‫الیکشن کمیشن ضابطہ اخلاق خلاف ورزی: وزیر اعلیٰ KP اور دیگر رہنما 10 دسمبر کو طلب‬

الیکشن کمیشن نے ضابطہ اخلاق خلاف ورزی کیسز میں سیاسی شخصیات کو دوبارہ طلب کر لیا
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

ضمنی انتخابات: الیکشن کمیشن کا ضابطہ اخلاق خلاف ورزی کیسز میں بڑا ایکشن

الیکشن کمیشن آف پاکستان نے ضمنی انتخابات کے دوران ضابطۂ اخلاق کی مبینہ خلاف ورزیوں کے حوالے سے اہم اقدام کرتے ہوئے ایک مرتبہ پھر صوبہ خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کو طلب کر لیا ہے۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری یہ طلبی نوٹس ضمنی انتخابات کے دوران مبینہ بے ضابطگیوں، سرکاری اثر و رسوخ کے استعمال اور انتخابی عمل میں غیر ضروری مداخلت کے الزامات کے نتیجے میں سامنے آیا ہے۔

یہ پہلا موقع نہیں کہ وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کو اس کیس میں بلایا گیا ہو۔ اس سے قبل بھی انہیں وضاحت کے لیے طلب کیا گیا تھا، تاہم کیس کی مزید تفصیلات اور دستاویزات کے پیش نظر الیکشن کمیشن نے دوبارہ پیشی ضروری قرار دی ہے۔ صوبے کے انتظامی سربراہ کے طور پر انتخابی ضابطۂ اخلاق پر مکمل عمل درآمد کرانا ان کی ذمہ داری میں شامل ہے اور کمیٹی کے مطابق کسی بھی قسم کی خلاف ورزی انتخابی شفافیت اور قانون کی عمل داری کے لیے سوالیہ نشان بنتی ہے۔

عمر ایوب کی اہلیہ کو بھی نوٹس — اہم سیاسی خاندانوں کے خلاف کارروائی میں پیش رفت

الیکشن کمیشن نے اسی سلسلے میں سابق اپوزیشن لیڈر عمر ایوب خان کی اہلیہ کو بھی نوٹس جاری کیا ہے۔ یہ نوٹس بھی ضمنی انتخابات کے موقع پر مبینہ ضابطۂ اخلاق کی خلاف ورزی کے پس منظر میں جاری کیا گیا ہے۔ عمر ایوب خان کا شمار قومی سطح کے اہم سیاسی رہنماؤں میں ہوتا ہے اور ان کے اہل خانہ کے خلاف اس نوعیت کا نوٹس سیاسی حلقوں میں خاصی توجہ حاصل کر رہا ہے۔

انتخابی ضابطۂ اخلاق واضح طور پر اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ کوئی امیدوار، اس کا خاندان یا حمایتی انتخابی مہم کے دوران ایسے اقدامات کریں جو الیکشن کے قواعد سے متصادم ہوں۔ مبصرین کے مطابق یہ پیش رفت اس بات کی عکاس ہے کہ الیکشن کمیشن سیاسی وابستگی کے بغیر ضابطۂ اخلاق کی عملداری کو یقینی بنانے کے لیے سرگرم ہے۔

10 دسمبر — بڑی سماعت کا دن

الیکشن کمیشن نے اعلان کیا ہے کہ ضابطۂ اخلاق کی خلاف ورزی کے تمام اہم کیسز کی سماعت 10 دسمبر کو ہوگی۔ یہ دن انتخابی قوانین کے نفاذ کے حوالے سے خاصی اہمیت اختیار کر چکا ہے، کیونکہ اسی روز مختلف جماعتوں اور شخصیات کے خلاف جاری کیسز کو یکجا کر کے سنا جائے گا۔

ذرائع کے مطابق الیکشن کمیشن نے اس سماعت کے لیے تمام کیس ریکارڈ، تحریری بیانات، ویڈیو شواہد اور متعلقہ سرکاری رپورٹس طلب کر رکھی ہیں تاکہ کیسز کے میرٹ پر فیصلہ کیا جا سکے۔ ان کیسز میں کئی اہم سیاسی رہنما شامل ہیں جن کے بیانات اور وضاحتیں انتخابی ماحول اور مستقبل کے عمل پر اثر انداز ہو سکتی ہیں۔

وزیراعظم کے معاون خصوصی حذیفہ رحمان کو بھی نوٹس — این اے 185 میں کیس کی سماعت

الیکشن کمیشن نے ایک اور اہم پیش رفت کے تحت وزیراعظم کے معاون خصوصی حذیفہ رحمان کے خلاف بھی کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔ ان کے خلاف یہ کارروائی قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 185 ڈیرہ غازی خان میں مبینہ طور پر انتخابی ضابطۂ اخلاق کی خلاف ورزی پر شروع کی گئی ہے۔
حذیفہ رحمان پر الزام ہے کہ انہوں نے انتخابی مہم کے دوران سرکاری عہدے کا فائدہ اٹھایا، ایسی سرگرمیوں میں شرکت کی جو قواعد کے مطابق ممنوعہ زمرے میں آتی ہیں، یا ایسے اعلانات کیے جو انتخابی عمل پر اثر انداز ہو سکتے تھے۔

انتخابی قوانین کے مطابق کوئی بھی سرکاری عہدہ رکھنے والا شخص انتخابی مہم میں حصہ نہیں لے سکتا، نہ ہی ترقیاتی منصوبوں یا حکومتی مراعات کا استعمال ووٹ حاصل کرنے کے لیے کیا جا سکتا ہے۔ الیکشن کمیشن یہ دیکھے گا کہ آیا معاون خصوصی نے ان قوانین کی خلاف ورزی کی ہے یا نہیں۔

مسلم لیگ ن کے رہنما مرتضیٰ عباسی کے خلاف کیس بھی سماعت کے لیے مقرر

اسی روز، مسلم لیگ ن کے رہنما مرتضیٰ عباسی کے خلاف کیس کی سماعت بھی طے ہے۔ ان پر بھی انتخابی مہم کے دوران قواعد کی خلاف ورزی کا الزام ہے۔ الیکشن کمیشن کے مطابق شکایات کے مطابق انہوں نے ایسے اقدامات کیے جو ضابطۂ اخلاق کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتے ہیں۔

سیاسی مبصرین اس کیس کو بھی خاص اہمیت دے رہے ہیں کیونکہ یہ مختلف سیاسی جماعتوں کے نمائندوں کے خلاف جاری کارروائیوں کے سلسلے کا حصہ ہے، جو اس بات کا اشارہ ہے کہ الیکشن کمیشن انتخابی قوانین پر سختی سے عملدرآمد کرانے کا ارادہ رکھتا ہے۔

الیکشن کمیشن کی سختی — غیرجانبدارانہ انتخابات کی طرف اہم قدم

ان تمام نوٹسز اور پیشیوں سے یہ پیغام واضح مل رہا ہے کہ الیکشن کمیشن آئندہ انتخابات کے لیے فضا کو شفاف، غیر جانبدار اور قانون کے مطابق بنانے کے لیے سرگرم ہے۔ ضمنی انتخابات میں مختلف سطحوں پر ہونے والی شکایات نے الیکشن کمیشن کی توجہ اپنی جانب مبذول کرائی تھی، اور موجودہ پیش رفت اس بات کی نشان دہی ہے کہ الیکشن کمیشن کسی بھی خلاف ورزی کو نظرانداز کرنے کے موڈ میں نہیں ہے۔

انتخابی نظام کو مضبوط بنانے کے لیے ضروری ہے کہ تمام جماعتیں اور رہنما ضابطۂ اخلاق کی مکمل پابندی کریں۔ کسی بھی خلاف ورزی سے نہ صرف انتخابی شفافیت متاثر ہوتی ہے بلکہ عوام کے اعتماد کو بھی ٹھیس پہنچتی ہے۔ الیکشن کمیشن کی کارروائیوں کا مقصد اسی اعتماد کی بحالی اور آئندہ انتخابات کے لیے مضبوط بنیاد قائم کرنا ہے۔

سیاسی حلقوں کا ردعمل — احتیاط، تشویش اور امید

مختلف سیاسی حلقوں نے الیکشن کمیشن کی کارروائیوں پر اپنے ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ کچھ نے اس اقدام کو خوش آئند قرار دیا ہے اور اسے قانون کی عملداری کی مضبوط مثال کہا ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ ضابطۂ اخلاق کی سختی انتخابات کو صاف اور شفاف بنانے میں مدد دے گی۔

دوسری طرف، کچھ افراد نے ان کارروائیوں کو سیاسی دباؤ یا انتخابی ماحول کو کنٹرول کرنے کا حربہ قرار دیا ہے، تاہم اس حوالے سے کسی جماعت نے باضابطہ بیان جاری نہیں کیا۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر الیکشن کمیشن شفاف طریقے سے کارروائی کرتا ہے، تو یہ نہ صرف آنے والے انتخابات میں بہتری لائے گا بلکہ سیاسی استحکام میں بھی اضافہ کرے گا۔

10 دسمبر کا دن کلیدی حیثیت اختیار کر چکا ہے

ان تمام کیسز کی سماعت ایک ہی تاریخ پر مقرر ہونے سے 10 دسمبر سیاسی ماحول میں خاصی اہمیت اختیار کر چکا ہے۔ یہ نہ صرف کئی معتبر سیاسی شخصیات کے لیے بڑا دن ہے، بلکہ انتخابی نظام کو مستحکم بنانے کے لیے بھی فیصلہ کن حیثیت رکھتا ہے۔
الیکشن کمیشن کی ان کارروائیوں سے واضح ہے کہ ادارہ انتخابی عمل کو شفاف بنانے کے لیے پہلے سے زیادہ فعال اور پُرعزم ہے۔ اگر یہ سلسلہ اسی تسلسل سے جاری رہا تو انتخابات میں شفافیت اور قانون کی بالا دستی مزید مضبوط ہوگی۔

سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ کے خلاف توہین عدالت عمران خان سے ملاقات نہ کرانے پر
علیمہ خان نے ملاقات روکنے پر اڈیالہ جیل حکام کے خلاف توہین عدالت کی درخواست دائر کی۔
جی ایچ کیو میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کے اعزاز میں گارڈ آف آنر
جی ایچ کیو راولپنڈی میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو تینوں مسلح افواج کی جانب سے پروقار گارڈ آف آنر پیش کیا گیا۔
[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]