انسٹا گرام کے سربراہ کو تشویش، انسٹا گرام پر اے آئی تصاویر کا مسئلہ سنگین ہوگیا

انسٹا گرام پر اے آئی تصاویر کا مسئلہ، ایڈم موسیری کا بیان
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

حقیقی اور جعلی میں فرق مشکل، انسٹا گرام پر اے آئی تصاویر کا مسئلہ بڑھ گیا

سوشل میڈیا کی دنیا تیزی سے بدل رہی ہے، اور اس تبدیلی کی سب سے بڑی وجہ آرٹیفیشل انٹیلی جنس ہے۔ جہاں اے آئی نے زندگی کے کئی شعبوں کو آسان بنایا ہے، وہیں اس نے کئی نئے سوالات اور خدشات کو بھی جنم دیا ہے۔ انہی خدشات میں سب سے نمایاں انسٹا گرام پر اے آئی تصاویر کا مسئلہ ہے، جس پر اب خود انسٹا گرام کے سربراہ ایڈم موسیری نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔

اے آئی تصاویر اور حقیقت کا دھندلا ہوتا فرق

ایڈم موسیری نے ایک انسٹا گرام پوسٹ میں اعتراف کیا کہ فوٹوگرافی میں اے آئی کے بڑھتے استعمال نے حقیقت اور فریب کے درمیان لکیر کو تقریباً مٹا دیا ہے۔ ان کے مطابق انسٹا گرام پر اے آئی تصاویر کا مسئلہ اس قدر سنگین ہو چکا ہے کہ عام صارف کے لیے یہ جاننا مشکل ہو گیا ہے کہ کون سی تصویر حقیقی ہے اور کون سی کمپیوٹر سے تیار کی گئی ہے۔

یہ بات صرف ٹیکنالوجی کا مسئلہ نہیں بلکہ انسانی نفسیات سے بھی جڑی ہوئی ہے، کیونکہ ہم فطری طور پر اپنی آنکھوں پر یقین کرتے ہیں۔

دنیا بدل رہی ہے، انسٹا گرام پیچھے رہ گیا؟

ایڈم موسیری کا کہنا تھا کہ انسٹا گرام کو اس وقت سب سے بڑا چیلنج یہی درپیش ہے کہ دنیا بہت تیزی سے بدل رہی ہے، مگر پلیٹ فارم اس رفتار سے خود کو ہم آہنگ نہیں کر سکا۔

انہوں نے تسلیم کیا کہ انسٹا گرام پر اے آئی تصاویر کا مسئلہ ایک ایسا خطرہ ہے جسے نظر انداز کرنا ممکن نہیں، کیونکہ یہ صارفین کے اعتماد کو براہ راست متاثر کرتا ہے۔

اے آئی تصاویر کیوں خطرناک بن رہی ہیں؟

وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اے آئی سے تیار کردہ تصاویر نہ صرف خوبصورت بلکہ حد درجہ حقیقت سے قریب ہوتی جا رہی ہیں۔ چہرے کے تاثرات، روشنی، سائے اور پس منظر سب کچھ اتنا قدرتی لگتا ہے کہ فرق کرنا تقریباً ناممکن ہو چکا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ انسٹا گرام پر اے آئی تصاویر کا مسئلہ اب صرف ٹیکنالوجی کا نہیں بلکہ سچ اور جھوٹ کے درمیان جنگ بن چکا ہے۔

انسانی آنکھ اور جینیاتی یقین

ایڈم موسیری نے ایک دلچسپ مگر فکر انگیز بات کی۔ ان کے مطابق ہم جینیاتی طور پر اس طرح بنے ہیں کہ جو کچھ آنکھوں سے دیکھتے ہیں، اس پر یقین کر لیتے ہیں۔ ایسے میں اگر تصویر جھوٹی ہو تو دماغ کو اسے تسلیم کرنے میں وقت لگتا ہے۔

اسی لیے انسٹا گرام پر اے آئی تصاویر کا مسئلہ حل کرنا آسان نہیں، بلکہ اس کے لیے برسوں کی تربیت اور شعور درکار ہوگا۔

’ریل میڈیا‘ لیبل: ممکنہ حل

انسٹا گرام کے سربراہ کے مطابق مستقبل میں اس مسئلے کا حل "Real Media” لیبل کی صورت میں سامنے آ سکتا ہے۔ اس لیبل کے ذریعے صارفین کو بتایا جائے گا کہ کون سا مواد حقیقی ہے اور کون سا اے آئی سے تیار کیا گیا ہے۔

یہ قدم انسٹا گرام پر اے آئی تصاویر کا مسئلہ کم کرنے میں ایک اہم پیش رفت ثابت ہو سکتا ہے۔

نئے ٹولز اور اصل مواد کی حوصلہ افزائی

ایڈم موسیری نے بتایا کہ انسٹا گرام ایسے ٹولز تیار کر رہا ہے جن کی مدد سے صارفین اے آئی مواد کا مقابلہ کر سکیں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ اصل اور حقیقی مواد کی رینکنگ کو بہتر بنایا جائے گا تاکہ تخلیق کاروں کی حوصلہ افزائی ہو۔

یہ اقدام انسٹا گرام پر اے آئی تصاویر کا مسئلہ کم کرنے کی عملی کوشش ہے۔

صارفین کی ذمہ داری بھی اہم

ماہرین کا کہنا ہے کہ صرف پلیٹ فارم نہیں بلکہ صارفین کو بھی ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ ہر تصویر کو سچ ماننے کے بجائے اس پر سوال اٹھانا، اس کے ماخذ کو دیکھنا اور شعور کے ساتھ استعمال کرنا وقت کی ضرورت بن چکا ہے۔

کیونکہ انسٹا گرام پر اے آئی تصاویر کا مسئلہ صرف ایک ایپ کا مسئلہ نہیں، بلکہ پوری ڈیجیٹل دنیا کا چیلنج ہے۔

مستقبل کی سوشل میڈیا دنیا

آنے والے وقت میں سوشل میڈیا شاید ویسا نہ رہے جیسا ہم آج جانتے ہیں۔ حقیقی اور مصنوعی مواد کی تمیز سیکھنا ایک نئی مہارت بن جائے گی۔

ایڈم موسیری کے الفاظ میں، انسٹا گرام پر اے آئی تصاویر کا مسئلہ ہمیں مجبور کر رہا ہے کہ ہم اپنی آنکھوں پر اندھا اعتماد کرنا چھوڑیں اور شعور کے ساتھ ڈیجیٹل دنیا میں قدم رکھیں۔

دنیا کا سب سے چھوٹا روبوٹ تیار، جو نمک کے دانے سے بھی چھوٹا ہے

اختتامیہ

یہ واضح ہو چکا ہے کہ اے آئی نے جہاں سہولت دی ہے وہیں ایک نیا بحران بھی پیدا کیا ہے۔ انسٹا گرام پر اے آئی تصاویر کا مسئلہ آنے والے برسوں میں سچ، اعتماد اور حقیقت کے مفہوم کو نئی شکل دے سکتا ہے۔

اب یہ دیکھنا ہوگا کہ انسٹا گرام اور دیگر پلیٹ فارمز اس چیلنج کا سامنا کیسے کرتے ہیں، اور کیا صارفین اس بدلتی دنیا کے لیے خود کو تیار کر پاتے ہیں یا نہیں۔

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]