لاہور بار ایسوسی ایشن کے انتخابات، بائیو میٹرک ووٹنگ، 8 نشستوں پر کانٹے دار مقابلہ
لاہور بار ایسوسی ایشن کے سالانہ انتخابات ایک بار پھر وکلاء برادری کی توجہ کا مرکز بن گئے ہیں، جہاں جمہوری عمل کو مزید شفاف، محفوظ اور جدید بنانے کے لیے اس سال بائیو میٹرک سسٹم کے ذریعے ووٹنگ کرائی جائے گی۔ یہ اقدام نہ صرف انتخابی عمل کی ساکھ کو مضبوط کرے گا بلکہ جعلی ووٹنگ اور بے ضابطگیوں کے امکانات کو بھی کم سے کم کر دے گا۔ لاہور بار کے یہ انتخابات وکلاء برادری کے لیے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں کیونکہ اسی پلیٹ فارم سے بار کی قیادت منتخب ہو کر آئندہ ایک سال کے لیے وکلاء کے مسائل، حقوق اور فلاح و بہبود کے لیے کردار ادا کرے گی۔
اس سال لاہور بار ایسوسی ایشن کے انتخابات میں مجموعی طور پر 8 نشستوں پر مقابلہ ہو رہا ہے، جن کے لیے 27 امیدوار میدان میں اتر چکے ہیں۔ انتخابی عمل میں لاہور بار کے 15,851 رجسٹرڈ ووٹرز اپنا حقِ رائے دہی استعمال کریں گے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ لاہور بار ملک کی سب سے بڑی اور متحرک بار ایسوسی ایشنز میں شمار ہوتی ہے۔ ووٹنگ کے عمل کو منظم اور سہل بنانے کے لیے 11 پولنگ بوتھ قائم کیے جائیں گے، جہاں بائیو میٹرک تصدیق کے بعد ووٹرز ووٹ کاسٹ کر سکیں گے۔
صدر کی نشست ہمیشہ سے لاہور بار کے انتخابات میں سب سے زیادہ توجہ کا مرکز رہی ہے، کیونکہ صدر ہی بار کی مجموعی پالیسی، حکمت عملی اور نمائندگی کا چہرہ ہوتا ہے۔ اس اہم نشست پر اس بار تین مضبوط امیدوار آمنے سامنے ہیں۔ ان میں ادیب اسلم بھنڈر، شاہد جمال بٹ اور عرفان حیات باجوہ شامل ہیں۔ تینوں امیدوار وکلاء برادری میں اپنے اپنے حلقوں میں اثر و رسوخ رکھتے ہیں اور انہوں نے انتخابی مہم کے دوران وکلاء کے مسائل کے حل، عدالتی اصلاحات اور بار کی خودمختاری جیسے موضوعات کو نمایاں طور پر اجاگر کیا ہے۔
نائب صدر کی مرکزی نشست پر بھی کانٹے دار مقابلے کی توقع کی جا رہی ہے۔ اس نشست پر چودھری ایم مشتاق، حافظ مشتاق نعیمی، شیخ کاشف علی، میاں طاہر منیر اور ہمایوں ظہیر بھٹی مدِ مقابل ہیں۔ پانچ امیدواروں کے درمیان یہ مقابلہ انتخابی عمل کو مزید دلچسپ بنا رہا ہے، کیونکہ ہر امیدوار مختلف پس منظر اور تجربے کے ساتھ وکلاء کا اعتماد حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
اسی طرح نائب صدر ماڈل ٹاؤن سیٹ پر بھی سہ فریقی مقابلہ دیکھنے کو ملے گا، جہاں آصف کنول خان، ایم نوید حنیف کمبوہ اور کاشف صدیق گجر ایک دوسرے کے مدمقابل ہیں۔ یہ سیٹ ماڈل ٹاؤن کے وکلاء کے مسائل اور نمائندگی کے حوالے سے خاص اہمیت رکھتی ہے، جس کے باعث یہاں بھی بھرپور انتخابی سرگرمیاں جاری ہیں۔
نائب صدر کینٹ سیٹ پر مقابلہ نسبتاً دو امیدواروں تک محدود ہے، جہاں زاہد محمود گل اور عمران اولکھ آمنے سامنے ہیں۔ دونوں امیدواروں کی جانب سے وکلاء کو سہولیات کی فراہمی، بار اور بنچ کے درمیان بہتر روابط اور نوجوان وکلاء کی فلاح جیسے وعدے کیے جا رہے ہیں۔
سیکرٹری کی نشست بھی لاہور بار کے نظام میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے، کیونکہ سیکرٹری انتظامی امور، اجلاسوں کے انعقاد اور بار کے روزمرہ معاملات کا نگران ہوتا ہے۔ اس نشست پر چودھری افنان منور، رضوان ارشد بوبک، شعیب اشرف بھٹی اور ملک فہد نثار کھوکھر کے درمیان سخت مقابلہ متوقع ہے۔ چاروں امیدوار انتظامی تجربہ اور متحرک کردار کے دعوے کے ساتھ میدان میں ہیں۔
جوائنٹ سیکرٹری کی نشست پر بھی دلچسپ مقابلہ دیکھنے کو مل رہا ہے، جہاں اسد عباس، ثمینہ بسرہ اور سلمان رحیم کھوکھر وکلاء کی حمایت حاصل کرنے کے لیے سرگرم ہیں۔ یہ نشست اگرچہ نسبتاً کم نمایاں سمجھی جاتی ہے، تاہم بار کے انتظامی ڈھانچے میں اس کی اہمیت کسی سے کم نہیں۔
فنانس سیکرٹری کی نشست پر زہیب خان اور یاسر نذیر پڈھیار مدمقابل ہیں۔ یہ عہدہ مالی نظم و ضبط، بار کے فنڈز کے شفاف استعمال اور فلاحی سرگرمیوں کے لیے نہایت اہم سمجھا جاتا ہے، اسی لیے اس نشست پر بھی وکلاء کی گہری نظر ہے۔
لائبریری سیکرٹری کی نشست پر سب سے زیادہ امیدوار میدان میں ہیں، جہاں ارشد چدھڑ، ایم فریاد چودھری، ثمینہ کھوکھر، طالب نقوی اور نعمان علی گورایا کے درمیان مقابلہ ہوگا۔ لائبریری سیکرٹری کا کردار وکلاء کو جدید قانونی مواد، کتب اور تحقیقی سہولیات فراہم کرنے میں کلیدی حیثیت رکھتا ہے، اسی لیے اس نشست پر مقابلہ غیر معمولی طور پر سخت ہے۔
البتہ آڈیٹر کی نشست پر صورتحال مختلف ہے، جہاں راحیلہ حفیظ رانا بلا مقابلہ منتخب ہو چکی ہیں۔ ان کی بلا مقابلہ کامیابی اس بات کی عکاس ہے کہ وکلاء برادری نے ان کی صلاحیتوں اور پیشہ ورانہ ساکھ پر بھرپور اعتماد کا اظہار کیا ہے۔
مجموعی طور پر لاہور بار ایسوسی ایشن کے یہ انتخابات نہ صرف وکلاء برادری کے لیے بلکہ قانونی نظام کے لیے بھی اہم سنگِ میل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ بائیو میٹرک ووٹنگ کا نفاذ، امیدواروں کی بڑی تعداد اور ووٹرز کی بھرپور شمولیت اس بات کا ثبوت ہے کہ وکلاء جمہوری اقدار پر یقین رکھتے ہیں اور اپنی قیادت کے انتخاب میں سنجیدہ کردار ادا کرنا چاہتے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ وکلاء کس امیدوار کو اپنی نمائندگی کا حق دیتے ہیں اور آنے والا سال لاہور بار کے لیے کن نئی تبدیلیوں اور اصلاحات کا پیامبر بنتا ہے۔


2 Responses