بھارت کی دھرندھر کا ردعمل سندھ حکومت کی حمایت یافتہ فلم میرا لیاری عالمی ریلیز کے لیے تیار

فلم میرا لیاری کے پوسٹر کا منظر جس میں کراچی کے لیاری کے ثقافتی اور مثبت پہلوؤں کی عکاسی کی گئی ہے۔
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

لیاری کی ثقافت کا حقیقی عکاس: بھارتی پروپیگنڈے کے جواب میں فلم میرا لیاری کی تیاری اور ریلیز

بھارت کی جانب سے جاری کردہ فلم ‘دھرندھر’ کے ذریعے پاکستان اور خاص طور پر کراچی کے تاریخی علاقے لیاری کے خلاف کیے جانے والے منفی پروپیگنڈے کا بھرپور جواب دینے کے لیے، پاکستان میں ایک جوابی فلم ‘میرا لیاری’ تیار کر لی گئی ہے۔ یہ فلم نہ صرف لیاری کی اصل شناخت کو دنیا کے سامنے پیش کرے گی بلکہ بھارتی بیانیے کی تردید بھی کرے گی۔ اس اہم منصوبے میں سندھ حکومت نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور فلم میرا لیاری کی تیاری میں بھرپور معاونت فراہم کی ہے۔ یہ پاکستانی جوابی کاوش اب تکمیل کے آخری مراحل میں ہے اور اسے جنوری کے پہلے ہفتے میں بڑے پیمانے پر ریلیز کر دیا جائے گا۔

فلم میرا لیاری کا مقصد اور عالمی ریلیز

صوبائی وزیر شرجیل میمن نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ فلم میرا لیاری کو صرف مقامی سطح پر نہیں بلکہ بین الاقوامی طور پر بھی ریلیز کیا جائے گا۔ انہوں نے بھارتی فلم انڈسٹری پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جنگ کے میدان میں بھارت کو پاکستان کے ہاتھوں عبرت ناک شکست کا سامنا کرنا پڑا، اور وہ فلموں کے ذریعے اس تاریخی ہار کو جیت میں تبدیل نہیں کر سکتا۔ یہ بیان واضح کرتا ہے کہ فلم میرا لیاری صرف ایک آرٹ کی شکل نہیں بلکہ ایک ثقافتی اور قومی ردعمل بھی ہے۔

شرجیل میمن کے مطابق، بھارتی فلم ‘دھرندھر’ ایک مکمل پروپیگنڈا فلم ہے جو پاکستان، خاص طور پر لیاری کے خلاف غلط اور منفی تاثر پیدا کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ انہوں نے لیاری کی اصل شناخت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ "لیاری تشدد اور جرائم کا مرکز نہیں، بلکہ یہ ثقافت، امن، بے پناہ صلاحیت اور بلند حوصلے کی علامت ہے۔” یہ پیغام ہی فلم میرا لیاری کا بنیادی تھیم ہے۔

لیاری کا حقیقی چہرہ: امن، خوشحالی اور فخر

صوبائی وزیر نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اگلے مہینے ریلیز ہونے والی فلم میرا لیاری لیاری کا حقیقی، مثبت اور روشن چہرہ دکھائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس فلم میں لیاری کے امن، خوشحالی، ثقافتی رنگوں اور یہاں کے باسیوں کے فخر کی جھلک نظر آئے گی۔ لیاری، جو کہ کھیلوں، خاص طور پر باکسنگ اور فٹ بال، کے حوالے سے عالمی شہرت رکھتا ہے، اس فلم کے ذریعے اپنی ان تمام مثبت خصوصیات کو عالمی سامعین تک پہنچائے گا۔ فلم میرا لیاری کی ریلیز سے قبل ہی پاکستانی عوام میں کافی جوش و خروش پایا جاتا ہے۔

یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ لیاری کی سماجی اور ثقافتی زندگی کو درپیش چیلنجز کے باوجود، یہاں کے لوگوں نے ہمیشہ اپنی روایات، فنون اور کھیلوں کے شعبے میں غیر معمولی کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ فلم میرا لیاری اسی حقیقت کو پردے پر لانے کا ایک مضبوط ذریعہ بنے گی۔

بھارتی پروپیگنڈا فلم ‘دھرندھر’ کا پس منظر

دوسری جانب، بھارتی فلم ‘دھرندھر’ گزشتہ دنوں جاری کی گئی تھی اور اس نے مبینہ طور پر پاکستان کے بعض علاقوں کے بارے میں منفی اور گمراہ کن بیانیہ پیش کیا ہے۔ اس فلم میں رنویر سنگھ، اکشے کھنہ، آر مدھون، ارجن رام پال، سنجے دت سمیت بالی ووڈ کے کئی بڑے اداکاروں نے مرکزی کردار ادا کیے تھے۔ پروپیگنڈا فلموں کے ذریعے ایک ملک کو بدنام کرنے کی کوششیں بین الاقوامی تعلقات میں کشیدگی پیدا کرتی ہیں، اور پاکستان کا یہ ثقافتی ردعمل اسی کا نتیجہ ہے۔

شرجیل میمن کا یہ موقف کہ بھارتی فلموں کے ذریعے ہار کو جیت میں نہیں بدلا جا سکتا، دراصل پاکستان کے ثقافتی حلقوں کے جذبات کی عکاسی کرتا ہے۔ فلم میرا لیاری اسی جذبے کے ساتھ تیار کی گئی ہے کہ وہ جھوٹے بیانیوں کا مقابلہ سچائی اور ثقافت کی طاقت سے کرے گی۔

بین الاقوامی سطح پر ثقافتی جنگ

فلم میرا لیاری کی بین الاقوامی ریلیز کا فیصلہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ ثقافتی پروپیگنڈا کا جواب آرٹ اور ثقافت کے ذریعے دینا ایک مؤثر حکمت عملی ہے۔ یہ فلم صرف لیاری کی کہانی نہیں سنائے گی بلکہ دنیا کو یہ بتائے گی کہ پاکستانی معاشرہ کس طرح مشکل حالات کے باوجود امن اور خوشحالی کی جستجو میں ہے۔ سندھ حکومت کی حمایت اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ فلم میرا لیاری اعلیٰ معیار کی ہو اور وسیع سامعین تک پہنچے۔

بالی وڈ کی تاریخی فلم تھری ایڈیٹس 2 بنانے کی تیاریاں، سیکوئل میں کیا ہوگا؟

یہ ثقافتی جوابی حملہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ پاکستان اپنے قومی وقار اور مقامی شناخت کو بدنام کرنے کی کوششوں کو خاموشی سے برداشت نہیں کرے گا۔ فلم انڈسٹری، جو کسی بھی ملک کے سافٹ پاور کا ایک اہم حصہ ہوتی ہے، اب فلم میرا لیاری کے ذریعے ملک کا مثبت تاثر پیش کرنے کے لیے میدان میں آ چکی ہے۔

امید ہے کہ فلم میرا لیاری اپنی ریلیز کے بعد لیاری کے بارے میں موجود منفی تاثرات کو دور کرنے اور اس علاقے کے باصلاحیت اور محنتی لوگوں کی تصویر کشی میں کامیاب ہو گی۔ یہ ثقافتی مقابلہ دونوں ممالک کے درمیان ایک نئی طرز کی "آرٹ جنگ” کا آغاز ہو سکتا ہے۔

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]