اسلام آباد: چیئرمین نیشنل انڈسٹریل ریلیشنز کمیشن شوکت عزیز صدیقی کا استعفیٰ
نیشنل انڈسٹریل ریلیشنز کمیشن (این آئی آر سی) کے چیئرمین اور اسلام آباد ہائیکورٹ کے سابق جج، جسٹس (ر) شوکت عزیز صدیقی نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ ان کا استعفیٰ ذاتی وجوہات کی بنیاد پر پیش کیا گیا، جس کے بعد یہ اہم آئینی و انتظامی عہدہ فی الحال خالی ہو گیا ہے۔ جسٹس (ر) شوکت عزیز صدیقی کے استعفے نے قانونی، عدالتی اور صنعتی حلقوں میں خاصی توجہ حاصل کی ہے، کیونکہ وہ ایک نمایاں اور متنازع مگر بااثر عدالتی شخصیت کے طور پر جانے جاتے ہیں۔
ذرائع کے مطابق جسٹس (ر) شوکت عزیز صدیقی نے صدرِ مملکت کو باقاعدہ طور پر استعفیٰ ارسال کر دیا ہے۔ یہ استعفیٰ سیکرٹری وزارتِ اوورسیز پاکستانیز کے ذریعے بھجوایا گیا، جس میں این آئی آر سی کے چیئرمین کے طور پر ان کے معاہدے کو ختم کرنے کا باضابطہ نوٹس شامل تھا۔ استعفیٰ منظور کیے جانے کے بعد نیشنل انڈسٹریل ریلیشنز کمیشن میں نئی تقرری تک انتظامی معاملات عبوری بنیادوں پر چلائے جانے کا امکان ہے۔
جسٹس (ر) شوکت عزیز صدیقی کا کہنا ہے کہ انہوں نے یہ فیصلہ مکمل غور و فکر کے بعد ذاتی وجوہات کی بنا پر کیا۔ اگرچہ انہوں نے استعفیٰ کی وجوہات کی تفصیل عوامی سطح پر بیان نہیں کی، تاہم قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ ذاتی اور نجی مصروفیات کے باعث وہ اس ذمہ داری کو مزید جاری رکھنے کے قابل نہیں تھے۔ ان کے مطابق یہ فیصلہ کسی دباؤ، تنازع یا حکومتی اختلاف کا نتیجہ نہیں بلکہ خالصتاً ذاتی نوعیت کا ہے۔
واضح رہے کہ نیشنل انڈسٹریل ریلیشنز کمیشن ملک کا ایک اہم آئینی ادارہ ہے، جو صنعتی تنازعات، مزدوروں اور آجرین کے درمیان اختلافات، ٹریڈ یونینز کے معاملات اور اجتماعی سودے بازی جیسے حساس امور کی نگرانی کرتا ہے۔ اس ادارے کے چیئرمین کا کردار نہایت اہم سمجھا جاتا ہے کیونکہ اس کے فیصلے ملک بھر میں صنعتی امن اور مزدور حقوق پر گہرے اثرات مرتب کرتے ہیں۔
جسٹس (ر) شوکت عزیز صدیقی کو ان کی عدالتی خدمات اور قانونی پس منظر کی بنیاد پر این آئی آر سی کا چیئرمین مقرر کیا گیا تھا۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج کی حیثیت سے وہ متعدد اہم اور تاریخی مقدمات کی سماعت کر چکے ہیں۔ ان کا شمار ان جج صاحبان میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنے دور میں جرات مندانہ فیصلوں اور کھلے مؤقف کی وجہ سے خاصی شہرت حاصل کی۔ اگرچہ ان کا عدالتی کیریئر بعض تنازعات سے بھی جڑا رہا، تاہم ان کی قانونی مہارت اور آئینی امور پر گہری نظر سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔
این آئی آر سی میں بطور چیئرمین ان کی تعیناتی کے بعد توقع کی جا رہی تھی کہ ادارے کی کارکردگی میں بہتری آئے گی اور صنعتی تنازعات کے حل میں تیزی پیدا ہو گی۔ ان کے دور میں کئی اہم مقدمات کی سماعت ہوئی اور بعض دیرینہ تنازعات کے حل کے لیے عملی اقدامات بھی کیے گئے۔ تاہم ان کے اچانک استعفے کے بعد ان اصلاحاتی اقدامات کا تسلسل برقرار رکھنا ایک چیلنج بن سکتا ہے۔
قانونی ماہرین کے مطابق چیئرمین این آئی آر سی کا استعفیٰ ایک اہم پیش رفت ہے اور حکومت کو جلد از جلد اس عہدے پر کسی اہل، تجربہ کار اور غیر جانبدار شخصیت کی تقرری کرنی ہو گی۔ ان کا کہنا ہے کہ این آئی آر سی جیسے ادارے میں قیادت کا خلا صنعتی شعبے میں بے یقینی پیدا کر سکتا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ملک کو معاشی اور صنعتی چیلنجز کا سامنا ہے۔
دوسری جانب مزدور تنظیموں اور ٹریڈ یونینز کی جانب سے بھی اس استعفے پر محتاط ردعمل سامنے آیا ہے۔ بعض رہنماؤں کا کہنا ہے کہ جسٹس (ر) شوکت عزیز صدیقی کے دور میں ادارے نے نسبتاً فعال کردار ادا کیا، اور امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ آنے والی قیادت بھی مزدوروں کے حقوق کے تحفظ کو ترجیح دے گی۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ نئے چیئرمین کی تقرری میں شفافیت اور میرٹ کو یقینی بنایا جائے۔
اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ حکومت اس اہم عہدے کے لیے کس شخصیت کا انتخاب کرتی ہے اور آیا این آئی آر سی اپنے کردار کو اسی مؤثر انداز میں جاری رکھ پاتا ہے یا نہیں۔ جسٹس (ر) شوکت عزیز صدیقی کے استعفے نے ایک بار پھر یہ سوال اٹھا دیا ہے کہ ریاستی اداروں میں تسلسل اور استحکام کس حد تک ضروری ہے، خصوصاً ان اداروں میں جو براہِ راست عوام اور مزدور طبقے کے حقوق سے جڑے ہوں۔
مختصراً، جسٹس (ر) شوکت عزیز صدیقی کا بطور چیئرمین نیشنل انڈسٹریل ریلیشنز کمیشن استعفیٰ ایک اہم قومی خبر ہے، جس کے اثرات نہ صرف قانونی حلقوں بلکہ صنعتی اور مزدور شعبے پر بھی مرتب ہوں گے۔ آنے والے دنوں میں اس فیصلے کے عملی نتائج اور نئی تقرری کے حوالے سے صورتحال مزید واضح ہو جائے گی۔

