پشاورمنشیات برآمدگی: محکمہ ایکسائز کا گودام پر چھاپہ، 100 کلو پاؤڈر ضبط

محکمہ ایکسائز پشاور کی گودام پر چھاپہ مار کارروائی، 100 کلو منشیات برآمد
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

خیبرپختونخوا میں پشاور منشیات برآمدگی کا بڑا آپریشن، انسانی جانوں سے کھیلنے والا گروہ بے نقاب

پشاورمنشیات برآمدگی

منشیات کے خلاف جنگ میں ایک بڑی کامیابی محکمہ ایکسائز، ٹیکسیشن و نارکوٹکس کنٹرول خیبرپختونخوا نے صوبائی دارالحکومت میں ایک انتہائی اہم اور بڑی کارروائی انجام دی ہے۔ حالیہ پشاورمنشیات برآمدگی کے دوران ٹیموں نے ایک خفیہ گودام سے بھاری مقدار میں ممنوعہ کیمیکل پاؤڈر برآمد کیا ہے جو انسانی صحت کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتا تھا۔

کارروائی کی تفصیلات اور ٹیم کی کارکردگی یہ آپریشن انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کیا گیا۔ ای ٹی او ماجد خان کی زیر نگرانی، ایس ایچ او ڈاکٹر حمید خان اور ایڈیشنل ایس ایچ او امجد پراچہ نے اپنی ٹیم کے ہمراہ پشاور ریجن کے ایک مخصوص علاقے میں واقع گودام پر چھاپہ مارا۔ اس پشاورمنشیات برآمدگی کے نتیجے میں 100 کلو گرام ایسا پاؤڈر برآمد ہوا جسے ہیروئن، آئس اور دیگر مہنگی منشیات کی مقدار بڑھانے اور ان میں ملاوٹ کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔

ملاوتی پاؤڈر کے خطرناک اثرات محکمہ ایکسائز کے حکام کے مطابق، یہ پاؤڈر نہ صرف منشیات کی تاثیر کو بدل دیتا ہے بلکہ یہ انسانی جسم کے اندرونی اعضاء کے لیے زہر قاتل کی حیثیت رکھتا ہے۔ پشاورمنشیات برآمدگی میں پکڑا گیا یہ مواد مارکیٹ میں سپلائی ہونا تھا، جس سے ہزاروں نوجوانوں کی زندگیاں داؤ پر لگ سکتی تھیں۔

ملزمان کے خلاف قانونی چارہ جوئی کارروائی کے دوران موقع سے شواہد اکٹھے کیے گئے اور دو اہم ملزمان کے خلاف تھانہ ایکسائز پشاور ریجن میں مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ پولیس اور محکمہ نارکوٹکس نے ملزمان سے تفتیش شروع کر دی ہے تاکہ اس نیٹ ورک کے پیچھے چھپے دیگر بڑے ناموں تک پہنچا جا سکے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پشاورمنشیات برآمدگی اس سال کی اہم ترین کارروائیوں میں سے ایک ہے۔

ڈیرہ اسماعیل خان انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن: 40 لاکھ کا انعامی دہشت گرد دلاور ہلاک

محکمہ ایکسائز کا عزم اور آئندہ کا لائحہ عمل محکمہ ایکسائز خیبرپختونخوا نے واضح کیا ہے کہ منشیات فروشوں اور ملاوٹ کرنے والے عناصر کے خلاف زیرو ٹالرنس کی پالیسی اپنائی گئی ہے۔ پشاورمنشیات برآمدگی کے بعد صوبے بھر میں نگرانی کا نظام مزید سخت کر دیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ عوامی صحت و سلامتی کا تحفظ ہماری اولین ترجیح ہے اور اس مقصد کے لیے کسی بھی دباؤ کو خاطر میں لائے بغیر کارروائیاں جاری رہیں گی۔

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]