ ملاقات
چین کے جنوب مغربی صوبے سیچھوان کے خوبصورت اور ثقافتی ورثے سے مالا مال دارالحکومت چھنگ دو نے اس ہفتے ایک غیر معمولی سفارتی لمحے کی میزبانی کی—چینی صدر شی جن پھنگ اور فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون کے درمیان ہونے والی دوستانہ اور گہرائی سے بھرپور ملاقاتیں۔ دونوں رہنماؤں نے اپنے وفود کے ساتھ دو جیانگ یان کے قدیم مگر آج بھی فعال آبپاشی کے نظام کا دورہ کیا، جو انسان اور فطرت کے درمیان ہم آہنگی کی ایک زندہ مثال ہے۔
فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون اپنی اہلیہ بریگیٹ میکرون کے ہمراہ چھنگ دو پہنچے، جہاں چینی صدر شی جن پھنگ اور ان کی اہلیہ پینگ لی یُوآن نے پرتپاک اور روایتی چینی انداز میں ان کا استقبال کیا۔ دونوں ممالک کے سربراہان کی یہ ملاقات نہ صرف سیاسی اہمیت رکھتی تھی بلکہ ثقافتی، تاریخی اور جذباتی سطح پر بھی دونوں قوموں کے درمیان پائے جانے والے دیرینہ اشتراک اور دوستانہ ماحول کی جھلک پیش کر رہی تھی۔
سیچھوان صوبہ، جسے “زرخیزی کی سرزمین” کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، اپنی تہذیبی میراث، تاریخی پس منظر اور قدرتی حسن کے باعث چین کا وہ علاقہ ہے جہاں ماضی اور مستقبل ایک جگہ یکجا نظر آتے ہیں۔ صدر شی نے اس مقام کا انتخاب انتہائی شعوری انداز میں کیا تاکہ فرانس کے صدر کو چین کی تہذیبی گہرائی اور ترقی کے سفر کا براہِ راست مشاہدہ کروایا جا سکے۔
اپنے خیرمقدمی کلمات میں صدر شی جن پھنگ نے یاد دلایا کہ گزشتہ سال وہ فرانس کے دورے پر میکرون کی خصوصی دعوت پر ہاؤٹس-پیرینیے کے علاقے گئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ اُس دورے نے نہ صرف دوطرفہ اعتماد کو مضبوط کیا بلکہ ذاتی تعلقات میں بھی قربت پیدا کی۔ صدر شی نے اس موقع پر امید ظاہر کی کہ میکرون کا یہ دورہ چھنگ دو میں چین کے بارے میں ان کی تفہیم کو مزید عمیق بنائے گا اور دونوں ممالک کے درمیان سفارتی، اقتصادی اور ثقافتی تعاون کا دائرہ مزید وسیع ہوگا۔
صدر شی جن پھنگ نے گفتگو کے دوران دو جیانگ یان کے آبپاشی منصوبے کا پس منظر بھی تفصیل سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا کہ دو ہزار سال قدیم یہ نظام دنیا کا واحد ایسا تاریخی آبپاشی منصوبہ ہے جو بغیر کسی ڈیم کے جدید دور میں بھی فعال ہے اور لاکھوں ایکڑ اراضی کو سیراب کر رہا ہے۔ یہ صرف انجینئرنگ کا شاہکار نہیں بلکہ انسانی ذہانت کا ثبوت ہے—ایک ایسی مثال جس سے دنیا کو یہ پیغام ملتا ہے کہ انسان اور فطرت کے درمیان ہم آہنگی ہی پائیدار ترقی کی بنیاد ہے۔
چینی صدر نے مزید کہا کہ اس منصوبے کی تعمیر چینی قوم کی ان خصوصیات کو اجاگر کرتی ہے جو صدیوں سے اس کی پہچان رہی ہیں—
- مسلسل بہتری کی جستجو
- مشکلات کا ڈٹ کر مقابلہ
- اور ترقی کی جانب ثابت قدمی
انہوں نے کہا کہ یہی خصوصیات آج کے جدید چین کی بنیاد بھی ہیں اور انہی اصولوں پر چلتے ہوئے چین دنیا کے ساتھ شراکت داری کی نئی راہیں کھول رہا ہے۔
صدر میکرون نے اپنے دورے کے دوران اس تاریخی مقام کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ یہ تجربہ نہ صرف چین کی تہذیبی حکمت کو سمجھنے میں مددگار ہے بلکہ چین کے عوام کی محنت، دور اندیشی اور اجتماعی طاقت کا بھی واضح اظہار ہے۔ انہوں نے کہا کہ دو جیانگ یان کا نظام دنیا کے لیے ایک مثال ہے کہ ٹیکنالوجی، فطرت اور انسانی ضرورت کے درمیان کیسے توازن قائم کیا جا سکتا ہے۔
دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی ملاقات میں چین اور فرانس کے تعلقات کے مختلف پہلوؤں—معیشت، توانائی، ماحولیات، ثقافتی تبادلے اور عالمی چیلنجز—پر بھی تفصیلی گفتگو ہوئی۔ دونوں صدور نے اس عزم کا اظہار کیا کہ چین اور فرانس عالمی امن، موسمیاتی تبدیلی کے مسائل اور کثیرالجہتی تعاون میں مل کر اپنا کردار ادا کریں گے۔
صدر شی جن پھنگ کا کہنا تھا کہ چین اور فرانس کے تعلقات ہمیشہ سے احترام، تبادلۂ خیال اور ایک دوسرے کے اندرونی معاملات میں غیر مداخلت کے اصولوں پر قائم رہے ہیں۔ یہ تعلقات نہ صرف ایشیا اور یورپ بلکہ پوری دنیا میں تعاون اور ہم آہنگی کی علامت ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چین یورپ کے ساتھ اپنی شراکت داری کو مزید مضبوط دیکھنا چاہتا ہے، اور فرانس کے ساتھ تعلقات اس منصوبے کی بنیاد ہیں۔
اس ملاقات کے دوران دونوں ممالک کی فرسٹ لیڈیز نے بھی ایک خوشگوار اور دوستانہ ماحول میں بات چیت کی، جس میں ثقافت، تعلیم اور عوامی رابطوں کو بڑھانے کے منصوبوں پر گفتگو ہوئی۔
چھنگ دو کی فضاؤں میں اس اعلیٰ سطحی ملاقات نے ایک ایسے تعلق کی بنیادوں کو مزید مضبوط کیا جو دو بڑی تہذیبوں، ثقافتوں اور عالمی اثر و رسوخ رکھنے والی طاقتوں کو ایک دوسرے کے قریب لاتا ہے۔ اس دورے نے یہ بھی ثابت کیا کہ سفارت کاری صرف سرکاری عمارتوں تک محدود نہیں بلکہ ثقافتی ورثے، تاریخی مقامات اور انسانی اقدار کے ذریعے بھی مضبوط کی جا سکتی ہے۔
چینی اور فرانسیسی صدور کی یہ دوستانہ ملاقات نہ صرف ایک سفارتی ایونٹ تھی بلکہ دو ممالک کے درمیان اعتماد، احترام اور مشترکہ مستقبل کے خواب کو ایک نئی جہت دینے کی کوشش بھی تھی۔ اس کا اثر آنے والے برسوں میں دونوں قوموں کے تعلقات پر دیرپا ہوگا۔

