سانحہ نو مئی لاہور حملہ کیس: ڈاکٹر یاسمین راشد سمیت رہنماؤں کو 10،10 سال قید، شاہ محمود قریشی بری
سانحہ 9 مئی سے متعلق لاہور کے کلب چوک، جی او آر گیٹ پر حملے کے مقدمے کا فیصلہ سنا دیا گیا ہے۔ انسدادِ دہشت گردی عدالت نے اہم فیصلہ سناتے ہوئے پاکستان تحریکِ انصاف کی سینئر رہنما ڈاکٹر یاسمین راشد، اعجاز چوہدری اور عمر سرفراز چیمہ کو دس، دس سال قید کی سزا سنا دی، جبکہ سابق وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی کو مقدمے سے بری کر دیا گیا۔
تفصیلات کے مطابق انسداد دہشت گردی عدالت کے ایڈمن جج منظر علی گل نے یہ فیصلہ کوٹ لکھپت جیل میں قائم عدالت میں سنایا۔ فیصلہ سنائے جانے کے موقع پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے، جبکہ ملزمان اور ان کے وکلاء بھی عدالت میں موجود تھے۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ استغاثہ بعض ملزمان کے خلاف الزامات ثابت کرنے میں کامیاب رہا، جس کی بنیاد پر ڈاکٹر یاسمین راشد، اعجاز چوہدری اور عمر سرفراز چیمہ کو دس، دس سال قید کی سزا سنائی گئی۔ عدالت نے سزا کے ساتھ ساتھ ہر ملزم پر پانچ، پانچ لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا ہے۔ جرمانہ ادا نہ کرنے کی صورت میں ملزمان کو مزید ایک سال قید کی سزا بھگتنا ہو گی۔ اس کے علاوہ عدالت نے سزا یافتہ ملزمان کی جائیدادیں ضبط کرنے کا بھی حکم دیا ہے۔
عدالت نے شواہد کی بنیاد پر فیصلہ دیتے ہوئے شاہ محمود قریشی کو مقدمے سے بری کر دیا۔ عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ استغاثہ شاہ محمود قریشی کے خلاف الزامات ثابت کرنے میں ناکام رہا، جس کے باعث انہیں شک کا فائدہ دیتے ہوئے بری کیا جاتا ہے۔
استغاثہ کے مطابق اس مقدمے میں مجموعی طور پر 56 گواہان پیش کیے گئے، جنہوں نے سانحہ 9 مئی کے روز کلب چوک اور جی او آر گیٹ پر ہونے والے حملے سے متعلق بیانات ریکارڈ کرائے۔ مقدمے میں ملزمان پر الزام تھا کہ انہوں نے ایک منظم ہجوم کے ساتھ مل کر کلب چوک میں توڑ پھوڑ کی، سکیورٹی کیمروں کو نقصان پہنچایا اور جی او آر گیٹ پر حملہ کیا۔
پولیس کے مطابق تھانہ ریس کورس نے اس مقدمے میں مجموعی طور پر 25 ملزمان کے خلاف چالان عدالت میں جمع کرایا تھا۔ دورانِ سماعت چار ملزمان سزا کے خوف سے روپوش ہو گئے، جنہیں بعد ازاں عدالت نے اشتہاری قرار دے دیا۔ اشتہاری قرار دیے گئے ملزمان میں حبیب احمد، فاروق انجم، ارسلان اور اکبر خان شامل ہیں۔
استغاثہ نے مؤقف اختیار کیا کہ حماد اظہر کی قیادت میں ایک ہجوم نے کلب چوک پر ہنگامہ آرائی کی، سرکاری و نجی املاک کو نقصان پہنچایا اور جی او آر گیٹ پر حملہ کیا۔ پراسیکیوٹر کے مطابق پی ٹی آئی کے بعض رہنماؤں نے کارکنان کو بغاوت، تشدد اور فسادات پر اکسایا اور 9 مئی کے واقعات ایک منظم سازش اور منصوبہ بندی کے تحت کیے گئے۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ریاستی تنصیبات پر حملے اور تشدد کے واقعات ناقابلِ برداشت ہیں اور ایسے جرائم میں ملوث عناصر کے ساتھ کوئی رعایت نہیں برتی جا سکتی۔ عدالت کے مطابق قانون کی بالادستی اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے سخت فیصلے ناگزیر ہیں۔
فیصلہ سنائے جانے کے بعد کوٹ لکھپت جیل کے اطراف سکیورٹی مزید سخت کر دی گئی، جبکہ مختلف سیاسی حلقوں میں فیصلے پر ردِعمل بھی سامنے آنا شروع ہو گیا ہے۔ قانونی ماہرین کے مطابق اس فیصلے کے خلاف سزا یافتہ ملزمان اعلیٰ عدالتوں سے رجوع کر سکتے ہیں، جہاں مقدمے کا دوبارہ قانونی جائزہ لیا جائے گا۔
واضح رہے کہ 9 مئی کے واقعات پاکستان کی حالیہ سیاسی تاریخ کے سنگین ترین واقعات میں شمار کیے جاتے ہیں، جن میں ملک کے مختلف شہروں میں سرکاری اور عسکری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ ان واقعات کے بعد متعدد مقدمات درج کیے گئے اور کئی سیاسی رہنماؤں اور کارکنان کو گرفتار کیا گیا۔


One Response