وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا بیان: فیض حمید سزا ادارے کا اندرونی معاملہ
خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سابق لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید سزا کے معاملے پر غیر ضروری سیاست نہیں کی جانی چاہیے۔ ان کے مطابق فیض حمید سزا ایک مکمل طور پر ’’ادارے کا اندرونی معاملہ‘‘ ہے اور اس پر صرف متعلقہ حکام بات کر سکتے ہیں۔ وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ ایسے معاملات پر غیر ضروری بیانات یا قیاس آرائیاں کسی طور ملک کے مفاد میں نہیں ہوتیں۔

اس موقع پر وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے ملکی سیاسی حالات، بانی پی ٹی آئی سے ہونے والی ملاقات اور اداروں کے کردار کے حوالے سے بھی تفصیلی گفتگو کی۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں سیاسی استحکام، آئین کی بالادستی اور مذاکرات کا ماحول انتہائی ضروری ہے۔
سیاسی صورتحال اور ملاقات کا پس منظر
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا اڈیالہ جیل بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے لیے پہنچے تھے۔ میڈیا سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بانی PTI ہمیشہ پاکستان اور ریاستی اداروں کی مضبوطی کی بات کرتے ہیں۔ ان کے مطابق سیاسی ڈائیلاگ ہی آگے بڑھنے کا واحد راستہ ہے۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے مذاکرات کا اختیار محمود اچکزئی اور راجہ ناصر عباس کو دیا ہے، اور وہ ان دونوں رہنماؤں کے فیصلوں کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔
فیض حمید سزا—ادارے کا معاملہ کیوں؟
صحافیوں کے سوال پر وزیراعلیٰ نے کہا کہ فیض حمید سزا ایک ایسا معاملہ ہے جس پر پبلک ڈبیٹ مناسب نہیں۔ ان کے مطابق جو بھی اقدامات کیے گئے وہ ادارہ جاتی طریقہ کار کے مطابق ہوئے۔ اس لیے اسے سیاسی رنگ دینا یا اسے عوامی بحث کا حصہ بنانا درست رویہ نہیں۔
انہوں نے کہا کہ ادارے اپنے قوانین، نظم و ضبط، ڈسپلن اور تحقیقات کے مطابق فیصلے کرتے ہیں، اس لیے فیض حمید سزا کو بنیاد بنا کر اداروں کو متنازع بنانا ملک کے لیے نقصان دہ ہوگا۔
عدالتی معاملات پر وزیراعلیٰ کے تحفظات
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا کہ عدالتی احکامات کے باوجود ایک وزیراعلیٰ کو ملاقات نہ کرنے دینا قابلِ افسوس ہے۔ انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی بہنوں کے ساتھ پیش آنے والا معاملہ بھی انتہائی نامناسب تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ سیاسی اختلاف اپنی جگہ، لیکن انسانی اور قانونی حقوق ہر شہری کو دیے جانے چاہئیں۔
ملکی حالات، نوجوانوں کی مایوسی اور ہجرت
سہیل آفریدی نے کہا:
آج کا نوجوان پاکستان چھوڑنے پر مجبور ہو رہا ہے، یہ سب ناکام پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ ساڑھے تین سال سے ہونے والے تجربات نے ملک کو بحرانوں میں دھکیل دیا ہے اور اب وقت آگیا ہے کہ حقیقت پسندانہ فیصلے کیے جائیں۔
فیض حمید سزا اور سیاسی بیانیہ
بعض حلقوں میں فیض حمید سزا کو سیاسی زاویوں سے دیکھا جا رہا ہے، لیکن وزیراعلیٰ نے ایک بار پھر واضح کیا کہ یہ معاملہ میڈیا یا سیاسی فورمز پر زیر بحث نہیں آنا چاہیے۔
انہوں نے کہا:
ادارے اپنی داخلی کارروائیوں کے مطابق فیصلے کرتے ہیں۔ ہمیں اس میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے۔
یہ ان کا تیسرا موقع تھا جب گفتگو کے دوران انہوں نے فیض حمید سزا کو ’’اندرونی‘‘ معاملہ قرار دیا۔
ڈائیلاگ کی ضرورت اور سیاسی مستقبل
وزیراعلیٰ نے کہا کہ اگر ملک نے آگے بڑھنا ہے تو اداروں، سیاسی جماعتوں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کو مذاکرات کی میز پر بیٹھنا ہوگا۔ انہوں نے ملک میں آزاد عدلیہ، مضبوط جمہوریت اور شفاف نظام کو مستقبل کے لیے ضروری قرار دیا۔
ان کے مطابق 9 اپریل 2022 سے سیاسی ماحول شدید تقسیم کا شکار ہوا ہے جبکہ عوام حقیقی جمہوریت کی بحالی چاہتے ہیں۔
فیض حمید کورٹ مارشل فیصلہ 14 سال قید بامشقت کی سزا سنائی گئی
گزشتہ ہفتوں میں فیض حمید سزا میڈیا میں نمایاں موضوع بنی رہی۔ تاہم وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے بیان سے واضح سمت ملتی ہے کہ حکومت اس معاملے کو سیاسی تنازع نہیں بنانا چاہتی۔ انہوں نے کہا:
ادارے ملک کے ستون ہیں، انہیں متنازع بنانا کسی جماعت کے حق میں نہیں۔
One Response