دریائے یانگسی 10 سالہ ماہی گیری پابندی — چین کے شاندار نتائج سامنے آگئے

چین میں دریائے یانگسی کی آبی حیات کی بحالی، 10 سالہ ماہی گیری پابندی کے نتائج
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

چین کی 10 سالہ ماہی گیری پابندی کے شاندار نتائج—دریائے یانگسی میں آبی حیات کی بحالی میں نمایاں پیشرفت

بیجنگ (شِنہوا) — چین نے دریائے یانگسی میں ماہی گیری پر دس سالہ پابندی سے متعلق پالیسی پر عملدرآمد کے سلسلے میں اہم اور قابلِ ذکر نتائج حاصل کر لیے ہیں۔ چینی وزارت زراعت و دیہی امور کے مطابق اس پابندی نے جہاں آبی حیات کے تحفظ کو نئی زندگی دی ہے، وہیں سابقہ ماہی گیروں کی بحالی اور ماحول دوست اقدامات میں بھی نمایاں کامیابیاں سامنے آئی ہیں۔

وزارت کے مطابق پابندی کے نفاذ کے بعد حکومت نے متعلقہ محکموں کے ساتھ مل کر سابقہ ماہی گیروں کے لیے روزگار کی فراہمی، مالی مدد، اور سماجی تحفظ جیسے اقدامات کیے۔ ستمبر 2025 کے اختتام تک وہ تمام 1 لاکھ 42 ہزار سابقہ ماہی گیر جن میں کام کرنے کی صلاحیت اور ارادہ موجود تھا، انہیں باعزت طریقے سے دوبارہ روزگار فراہم کیا گیا۔ اس کے علاوہ 2 لاکھ 20 ہزار اہل ماہی گیروں کو سرکاری امدادی بیمہ سکیموں میں شامل کیا گیا۔

ادھر ماحولیاتی ماہرین کے مطابق آبی حیات کے تنوع میں واضح بہتری دیکھنے میں آئی ہے۔ سال 2025 میں 9 لاکھ 70 ہزار سے زائد چینی سٹرجن مچھلیوں کو پانی میں چھوڑا گیا، جن میں سے 60 فیصد مچھلیاں دریائے یانگسی کے دہانے کے ذریعے سمندر میں داخل ہو چکی ہیں۔ یہ پیشرفت آبی حیات کی بحالی کے لیے انتہائی مثبت سمجھی جا رہی ہے۔

چین نے جنوری 2020 میں یانگسی طاس کے 332 محفوظ علاقوں میں ماہی گیری پر مکمل پابندی عائد کی تھی۔ بعد ازاں اس پابندی کو دریا کے مرکزی دھارے اور معاون دریاؤں تک توسیع دیتے ہوئے دس سالہ عارضی پابندی نافذ کی گئی، جو یکم جنوری 2021 سے لاگو ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ تاریخی اقدام نہ صرف دریا کی ماحولیاتی صحت کو بہتر بنا رہا ہے بلکہ چین کو پائیدار ماحولیاتی ترقی کے عالمی ماڈل کے طور پر بھی پیش کر رہا ہے۔

چین کا 5 سالہ منصوبہ—پرچون شعبے میں اختراعی ترقی
چینی وزارت تجارت کی پریس بریفنگ میں پرچون شعبے کی اختراعی ترقی کا اعلان
بریگیڈیئر راشد نصیر سے یوٹیوبرعادل راجہ کی باقاعدہ معافی
[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]