وفاقی حکومت نے نومبر میں 76 ہزار 752 میٹرک ٹن چینی درآمد کر لی، ادارہ شماریات
وفاقی حکومت نے نومبر کے مہینے میں مزید 76 ہزار 752 میٹرک ٹن چینی درآمد کر لی ہے، جس کے بعد رواں مالی سال کے ابتدائی پانچ ماہ کے دوران چینی کی مجموعی درآمدات میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
ادارہ شماریات کے مطابق مالی سال 2024-25 کے جولائی تا نومبر کے عرصے میں مجموعی طور پر 3 لاکھ 8 ہزار 142 میٹرک ٹن چینی درآمد کی جا چکی ہے۔ نومبر کے مہینے میں درآمد کی گئی 76 ہزار 752 میٹرک ٹن چینی پر 12 ارب 6 کروڑ 60 لاکھ روپے خرچ ہوئے، جو ملکی خزانے پر ایک بڑا بوجھ تصور کیا جا رہا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق رواں مالی سال کے پہلے پانچ ماہ میں مجموعی طور پر 49 ارب 4 کروڑ 20 لاکھ روپے مالیت کی چینی درآمد کی گئی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملک میں چینی کی طلب اور قیمتوں کو قابو میں رکھنے کے لیے حکومت کو بڑے پیمانے پر درآمدات کا سہارا لینا پڑا۔
واضح رہے کہ وفاقی کابینہ نے 4 جولائی کو مجموعی طور پر 5 لاکھ میٹرک ٹن چینی درآمد کرنے کی منظوری دی تھی، جس کا مقصد مقامی مارکیٹ میں چینی کی قلت کو ختم کرنا اور قیمتوں میں استحکام لانا تھا۔ حکومتی فیصلے کے تحت چینی سرکاری سطح پر ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان (ٹی سی پی) کے ذریعے درآمد کی جا رہی ہے۔
وفاقی حکومت نے چینی کی درآمد کو ممکن بنانے کے لیے اس پر عائد مختلف ٹیکسز اور ڈیوٹیز سے استثنیٰ بھی دیا، تاکہ درآمدی لاگت کم ہو اور اس کا فائدہ براہِ راست صارفین تک منتقل کیا جا سکے۔ تاہم اس کے باوجود ملک میں چینی کی قیمتیں مسلسل بلند سطح پر برقرار ہیں۔
ذرائع کے مطابق اس وقت ملک میں چینی کی زیادہ سے زیادہ قیمت 229 روپے فی کلو تک پہنچ چکی ہے، جس پر عوامی حلقوں میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ درآمدات کے باوجود قیمتوں میں خاطر خواہ کمی دیکھنے میں نہیں آ رہی۔
دوسری جانب پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن نے حکومتی فیصلے کی مخالفت کی تھی اور موقف اختیار کیا تھا کہ ملک میں چینی کے وافر ذخائر موجود ہیں، اس لیے درآمد کی ضرورت نہیں۔ شوگر ملز مالکان کا کہنا تھا کہ درآمدات سے مقامی صنعت کو نقصان پہنچے گا اور کسان بھی متاثر ہوں گے۔
ادھر بین الاقوامی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) نے اپنی ایک رپورٹ میں نشاندہی کی ہے کہ شوگر ملز مالکان اپنے مفادات کے لیے چینی کی برآمدات اور مقامی قیمتوں سے متعلق پالیسیوں پر اثر انداز ہوتے رہے ہیں، جس کے باعث مارکیٹ میں عدم توازن پیدا ہوا۔
ماہرین کے مطابق اگر مقامی سطح پر کرشنگ کا عمل بروقت اور شفاف انداز میں جاری رہا تو آئندہ مہینوں میں چینی کی قیمتوں میں کمی کا امکان پیدا ہو سکتا ہے۔ اس حوالے سے پنجاب کی تمام شوگر ملوں کی جانب سے کرشنگ سیزن کے آغاز کو ایک مثبت پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
مجموعی طور پر حکومت کی جانب سے چینی کی بڑے پیمانے پر درآمدات اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ قیمتوں پر قابو پانا ایک بڑا چیلنج بنا ہوا ہے، جبکہ آنے والے مہینوں میں چینی کی فراہمی اور نرخوں کے حوالے سے حکومتی حکمتِ عملی اہم ثابت ہوگی۔


One Response