جسٹس طارق جہانگیری کا ڈگری تنازع کیس وفاقی آئینی عدالت میں چیلنج

جسٹس طارق جہانگیری اسلام آباد ہائیکورٹ
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

جسٹس طارق جہانگیری نے ڈگری تنازع کیس میں اسلام آباد ہائیکورٹ کی کارروائی وفاقی آئینی عدالت میں چیلنج کر دی

اسلام آباد ہائیکورٹ کے معزز جج جسٹس طارق جہانگیری نے اپنے خلاف زیرِ سماعت ڈگری تنازع کیس میں ایک اہم آئینی قدم اٹھاتے ہوئے اسلام آباد ہائیکورٹ کی کارروائی کو وفاقی آئینی عدالت میں چیلنج کر دیا ہے۔ اس اقدام کو عدالتی حلقوں میں غیر معمولی اہمیت حاصل ہو گئی ہے کیونکہ یہ معاملہ نہ صرف ایک حاضر سروس جج کی تعلیمی اسناد سے متعلق ہے بلکہ عدالتی دائرہ اختیار اور آئینی تشریح کے پہلوؤں کو بھی اجاگر کرتا ہے۔

جسٹس طارق جہانگیری نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے 9 دسمبر کو جاری ہونے والے دو رکنی بینچ کے حکمنامے کے خلاف وفاقی آئینی عدالت میں اپیل دائر کی ہے۔ مذکورہ بینچ نے اپنے فیصلے میں قرار دیا تھا کہ جسٹس طارق جہانگیری کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر کی گئی درخواست قابلِ سماعت نہیں ہے۔ تاہم، جسٹس جہانگیری نے اس فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ ان کے خلاف دائر رٹ پٹیشن کو قانون اور آئین کے مطابق خارج کیا جانا چاہیے۔

وفاقی آئینی عدالت میں دائر درخواست میں جسٹس طارق جہانگیری کا کہنا ہے کہ ان کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر کی گئی رٹ درخواست بدنیتی پر مبنی ہے اور اس کا مقصد ان کی ساکھ کو نقصان پہنچانا ہے۔ درخواست میں یہ بھی مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ایک حاضر سروس جج کے خلاف اس نوعیت کی درخواست نہ صرف عدالتی روایات کے منافی ہے بلکہ آئینی اصولوں سے بھی متصادم ہے۔

جسٹس طارق جہانگیری کا کہنا ہے کہ ان کی تعلیمی ڈگری بالکل درست اور مستند ہے اور وہ اس حوالے سے پہلے ہی وضاحت دے چکے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان پر لگائے گئے الزامات بے بنیاد ہیں اور ان کے خلاف عدالتی کارروائی کا کوئی جواز نہیں بنتا۔ اسی تناظر میں انہوں نے وفاقی آئینی عدالت سے استدعا کی ہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں ان کے خلاف دائر تمام درخواستوں کو خارج کیا جائے۔

اس معاملے نے اس وقت مزید توجہ حاصل کی جب جسٹس طارق جہانگیری نے ایک سماعت کے دوران چیف جسٹس کے بینچ میں بیٹھنے پر اعتراض بھی اٹھایا اور یہاں تک کہا کہ وہ قرآن پاک پر ہاتھ رکھ کر یہ کہنے کو تیار ہیں کہ ان کی ڈگری اصلی ہے۔ ان کے اس بیان کو میڈیا اور سوشل میڈیا پر بھی خاصی توجہ ملی، جس کے بعد یہ معاملہ مزید زیرِ بحث آ گیا۔

دوسری جانب، جسٹس طارق جہانگیری نے اسلام آباد ہائیکورٹ کی کارروائی کو چیلنج کرنے کے لیے ایک مضبوط قانونی ٹیم بھی تشکیل دے دی ہے۔ اس قانونی ٹیم میں تین سینئر وکلا شامل ہیں جو مختلف فورمز پر ان کی نمائندگی کریں گے۔ معروف قانون دان اکرم شیخ اور بیرسٹر صلاح الدین اسلام آباد ہائیکورٹ میں جسٹس طارق جہانگیری کی جانب سے کیس کی پیروی کریں گے، جبکہ عزیر بھنڈاری وفاقی آئینی عدالت میں ان کا مقدمہ پیش کریں گے۔

قانونی ماہرین کے مطابق، اس کیس میں کئی اہم آئینی سوالات زیرِ غور آئیں گے، جن میں یہ بھی شامل ہے کہ کسی حاضر سروس جج کے خلاف تعلیمی اسناد کے حوالے سے درخواست کس حد تک قابلِ سماعت ہو سکتی ہے اور اس کا دائرہ اختیار کس عدالت تک محدود ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کیس کا فیصلہ مستقبل میں عدالتی نظائر پر گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے۔

مزید برآں، جسٹس طارق جہانگیری کی جانب سے اسلام آباد ہائیکورٹ میں بھی ڈگری تنازع کیس کے خلاف مزید درخواستیں دائر کیے جانے کا امکان ہے۔ ذرائع کے مطابق، ان درخواستوں میں بھی یہی مؤقف اپنایا جائے گا کہ ان کے خلاف دائر کی گئی تمام کارروائیاں بدنیتی اور ذاتی عناد پر مبنی ہیں اور ان کا مقصد انہیں بدنام کرنا ہے۔

یہ کیس ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عدلیہ پہلے ہی مختلف چیلنجز کا سامنا کر رہی ہے۔ اس لیے اس معاملے کی شفاف اور آئینی بنیادوں پر سماعت کو نہایت اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ عوامی اور قانونی حلقے اس کیس کے نتائج پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں کیونکہ یہ فیصلہ نہ صرف جسٹس طارق جہانگیری کے مستقبل بلکہ عدالتی نظام کے وقار سے بھی جڑا ہوا ہے۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ وفاقی آئینی عدالت اس اپیل پر کیا فیصلہ دیتی ہے اور آیا اسلام آباد ہائیکورٹ کی سابقہ کارروائی برقرار رہتی ہے یا اسے کالعدم قرار دیا جاتا ہے۔ بہرحال، یہ مقدمہ پاکستان کی عدالتی تاریخ میں ایک اہم آئینی اور قانونی بحث کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔

جسٹس طارق جہانگیری ڈگری کیس کی سماعت اسلام آباد ہائیکورٹ میں
اسلام آباد ہائیکورٹ میں جسٹس طارق جہانگیری ڈگری تنازع کیس کی سماعت
جامعہ کراچی نے جسٹس طارق محمود جہانگیری کی ایل ایل بی ڈگری منسوخ کر دی
جامعہ کراچی ڈگری منسوخی کے تحت جسٹس طارق محمود جہانگیری کی ڈگری کالعدم، 3 سال کی پابندی عائد۔
[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]