پی ٹی اے جعلی نوٹیفکیشن پر وضاحت سوشل میڈیا صارفین کے لیے اہم اعلان

پی ٹی اے جعلی نوٹیفکیشن کی تردید اور سوشل میڈیا وضاحت
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

پی ٹی اے جعلی نوٹیفکیشن: حقیقت، وضاحت اور سوشل میڈیا پر پھیلتی غلط معلومات

گزشتہ چند دنوں سے سوشل میڈیا پر ایک نوٹیفکیشن تیزی سے وائرل ہو رہا ہے جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے تمام پاکستانی سوشل میڈیا گروپس کو ہدایت جاری کی ہے کہ وہ اپنے گروپس سے غیرملکی شہریوں کو فوری طور پر نکال دیں۔ اس نوٹیفکیشن میں مزید کہا گیا کہ ہدایات پر عمل نہ کرنے والے گروپ ایڈمنز کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔ بعد ازاں پی ٹی اے نے اسے پی ٹی اے جعلی نوٹیفکیشن قرار دیتے ہوئے اس کی سختی سے تردید کر دی۔

یہ خبر سوشل میڈیا پر اس قدر تیزی سے پھیلی کہ بے شمار صارفین نے اسے بلا تصدیق آگے شیئر کرنا شروع کر دیا، جس نے عوام میں نہ صرف بے چینی پیدا کی بلکہ سوشل میڈیا کمیونٹیز کے اندر بھی شدید کنفیوژن پیدا ہو گئی۔

وائرل نوٹیفکیشن میں کیا دعویٰ کیا گیا؟

وائرل پیغام میں کہا گیا کہ ملک کی موجودہ سیکیورٹی صورتحال اور آن لائن ڈیٹا کی حفاظت کے پیش نظر پی ٹی اے نے سوشل میڈیا گروپس کو پابند بنایا ہے کہ وہ اپنے گروپس میں شامل تمام غیرملکیوں کو فوری طور پر ہٹا دیں۔
ساتھ ہی یہ دھمکی بھی دی گئی کہ ہدایات پر عمل نہ کرنے والے گروپ ایڈمنز کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

یہ پیغام اتنی پیشہ ورانہ طرز پر تیار کیا گیا تھا کہ عام صارفین کے لیے اسے اصل یا جعلی پہچاننا مشکل تھا، جس کی وجہ سے ہزاروں لوگ اسے سچ سمجھ بیٹھے۔

پی ٹی اے کی وضاحت: نوٹیفکیشن مکمل طور پر جھوٹا ہے

پی ٹی اے نے ایک باضابطہ بیان جاری کرتے ہوئے اس تمام معاملے کو پی ٹی اے جعلی نوٹیفکیشن قرار دیا اور کہا کہ:

  • اتھارٹی نے ایسا کوئی حکم جاری نہیں کیا
  • نہ ہی سوشل میڈیا گروپ ایڈمنز کو غیرملکی اراکین کو ہٹانے کی ہدایت دی گئی
  • نہ ہی کسی طرح کی قانونی کارروائی کا اعلان کیا گیا

پی ٹی اے نے اعلان کیا کہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والا یہ نوٹیفکیشن جھوٹا، جعلی اور گمراہ کن ہے۔ اتھارٹی نے صارفین سے درخواست کی کہ وہ ایسی غیر مصدقہ معلومات کو آگے نہ پھیلائیں۔

جعلی اطلاعات کیوں وائرل ہوتی ہیں؟

سوشل میڈیا پر جعلی خبریں کئی وجوہات کی بنیاد پر تیزی سے پھیلتی ہیں:

1. فوری شیئرنگ کا رجحان

بغیر تصدیق لوگ ہر نئی چیز کو فوراً آگے بڑھا دیتے ہیں۔

2. خوف یا ہنگامی نوعیت کی خبریں

ایسی خبریں جن میں "قانونی کارروائی” جیسی باتیں ہوں، زیادہ وائرل ہوتی ہیں۔

3. پروفیشنل طریقے سے تیار کیا گیا جعلی مواد

جعلی پیغامات کو اصل سرکاری نوٹیفکیشن جیسا دکھایا جاتا ہے تاکہ لوگ اسے جلدی مان لیں۔

پی ٹی اے کی اپیل: صرف مستند ذرائع پر بھروسہ کریں

پی ٹی اے نے عوام اور سوشل میڈیا صارفین سے درخواست کی کہ:

  • صرف سرکاری ویب سائٹ کے ذریعے جاری ہونے والی معلومات پر بھروسہ کریں
  • سوشل میڈیا پر پھیلے ہر نوٹیفکیشن کو حقیقت نہ سمجھیں
  • کسی بھی مشکوک پیغام کی تصدیق کیے بغیر اسے آگے نہ پھیلائیں

اتھارٹی نے کہا کہ غلط معلومات پھیلانے والے افراد کے خلاف ایکشن لیا جا سکتا ہے۔

سوشل میڈیا گروپ ایڈمنز کو کیا کرنا چاہیے؟

بھلے ہی پی ٹی اے جعلی نوٹیفکیشن غلط ثابت ہوا ہو، لیکن گروپ ایڈمنز کی ذمہ داری بنتی ہے کہ:

  • گروپ قوانین واضح طریقے سے بنائیں
  • مشکوک اکاؤنٹس یا اسپیمرز کو خود سے مانیٹر کریں
  • ریگولرلی گروپ ممبرز کی سرگرمیوں پر نظر رکھیں

یہ اقدامات سیکیورٹی کے لیے فائدہ مند ہوتے ہیں۔

جعلی نوٹیفکیشن شیئر کرنے والے افراد کی قانونی ذمہ داری

پاکستانی قوانین کے مطابق:

  • جعلی حکومتی نوٹیفکیشن تیار کرنا
  • اسے آگے پھیلانا
  • یا عوام میں خوف و ہراس پیدا کرنا

قابلِ سزا جرم ہے۔

مزید یہ کہ پھیلانے والا شخص بھی ذمہ دار ہوتا ہے چاہے اس نے ارادی طور پر نہ کیا ہو۔

سوشل میڈیا استعمال کرتے ہوئے احتیاط ضروری ہے

دنیا بھر میں سوشل میڈیا کو جعلی معلومات پھیلانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ ایسے میں ہر صارف کی ذمہ داری ہے کہ:

  • ہر خبر کی تصدیق کرے
  • سرکاری بیانات اور ویب سائٹس پر بھروسہ کرے
  • وائرل مواد کو سوچ سمجھ کر آگے بڑھائے

پی ٹی اے جعلی نوٹیفکیشن نے ثابت کیا کہ ایک جھوٹی خبر چند گھنٹوں میں لاکھوں لوگوں تک پہنچ سکتی ہے۔

میٹا مشترکہ سپورٹ ہب متعارف فیس بک اور انسٹاگرام صارفین کیلئے بڑی سہولت

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]